Preloader
6th day of anti encouragement drive

اہم نکات (خلاصہ)

  • تجاوزات کے خلاف کارروائی: ہری پور انتظامیہ کا مین بازار، موچی بازار اور جی ٹی روڈ پر مسلسل چھٹے روز بھی گرینڈ آپریشن جاری، جس کے دوران پختہ اور عارضی تجاوزات مسمار کر دی گئیں۔
  • سرکاری اراضی کی واگزاری: نالوں اور قدرتی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی پلازوں اور دکانوں کو گرا کر کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی بحال کروا لی گئی۔
  • انتظامی عزم: ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ناظم الدین کے مطابق ضلع بھر سے تمام عارضی و پختہ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک آپریشن بغیر کسی تذبذب کے جاری رہے گا۔
  • عوامی سہولت: بازاروں کی کشادگی سے شہر میں ترافک کے بہاؤ اور پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت میں نمایاں بہتری آنے کا امکان ہے۔

ہری پور میں قانون کی بالادستی: گرینڈ آپریشن کے چھٹے روز کی صورتحال

ہری پور کے مرکزی تجارتی مراکزی اور شاہراہوں پر دہائیوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ضلع انتظامیہ کا گرینڈ آپریشن اپنے چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ناظم الدین کی قیادت میں کی جانے والی اس وسیع پیمانے کی کارروائی کے دوران شہر کے سب سے اہم اور مصروف ترین تجارتی مراکزی، جن میں مین بازار، موچی بازار اور جی ٹی روڈ شامل ہیں، پر بھاری مشینری کے ذریعے پختہ و عارضی تجاوزات کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف دہائیوں پرانی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ حکومت کی کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی بھی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اس سخت کارروائی سے شہر کے تجارتی علاقوں کی نقشہ گری میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور برسوں سے تنگ سڑکوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

موچی بازار اور مین بازار میں آپریشن کی تفصیلی صورتحال

تجاوزات کے خلاف اس مہم کے چھٹے روز انتظامیہ کی توجہ خاص طور پر موچی بازار اور مین بازار کے ان حصوں پر رہی جہاں تاجروں اور بااثر افراد نے قدرتی نالوں اور گندے نالوں کے اوپر غیر قانونی طور پر ملٹی سٹوری پلازے، دکانیں اور تھڑے تعمیر کر رکھے تھے۔

آپریشن کے دوران درج ذیل اہم اقدامات عمل میں لائے گئے:

  • نالوں پر قائم عمارتوں کی مسماری: موچی بازار میں قدرتی نالوں کے اوپر قائم متعدد پختہ دکانوں اور تجارتی پلازوں کو بھاری کرینوں اور ہیوی مشینری کے ذریعے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔
  • جی ٹی روڈ پر سے تجاوزات کا خاتمہ: جی ٹی روڈ کے اطراف میں قائم غیر قانونی تھڑوں، بورڈز اور دکانوں کے آگے بڑھائے گئے پختہ شیڈز کو ہٹا دیا گیا تاکہ بین الصوبائی اور بین الضلاعی ترافک کی روانی متاثر نہ ہو۔
  • سرکاری زمین کی واگزاری: انتظامیہ کے محتاط اندازے کے مطابق اب تک کی کارروائی کے دوران واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کی کل مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے، جسے اب دوبارہ عام استعمال اور سڑکوں کی کشادگی کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے۔
  • عارضی تجاوزات کی ضبطی: پختہ ساختوں کی مسماری کے ساتھ ساتھ سڑک کے کناروں پر قائم ریڑھیاں، سٹالز اور عارضی سائن بورڈز بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

ضلع انتظامیہ کا مؤقف اور قانونی حکمت عملی

عملی کارروائی کی موقع پر نگرانی کرنے والے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ہری پور ناظم الدین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ آپریشن کسی فردِ واحد یا مخصوص طبقات کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور عمومی مفادِ عامہ کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ناظم الدین کا کہنا تھا:

