Preloader
Tens of thousands build 108 Buddhist stupas

اہم نکات

  • ہمالیائی ملک بھوٹان میں ‘گیلیفو مائنڈ فلنس سٹی’ کے نام سے ایک ماحول دوست اور جدید ترین اقتصادی شہر قائم کرنے کا ایک انقلابی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
  • چالیس ہزار سے زائد شہریوں اور رضا کاروں نے رات گئے سے کام شروع کر کے ایک ہی دن میں پندرہ میٹر اونچی ۱۰۸ مقدس یادگاریں (اسٹوپا) مکمل کیں۔
  • اس تاریخی تقریب اور یادگاروں کے افتتاح کے موقع پر تقریباً دو لاکھ لوگ یعنی ملک کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ موجود تھا۔
  • بھوٹان کے بادشاہ نے اس کامیاب عوامی اقدام پر شکریہ ادا کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد معیشت کی بحالی، روزگار کی فراہمی اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک منتقلی کو रोकना ہے۔

مقدمہ: ہمالیہ کے دامن میں ایک نئے عہد کا آغاز

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہوا خوبصورت ملک بھوٹان، جو دنیا بھر میں اپنی ثقافتی اقدار اور ماحول دوست پالیسیوں کے باعث ایک منفرد مقام رکھتا ہے، اس وقت ایک بڑے اقتصادی اور معاشرتی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، روزگار پیدا کرنے اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک منتقلی کو روکنے کے لیے ایک تاریخی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔

اس منصوبے کا سب سے دلکش اور حیران کن پہلو وہ لمحہ بنا جب ملک کے ہزاروں شہریوں نے یکجہتی اور عقیدت کی بے مثال مثال قائم کرتے ہوئے محض ایک دن کے اندر درجنوں مقدس یادگاریں تعمیر کر ڈالیں۔ ‘گیلیفو مائنڈ فلنس سٹی’ نامی اس مجوزہ نئے شہر کو روحانیت، پائیدار معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک حسین امتزاج قرار دیا جا رہا ہے۔

تاریخی کارنامہ: ایک ہی دن میں ۱۰۸ یادگاروں کی تعمیر

بھوٹان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا عوامی منصوبہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں نے بلا معاوضہ اور رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔

  • رضا کاروں کی بڑی تعداد: اس منصوبے میں چالیس ہزار سے زائد مرد و خواتین، جوانوں اور بزرگوں نے عملی طور پر حصّہ لیا۔
  • رات گئے کام کا آغاز: تعمیراتی کام کا آغاز آدھی رات کے فوراً بعد کیا گیا تاکہ مقررہ وقت کے اندر ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
  • عمارتوں کی ساخت: ہر یادگار (اسٹوپا) کی اونچائی پندرہ میٹر (تقریباً پچاس فٹ) ہے، جنہیں پتھروں، مٹی اور روایتی تعمیراتی مواد سے تیار کیا گیا ہے۔
  • جگہ اور رقبہ: یہ تمام ۱۰۸ یادگاریں بھارتی سرحد کے قریب بارہ کلومیٹر (ساڑھے سات میل) پر محیط ندی کے کنارے قائم کی گئی ہیں۔
  • عوامی شرکت: سرکاری حکام کے مطابق اس پروقار تقریب میں تقریباً دو لاکھ افراد نے شرکت کی، جو بھوٹان کی کل آبادی کے چوتھائی حصے کے برابر ہے۔

بدھ مت میں ۱۰۸ کے عدد کو انتہائی مقدس اور برکت والا مانا جاتا ہے۔ شہریوں اور حکام کے نزدیک یہ یادگاریں صرف پتھر اور مٹی کا ڈھانچہ نہیں ہیں بلکہ یہ پتھروں اور زمین کی صورت میں مانگی گئی ایک دائمی اجتماعی دعا ہیں۔

بادشاہ کا خطاب اور عوامی جذبے کا اعتراف

اس تاریخی موقع پر منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامگیال وانگچک نے شہریوں کے اس جذبۂ حب الوطنی اور محنت کی بھرپور تعریف کی۔

بادشاہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابتدائی طور پر اس بات کا اندیشہ تھا کہ محض ایک دن کے قلیل وقت میں پندرہ میٹر اونچی ۱۰۸ یادگاروں کی تعمیر مکمل کرنا ممکن شاید نہ ہو سکے، لیکن شہریوں کے بے مثال تعاون، یکجہتی اور محنت نے اس ناممکن کو ممکن بنا دکھایا۔ انہوں نے اس عظیم کامیابی پر تمام رضا کاروں، ماہرین اور شہریوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔

