Preloader
LPG associations announce nationwide strike

اہم نکات:

  • ملک گیر ہڑتال کا انتباہ: کراچی میں ایل پی جی ایسوسی ایشنز نے حکومت کو 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے 16 نومبر 2026ء سے ملک بھر میں کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
  • قیمتوں میں زبردست اضافہ: ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت کے نئے قیمت سازی کے فارمولے سے گیس کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • مطالبات کی منظوری کا تقاضا: تنظیموں کا موقف ہے کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو ملک گیر سطح پر سپلائی مکمل طور پر معطل کر دی جائے گی۔
  • عوامی اور معاشی اثرات: اس ہڑتال اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمدورفت اور چھوٹے کاروباری طبقے شدید متاثر ہوں گے۔

پاکستان میں توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز کے دوران مایع پٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی صنعت سے وابستہ تاجروں نے حکومت کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کر لیا ہے۔ کراچی میں ایل پی جی ایسوسی ایشنز کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے 15 دنوں کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 16 نومبر سے ملک گیر سطح پر کامل ہڑتال کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں اس کا کاروبار مکمل طور پر بند رہے گا۔

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے متعارف کرایا گیا نیا قیمت سازی کا فارمولا اس انڈسٹری اور عوام دونوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اس نئے نظام پر عمل درآمد سے مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں فوراً 25 سے 30 فیصد تک بڑھ جائیں گی، جس کا تمام تر بوجھ غریب صارفین اور چھوٹے کاروباریوں پر پڑے گا۔

نئے فارمولے کے اہم نکات اور صنعتی تحفظات

حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں کی تعیناتی کے لیے ایک نیا معیار یا فارمولا تجویز کیا گیا ہے، جس پر ایل پی جی کی تقسیم کار اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو شدید تحفظات ہیں۔ صنعت سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیا نظام مقامی پیداوار اور درامدات کے درمیانی توازن کو بگاڑ دے گا۔

اس نئے فارمولے سے پیدا ہونے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • قیمتوں میں اضافہ: بنیادی قیمتوں کی بحالی اور نئے ٹیکسوں کی وجہ سے فی کلو گیس کی قیمت میں 25 سے 30 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔
  • سپلائی زنجیر میں رکاوٹ: مارکیٹرز کے مطابق نئے ضوابط سے مقامی پیداواری اداروں سے گیس کا حصول اور اس کی تقسیم انتہائی دشوار ہو جائے گی۔
  • صارفین پر اضافی بوجھ: عام گھریلو اور تجارتی صارفین کو فی سلنڈر سینکڑوں روپے اضافی ادا کرنے پڑیں گے۔

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس فیصلے کو نافذ کرنے سے پہلے متعلقہ تمام فریقین اور تاجر برادری سے مشاورت کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث یہ تنازع کھڑا ہوا ہے۔

ملک گیر ہڑتال کا طریقہ کار اور 15 دن کا الٹی میٹم

کراچی میں منعقدہ اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار داد کے مطابق، تاجروں اور مارکیٹنگ کمپنیوں نے باقاعدہ الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اہم خد و خال درج ذیل ہیں:

  1. حکومتی مہلت: حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی اور تاجروں کے مطالبات ماننے کے لیے 15 دن کی حتمی مہلت دی گئی ہے۔
  2. شٹ ڈاؤن کا منصوبہ: اگر مہلت کے دوران کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو 16 نومبر 2026ء سے تمام بڑے شہروں، بالخصوص کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن پوائنٹس بند کر دیے جائیں گے۔
  3. سپلائی لائن کی معطلی: ہڑتال کے دوران نہ صرف مقامی سپلائی بند رکھی جائے گی بلکہ درامد شدہ گیس کی منتقلی اور اس کی فروخت پر بھی مکمل پابندی رہے گی۔

صنعت کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم اٹھانا ان کی مجبوری بن چکا ہے کیونکہ نئے فارمولے کے ساتھ کاروبار جاری رکھنا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔

عوامی مسائل اور معاشی لہر کا پس منظر

پاکستان میں ایل پی جی صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ ان کروڑوں لوگوں کی زندگی کا بنیادی سہارا ہے جو قدرتی گیس کے نیٹ ورک سے محروم ہیں۔ ملک کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں جہاں سوئی گیس کی سہولت موجود نہیں، وہاں ایل پی جی ہی کھانا پکانے اور حرارت کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔

اس کے علاوہ شہری علاقوں میں لاکھوں کمرشل گاڑیاں اور چھوٹے ہوٹل یا ڈھابے اسی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر 16 نومبر سے ہڑتال ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر درج ذیل شعبوں پر پڑے گا:

  • گھریلو صارفین: پہاڑی علاقوں اور گیس سے محروم محلاجات کے رہائشی بنیادی ایندھن کی شدید قلت کا شکار ہو جائیں گے۔
  • تجارتی اور سڑک کی ٹرانسپورٹ: ایل پی جی پر چلنے والی گاڑیاں اور ٹیکسیاں معطل ہو سکتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مزید اضافہ ہو گا۔
  • چھوٹے کاروباری: روٹی، کھانا اور دیگر غذائی مصنوعات تیار کرنے والے چھوٹے دکاندار اضافی اخراجات کی وجہ سے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔

تاجروں کا حکومت سے بنیادی مطالبہ

ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا حکومت اور متعلقہ وزارتوں سے بنیادی مطالبہ ہے کہ اس نئے pricing فارمولے کو فوراً معطل کیا جائے اور تمام فریقین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایک ایسا منصفانہ نظام ترتیب دے جس سے نہ تو مارکیٹرز کو نقصان ہو اور نہ ہی عام عوام پر نا قابلِ برداشت بوجھ پڑے۔

علی حیدر نے واضح کیا کہ تاجر برادری ملک میں ہڑتال یا سپلائی کا بحران پیدا نہیں کرنا چاہتی، لیکن اگر ان کی آواز نہ سنی گئی تو ان کے پاس ہڑتال کے علاوہ کوئی اور قانونی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

صحافتی تجزیہ اور ممکنہ حل

صحافتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کی جڑیں توانائی کے شعبے میں طویل مدتی پالیسی کے فقدان سے جڑی ہیں۔ حکومت ایک طرف تو ملک میں ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور آمدن بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری طرف تاجر برادری اپنی آمدن میں کمی اور لاگت میں اضافے پر نالاں ہے۔

اگر آئندہ 15 ایام کے اندر حکومت اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے درمیان بات چیت کے ذریعے کوئی درمیانی راہ نہ نکالی گئی تو نومبر کے وسط میں ملک کے تمام صوبوں کو ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا عمل شروع کرے تا کہ ہڑتال اور قیمتوں کے طوفان دونوں سے ملک و قوم کو بچایا جا سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