“ہری پور کے تمام تجارتی مراکز، نالوں، اور عام گزرگاہوں پر قائم پختہ و عارضی تجاوزات کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔ ضلع بھر میں جب تک اخری غیر قانونی ساخت کو مسمار نہیں کر دیا جاتا، یہ گرینڈ آپریشن بلا تعطل اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے بارشوں کے موسم میں نالے بند ہو جاتے تھے جس سے پورا شہر زیرِ آب آ جاتا تھا۔ اس آپریشن کے بعد نالوں کی صفائی اور سڑکوں کی کشادگی سے شہر کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ ہو جائے گا۔

ہری پور میں تجاوزات کا تاریخی پس منظر

ہری پور شہر، جو خیبر پختونخوا کا ایک اہم تجارتی اور صنعتی مرکز سمجھا جاتا ہے، گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شدید گنجانانی اور بے ترتیبی کا شکار رہا ہے۔ مین بازار اور موچی بازار شہر کی قدیم ترین منڈیاں ہیں جہاں روزانہ ہزاروں افراد خرید و فروخت کے لیے آتے ہیں۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مقامی تاجروں نے دکانوں کے آگے غیر قانونی توسیع، نالوں پر پختہ چھتیں ڈال کر نئی عمارتوں کی تعمیر، اور سڑکوں پر عارضی سٹالز لگانے کو معمول بنا لیا تھا۔ اس صورتحال کے باعث:

  • ترافک کے شدید مسائل: چار گاڑیوں کی گنجائش والی سڑکیں محض ایک گاڑی کے گزرنے کے قابل رہ گئی تھیں۔
  • برساتی نالوں کی بندش: نالوں کے اوپر تعمیرات کی وجہ سے ان کی صفائی ممکن نہیں رہی تھی، جس کے نتیجے میں معمولی بارش کے بعد بھی بازاروں اور دکانوں میں پانی داخل ہو جاتا تھا۔
  • عوامی مشکلات: پیدل چلنے والوں، خاص طور پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے بازاروں سے گزرنا انتہائی دشوار ہو چکا تھا۔

ماضی میں بھی کئی بار ان تجاوزات کو ہٹانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن جامع منصوبہ بندی اور مسلسل کارروائی کی عدم موجودگی کے باعث یہ تجاوزات بار بار دوبارہ قائم ہو جاتی تھیں۔ موجودہ گرینڈ آپریشن کو انتظامیہ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

عوام اور تاجر برادری کا ردِ عمل اور اثرات

اس گرینڈ آپریشن کے ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے، تاہم عام شہریوں کی اکثریت نے انتظامیہ کے اس قدم کو سراہا ہے۔

شہریوں کی رائے:

عام شہریوں اور گاڑی مالکان نے اس آپریشن کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی کشادگی سے اب بازاروں میں پیدل چلنا اور ترافک کی روانی برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے جو سفر گھنٹوں میں طے ہوتا تھا، اب وہ منٹوں میں ممکن ہو سکے گا۔

تاجر برادری کی صورتحال:

دوسری جانب، جن تاجروں کی دکانیں اور پختہ تعمیرات متاثر ہوئی ہیں، ان میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو متبادل جگہ کی فراہمی یا مناسب وقت دینے کے بعد کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ تاہم انتظامیہ کا موقف ہے کہ تمام فریقین کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدام ناگزیر تھا۔

پیش رفت اور آئندہ کا لائحہ عمل

انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، گرینڈ آپریشن کے اگلے مرحلے میں مین بازار اور موچی بازار کے باقی ماندہ حصوں کے ساتھ ساتھ شہر کے دیگر ملحقہ بازاروں اور اندرونی گلیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

آئندہ کی حکمت عملی کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

  • مسمار شدہ اراضی کی حفاظت: واگزار کرائی گئی اراضی پر دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہونے دینے کے لیے خصوصی monitoring ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
  • سڑکوں اور نالوں کی بحالی: مسماری کے فوراً بعد ملبہ ہٹانے اور نالوں کی ازسرنو صفائی اور پختگی کا کام شروع کیا جائے گا۔
  • مستقل نگرانی: بازاروں میں گشت بڑھایا جائے گا تاکہ ریڑھی بان اور عارضی تجاوزات کرنے والے سڑکوں کا راستہ دوبارہ بلاک نہ کر سکیں۔

ہری پور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس گرینڈ آپریشن کا حتمی مقصد شہر کو ایک محفوظ، خوبصورت اور منظم شکل دینا ہے جہاں قانون کی پاسداری سب کے لیے برابر ہو۔