اہم نکات (خلاصہ) مرکزی تقریب: گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے یومِ آزادی کی مرکزی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ تاریخی پس منظر: یکم نومبر 1948 کو خطے کے غیور عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ خطے کی ترقی و خوشحالی: تقریب میں خطے کی معاشی ترقی، سیاحت کے فروغ اور امن و امان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ عوامی جوش و خروش: گلگت بلتستان بھر میں اس دن کو ملی جوش و جذبے، شاندار تقریبات اور قومی ترانوں کے ساتھ منایا گیا۔ تعارف اور مرکزی تقریب کا احوال گلگت بلتستان کے غیور عوام نے ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم نومبر کا دن انتہائی جوش و خروش اور ملی عقیدت کے ساتھ منایا۔ اس سلسلے کی مرکزی تقریب گلگت میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی پرچم لہرایا گیا اور فضا ملی نغموں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر گورنر سید مہدی شاہ نے یادگارِ شہداء کا رُخ کیا، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ یادگارِ شہداء پر حاضری کا یہ عمل اس بات کی یاد دہانی تھا کہ آج جو آزادی کی فضا ہم محسوس کر رہے ہیں، وہ ہمارے آباؤ اجداد اور بہادر مجاہدین کے خون اور لازوال قربانیوں کا ثمر ہے۔ اس پُروقار موقع پر سول و عسکری حکام، شہداء کے ورثاء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معزز شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تاریخی پس منظر: یکم نومبر 1948 کی لازوال داستان گلگت بلتستان کی تاریخ قربانیوں، عزم اور حب الوطنی کی ایک تابناک مثال ہے۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی جب اس خطے کی تاریخ پر نظر ڈالی جاتی ہے، تو یکم نومبر 1948 کا دن سنہری حروف سے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ یہ آزادی کتنی مشکل سے حاصل ہوئی تھی۔ اس خطے کے عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا کیونکہ وہ اپنی شناخت، اقدار اور دینی روایات کو آزادی کے ساتھ جینا چاہتے تھے۔ گلگت اسکاؤٹس کا تاریخی کردار: گلگت اسکاؤٹس کے غیور جوانوں اور مقامی مجاہدین نے حکمتِ عملی اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈوگرہ فورسز کو شکست دی اور گلگت کے قلعے پر اپنا پرچم لہرایا۔ الحاقِ پاکستان کا فیصلہ: آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد اس خطے کے رہنماؤں اور عوام نے متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، جو اس خطے کے لوگوں کے پاکستان سے عشق اور لگاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قربانیوں کا سفر: اس پوری جدوجہد میں متعدد جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ آنے والی نسلیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر ایک پُرامن ماحول میں سانس لے سکیں۔ موجودہ صورتحال اور حکومت کی ذمہ داریاں آج کا گلگت بلتستان سترہ برس قبل کے گلگت سے بہت مختلف ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں تعلیمی ادارے، سڑکیں، صحت کی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، اس خطے کے عوام کو آج بھی بعض ایسے انتظامی اور آئینی چیلنجز کا سامنا ہے جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گورنر سید مہدی شاہ اور دیگر صوبائی قائدین نے اپنے بیانات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت خطے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے، جو پاکستان کو چین سے ملاتا ہے (سی پیک کا اہم دروازہ)۔ اس تناظر میں یہاں کے عوام کو تمام بنیادی حقوق اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خطے کی ترقی کے اہم شعبے اور چیلنجز گلگت بلتستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے: سیاحت کا فروغ: گلگت بلتستان کو دنیا کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑ، حسین جھیلیں اور گلیشیئرز موجود ہیں۔ سیاحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرکے نہ صرف یہاں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ آئینی حقوق اور شناخت: خطے کے عوام کا طویل عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں پاکستان کے آئین کے تحت ایک مکمل اور باوقار آئینی حیثیت دی جائے تاکہ یہاں کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مؤثر آواز اٹھا سکیں۔ تعلیم اور ہنر مندی: نوجوان نسل کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ وہ گلگت بلتستان کی معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ ماحولیاتی تحفظ: گلگت بلتستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور گلگئیرل پگھلاؤ (گلیشیئرز کے پگھلنے) کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ماحول کے تحفظ اور قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ تقریب کے اثرات اور عوامی ردعمل یومِ آزادی کی مرکزی تقریب اور گورنر گلگت بلتستان کا یادگارِ شہداء پر حاضری دینا عوام کے لیے حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور گلگت بلتستان کی ترقی و سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دن ہمیں اتحاد، اتفاق اور یگانہ کی یاد دلاتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف گلگت بلتستان کی فلاح و بہبود اور پاکستان کی سالمیت کے لیے کام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ نتیجہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کی تاریخ کا روشن باب ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ استقامت اور اتحاد سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ گورنر سید مہدی شاہ کی قیادت میں منایا جانے والا یہ جشن اس بات کا مظہر ہے کہ خطے کے عوام اپنی تاریخ اور شہداء سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آزادی کی روح کو زندہ رکھتے ہوئے خطے کو پائیدار ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک روشن اور محفوظ مستقبل میں سانس لے سکیں۔ Post navigation یومِ آزادی گلگت بلتستان اور سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات، گورنمنٹ بوائز انٹر کالج گمبہ سکردو