Preloader
Child born with 4 hands and 4 legs

اہم نکات:

  • بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے قصبے لوکش نگر میں 29 سالہ خاتون نیتا نے چار ہاتھوں اور چار ٹانگوں والے نایاب بچے کو جنم دیا ہے۔
  • ولادت کے وقت بچے کا وزن چھ پاؤنڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ خبر پھیلتے ہی اسپتال کے باہر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔
  • طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک نایاب طبی حالت ‘پولی میلیا’ (Polymelia) یا ‘پیراسیٹک ٹوئنز’ (Parasitic Twins) ہے، جو جڑواں بچوں کی نامکمل تشکیل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
  • مقامی انتظامیہ اور طبی ٹیم کی جانب سے بچے کو بہتر اور جدید طبی سہولیات کے لیے بڑے اسپتال منتقل کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش سے ایک نادر اور حیرت انگیز طبی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے چار ہاتھوں اور چار ٹانگوں والے بچے کو جنم دیا ہے۔ اس غیر معمولی ولادت کی خبر جیسے ہی جنگل میں آگ کی طرح پھیلی، علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد بچے کو دیکھنے کے لیے اسپتال پہنچ گئی، جس کے باعث اسپتال انتظامیہ کو نظم و ضبط برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے علاقے لوکش نگر سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ حاملہ خاتون نیتا کو دردِ زہ کی شکایت پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ طبی عملے کی دیکھ بھال میں زچگی کا عمل مکمل ہوا جس کے بعد خاتون نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا جس کے جسم کے ساتھ اضافی اعضا جڑے ہوئے تھے۔

خبر کی بنیادی تفصیلات اور موجودہ صورتحال

اسپتال کے ذرائع کے مطابق ولادت کے وقت بچے کی جسمانی ساخت دیکھ کر طبی عملہ بھی حیران رہ گیا۔ بچے کے دائیں اور بائیں جانب دو اضافی ہاتھ اور دو اضافی ٹانگیں موجود تھیں، تاہم بچے کا وزن تقریباً 6 پاؤنڈ (تقریباً 2.7 کلوگرام) تھا جو کہ ایک نارمل نوزائیدہ بچے کے وزن کے برابر ہے۔

اطلاع ملتے ہی نہ صرف بچے کے رشتہ دار بلکہ آس پاس کے دیہات اور قصبوں کے لوگ بھی اسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ عوامی ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے اسپتال کی سیکورٹی کو الرٹ کر دیا گیا تاکہ زیرِ علاج خاتون اور نوزائیدہ بچے کو کسی قسم کے انفیکشن یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

طبی سائنس کیا کہتی ہے؟ پس منظر اور وجوہات

عوامی سطح پر ایسے واقعات کو اکثر کرشمہ یا فوق الفطرت مظہر سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی اور عسکری سائنس کی نظر میں یہ ایک پیچیدہ اور نایاب طبی حالت ہے۔ ماہرینِ طب کے مطابق اس حالت کو بنیادی طور پر دو طبی وجوہات میں تقسیم کیا جاتا ہے:

  1. پولی میلیا (Polymelia): یہ ایک ایسا پیدائشی نقص ہے جس میں جنین کی نمو کے دوران سیلز (خلیات) کی تقسیم غلط طریقے سے ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے معمول کے اعضا کے علاوہ اضافی اعضا بن جاتے ہیں۔
  2. پیراسیٹک ٹوئنز (Parasitic Twins): جب رحمِ مادر میں جڑواں بچوں کی تخلیق کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن ایک جنین مکمل طور پر نشوونما نہیں پا سکتا، تو غیر فعال جنین کے کچھ حصے دوسرے فعال اور زندہ بچے کے جسم کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ حالت انتہائی نایاب ہے، لیکن طبی تاریخ میں اس طرح کے کیسز پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں بچے کی صحت، اعصابی نظام اور اہم اندرونی اعضا کی کارکردگی کا بغور معائنہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اعداد و شمار اور بنیادی حقائق

اس واقعے سے متعلق اب تک سامنے آنے والے اہم حقائق کو ذیل میں واضح نکات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے:

عنصر / تفصیلصورتحال
مقاملوکش نگر اسپتال، مدھیہ پردیش (بھارت)
والدہ کی عمر29 سال (نام: نیتا)
بچے کا وزن6 پاؤنڈ (تقریباً 2.7 کلوگرام)
جسمانی حالت4 ہاتھ اور 4 ٹانگیں (اضافی اعضا)
طبی اصطلاحپیراسیٹک ٹوئنز / پولی میلیا

طبی چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل

بچے کی ولادت کے بعد اب سب سے بڑا چیلنج اس کا محفوظ علاج اور اعضا کی سرجری ہے۔ ماہرینِ جراحت (پیڈیاٹرک سرجنز) کی ایک ٹیم بچے کی ابتدائی صحت اور اندرونی اعضا کا معائنہ کر رہی ہے۔

  • سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی: یہ تعین کرنے کے لیے کہ آیا اضافی اعضا بچے کی اہم رگوں، ہڈیوں یا اندرونی نظام کے ساتھ کس حد تک منسلک ہیں۔
  • سرجیکل پروسیجر (آپریشن): اگر بچے کی دل، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کی کارکردگی مستحکم پائی گئی، تو ماہر سرجنز ایک پیچیدہ آپریشن کے ذریعے ان اضافی اعضا کو جسم سے الگ کر سکتے ہیں۔

مقامی اسپتال انتظامیہ نے بچے کو جدید سہولیات سے آراستہ بڑے طبی مرکز (ٹیرشری کیئر ہسپتال) منتقل کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ماہر سرجنز کی دیکھ بھال میں اس کی جان بچائی جا سکے۔

عوامی اور سماجی اثرات

دیہی علاقوں میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ایسے واقعات کے بعد مختلف افواہیں اور مذہبی و عقائدی تاثرات جنم لیتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ہجوم کی صورتحال سے بچا جا سکے اور بچے کے علاج میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیصی مراحل (الٹراساؤنڈ) کی عدم دستیابی یا حمل کے دوران مناسب طبی معائنے نہ ہونے کی وجہ سے اکثر دیہی علاقوں میں اس طرح کی پیچیدگیاں ولادت کے وقت ہی سامنے آتی ہیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ خبر مکمل طور پر بھارتی ذرائع ابلاغ اور طبی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔ بچے کی صحت، جراحی کے اقدامات اور آئندہ کی پیش رفت سے متعلق مزید تفصیلات جیسے ہی سامنے آئیں گی، خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ طبی ماہرین کے مطابق عوام کو افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے اس مسئلے کو محض ایک نایاب طبی حالت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025