Preloader
History of haripur bazar

اہم نکات

  • ہری پور کا موجودہ مین بازار 1936ء میں فسادات کے دوران ہلاکتوں اور آگ زنی کے باعث شدید ابتر صورتحال اور تباہی کا شکار ہو گیا تھا۔
  • 1944ء میں چیئرمین بلدیہ ہری پور امین خان ترین نے دکانداروں کی شدید مخالفت کے باوجود منrules اور نقشے کے مطابق بازار کی ڈبل ڈیزائننگ اور کشادگی کی بنیاد رکھی۔
  • دکانداروں کی جانب سے عدالت عالیہ میں دائر 35 مقدمات اور سیاسی رقابتوں کے باوجود بلدیاتی انتظامیہ نے عوامی راستے اور کشادہ بازار کی تعمیر کا کام مکمل کیا۔
  • تاریخی یادگار تختی ہری پور کی بلدیاتی تاریخ میں عزم، عوامی خدمت اور تجاوزات کے خلاف تاریخی جدوجہد کی ایک زندہ علامت کے طور پر موجود ہے۔

مین بازار ہری پور کا تاریخی پس منظر اور ابتدائی حالات

خیبر پختونخوا کا اہم اور تاریخی ضلع ہری پور ہمیشہ سے تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ اور معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے والا “مین بازار ہری پور” اپنی قائم شدہ شکل میں پہنچنے کے لیے ایک طویل تاریخی اور جدوجہد سے بھرپور دور سے گزرا ہے۔

تاریخی دستاویزات اور تحریر شدہ سنگِ بنیاد کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1936ء میں میں بازار ہری پور میں ہونے والے ہولناک فسادات کے دوران شدید تبا ہی پھیلی۔ ان فسادات میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ فائرنگ، آگ زنی اور توڑ پھوڑ کے باعث بازار کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور ناقابلِ دید ہو گئی۔ کچی جھونپڑیوں، غیر منظم دکانوں اور تنگ راستوں کی وجہ سے عوام اور تاجروں کے لیے آمد و رفت کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو چکا تھا۔

1944ء کی اصلاحات: امین خان ترین کا جرات مندانہ اقدام

1936ء سے لے کر اگلے چند برسوں تک بازار اسی خستہ حالی کا شکار رہا، تاآنکہ 1944ء میں جناب امین خان ترین نے بطور چیئرمین بلدیہ ہری پور ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے شہر کی بہتری اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مین بازار کی ازسرِ نو تعمیر اور کشادگی کا عزم کیا۔

امین خان ترین نے موجودہ بازار کا ایک جدید اور منظور شدہ نقشہ (ڈیزائن) تیار کروایا، جس کے تحت سڑکوں کی کشادگی اور منظم دکانوں کی تعمیر شامل تھی۔ تاہم، اس وقت بھی مقامی سطح پر دکانداروں اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے اس اصلاحاتی منصوبے کی شدید مخالفت کی گئی۔ بارہا نوٹسز جاری کیے جانے کے باوجود جب دکانداروں نے تجاوزات ختم نہ کیں اور منظم نقشے پر عمل نہ کیا، تو امین خان ترین نے خود بلدیہ کے عملے کی قیادت کرتے ہوئے کچی جھونپڑیوں اور غیر قانونی تجاوزات کو گرا کر سڑک کو اصل اور منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق کشادہ کرایا۔

قانونی معرکے اور 35 عدالتی مقدمات کا سامنا

تجاوزات کے خاتمے اور سڑک کی کشادگی کے اس سخت اقدام پر تاجر برادری اور مخالفین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ دکانداروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے بلدیاتی انتظامیہ اور بالخصوص امین خان ترین کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔

اس دور میں امین خان ترین پر عدالتوں میں متعدد مقدمات قائم کیے گئے۔ حاصل شدہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان پر کل 35 مقدمات دائر کیے گئے۔ لیکن عدالتِ عالیہ اور دیگر قانونی فورمز پر حقائق پیش کیے جانے پر عدالت نے ان کے اقدامات کو عوامی مفاد اور قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات کو بلاافزائی ڈسمس (خارج) کر دیا۔ یوں قانون کی بالادستی قائم ہوئی اور مین بازار کی کشادگی کا راستہ مکمل طور پر ہموار ہو گیا۔

سیاسی رقابتیں، راستوں کی بندش اور عوامی عزائم

عدالتی کامیابی کے باوجود مین بازار کی تعمیر و ترقی کا راستہ آسان نہ تھا۔ سیاسی اور خاندانی مخالفتوں کے باعث شرپسند عناصر نے عوامی فلاح کے اس منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

تاریخی تختی میں درج تفصیلات کے مطابق:

  • ہسپتال روڈ کی بندش: موجودہ بازار سے ہسپتال کی طرف جانے والے اہم راستے کو کچھ شرپسند عناصر نے دیواریں کھڑی کر کے بند کر دیا، تاکہ عوامی آمد و رفت میں مشکلات پیدا کی جا سکیں۔
  • سرکاری مداخلت اور بحالی: عوامی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے، محمد خان ہوتی (سابق وزیرِ صحت) نے موقع پر پہنچ کر خود راستے کا جائزہ لیا اور اپنے احکامات کے ذریعے بند راستے کو دوبارہ واگزار کرایا۔
  • دوبارہ رکاوٹیں اور حتمی اقدام: چند سال بعد سیاسی مخالفین اور ارباب سکندر خان خلیل کی گاڑی کی آمد کے موقع پر کچھ عناصر نے ایک بار پھر بازار کی گلی میں دیواریں تعمیر کر کے راستہ روکنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر امین خان ترین نے خود اپنے ہاتھوں سے ہتھوڑا اٹھا کر ان غیر قانونی دیواروں کو گرایا اور عوامی راستے کو ہمیشہ کے لیے کھول دیا۔

تاریخی اہمیت اور دورِ حاضر کے لیے سبق

ہری پور مین بازار میں نصب یہ تاریخی تختی صرف ایک کتبہ نہیں، بلکہ ہری پور کی بلدیاتی تاریخ، قانون کی بالادستی اور عوامی مفاد کے لیے کی جانے والی انتھک جدوجہد کی ایک روشن دستاویز ہے۔

موجودہ دور میں جہاں شہروں میں تجاوزات، ٹریفک کے مسائل اور سڑکوں کی تنگی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، 1944ء کے یہ تاریخی واقعات انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے ایک بہترین مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انتظامی سربراہان ذاتی مفادات اور سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر عوامی بہبود اور قانونی ضوابط پر سخت عمل درآمد کرتے ہیں، تو شاندار اور پائیدار نتائج حاصل ہوتے ہیں جن سے دہائیوں اور صدیوں تک آنے والی نسلیں مستفید ہوتی ہیں۔