اعداد و شمار کی روشنی میں منصوبے کی تفصیلات

اس منصوبے اور اس سے جڑے اہم حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • کل یادگاریں: ۱۰۸ پائیدار اور مقدس یادگاریں (اسٹوپا)۔
  • ہر یادگار کی اونچائی: ۱۵ میٹر (۵۰ فٹ)۔
  • شامل رضا کار: ۴۰,۰۰۰ سے زائد افراد۔
  • شرکاء کی تعداد: ۲,۰۰۰,۰۰ (دو لاکھ) کے قریب شہری۔
  • منصوبے کا پھیلاؤ: ۱۲ کلومیٹر طویل ندی کا کنارہ۔
  • موجودہ آبادی: گیلیفو نامی قصبے کی موجودہ آبادی صرف ۱۰,۰۰۰ کے قریب ہے۔
  • فاصلہ: یہ مقام دارالحکومت تھمپو سے جنوب کی جانب ۲۴۰ کلومیٹر (۱۵۰ میل) کے فاصلے پر بھارتی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔

گیلیفو مائنڈ فلنس سٹی: منصوبے کا پس منظر اور مقاصد

‘گیلیفو مائنڈ فلنس سٹی’ کا تصور بنیادی طور پر بھوٹان کے بادشاہ کا اپنا پیش کردہ خیال ہے، جسے ڈنمارک کے نامور اور عالمی شہرت یافتہ ماہرینِ تعمیرات نے ڈیزائن کیا ہے۔

اس منصوبے کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ جدید دنیا کی تمام تر سہولیات کے باوجود خطے کی قدرتی خوبصورتی، ماحولیاتی توازن اور روحانی اقدار کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس نئے شہر کا مقصد دنیا بھر سے ایسے سرمایہ کاروں اور اداروں کو راغب کرنا ہے جو پائیدار ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔

اس نئے شہر کے بنیادی مقاصد درج ذیل شعبوں پر محیط ہیں:

۱۔ ماحول دوست ٹیکنالوجی

شہر میں صرف ایسی صنعتوں اور ٹیکنالوجی کو جگہ دی جائے گی جو ماحول دوستی کے اصولوں پر پوری اترتی ہوں اور جن سے زہریلی گیسوں یا آلودگی کا اخراج نہ ہو۔

۲۔ پائیدار کاروبار اور مالیاتی خدمات

بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور پائیدار کاروبار کو یہاں اپنے مراکز قائم کرنے کی دعوت دی جائے گی تاکہ ملک کو مالی لحاظ سے مستحکم کیا جا سکے۔

۳۔ اعلیٰ تعلیم اور سیاحت

جدید ترین تعلیمی اداروں کا قیام اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے ایک پرسکون، قدرتی اور روحانی ماحول کی فراہمی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

بھوٹان کے درپیش معاشی چیلنجز

یہ عظیم الشان اور کثیر المقاصد منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھوٹان کو شدید قسم کے معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔

  • نوجوانوں کی بے روزگاری: ملک میں پڑھ لکھ کر نکلنے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مناسب مواقع کی شدید کمی ہے۔
  • ماہرین کا انخلا: اچھے مستقبل اور بہتر روزگار کی تلاش میں پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں، جس سے ملک میں ہنر مند افراد کا قحط پیدا ہو رہا ہے۔
  • شرحِ پیدائش میں کمی: دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح بھوٹان میں بھی شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کم ہونے کا خدشہ ہے۔

ان حالات میں بھوٹانی قیادت کو امید ہے کہ گیلیفو کا یہ نیا شہر ملک کے معاشی حالات کو بدلنے میں ایک اہم اور کلیدی سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ

گیلیفو کا یہ نیا شہر نہ صرف بھوٹان بلکہ پورے ہمالیائی خطے کے لیے ایک ماڈل شہر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے طے شدہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے نتائج دور رس ہوں گے:

اولاً، بھارتی سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس شہر کو علاقائی تجارت اور نقل و حمل کے لیے بہترین جغرافیائی موقع حاصل ہے، جس سے بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔

ثانیاً، یہ منصوبہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشی ترقی اور صنعتی پیشرفت حاصل کرنے کے لیے قدرتی ماحول، ثقافت اور روحانی اقدار کو قربان کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

ایک ہی دن میں ۱۰۸ یادگاروں کی کامیابی سے تعمیر بھوٹان کے عوام کے اتحاد، عزم اور اپنی ثقافت سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ قدم صرف ایک عمارت یا یادگار کی تعمیر تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے روشن اور مستحکم مستقبل کی بنیاد ہے جہاں جدید معاشی ضروریات اور قدیم روحانی قدریں ایک ساتھ سفر کریں گی۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ یہ ‘مائنڈ فلنس سٹی’ کس طرح بھوٹان کی معاشی تقدیر کو بدلتا ہے اور نوجوانوں کو اپنے وطن میں ہی ایک باوقار مستقبل فراہم کرتا ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