Preloader
College ground is using for flour smuggling

اہم نکات

  • خان پور کے علاقے سمگوال میں گورنمنٹ ڈگری کالج کا گراؤنڈ پنجاب سے خیبر پختونخوا آٹا بلیک کرنے والے سمگلروں کا مبینہ گڑھ بن چکا ہے۔
  • پہاڑی اور تنگ راستوں پر تیز رفتار جیپوں اور چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے آٹے کی ترسیل کے باعث آئے روز ہولناک ترافک حادثات رونما ہو رہے ہیں۔
  • نجف پور کا رہائشی کالج طالب علم اذان تیز رفتار سمگلر جیپ کی ٹکر سے شدید زخمی، ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں پنجاب منتقل کر دیا گیا۔
  • سمگلنگ کی کھلم کھلا سرگرمیوں پر مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی پر شہریوں اور والدین میں شدید تشویش و غم وغصہ۔

خان پور میں آٹا سمگلنگ کا پھیلاؤ اور تعلیمی ادارے کا متاثر ہونا

ضلع ہری پور کی تحصیل خان پور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں غذائی اجناس بالخصوص آٹے کی بین الصوبائی غیر قانونی ترسیل اور سمگلنگ ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ پنجاب کی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے خان پور کے مختلف راستے اور دشوار گزار پہاڑی پٹڑیاں سمگلروں کے لیے آسان اور محفوظ راستہ سمجھی جاتی ہیں۔

انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار کا مرکز اب کسی ویران جگہ کے بجائے گورنمنٹ ڈگری کالج کا گراؤنڈ بن چکا ہے۔ مبینہ اطلاعات کے مطابق، سمگلر دن اور رات کے مختلف اوقات میں بڑے کنٹینروں اور ٹرکوں کے ذریعے آٹا اس تعلیمی ادارے کے گراؤنڈ میں لاتے ہیں، جہاں سے اسے چھوٹی گاڑیوں اور جیپوں میں منتقل کر کے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں اور بلیک مارکیٹ میں بھیجا جاتا ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے کی اراضی کا اس طرح استعمال ہونا تعلیمی ماحول کو شدید متاثر کر رہا ہے۔

غیر قانونی نقل و حمل اور تیز رفتار گاڑیوں سے حادثات کا خطرہ

پہاڑی خطے کے تنگ اور پیچ دار راستوں پر سمگلنگ کی گاڑیوں کی بے ہنگم اور تیز رفتاری نے عام شہریوں، بالخصوص پیدل چلنے والے بچوں اور طلباء کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ قانون کی گرفت سے بچنے اور جلد از جلد مال منتقل کرنے کی دھن میں سمگلر جیپوں اور منی گاڑیوں کو انتہائی لاپرواہی سے چلاتے ہیں۔

مقامی باشندوں کے مطابق ان گاڑیوں کی وجہ سے سڑکوں پر روزمرہ کا سفر خوفناک بن چکا ہے۔ تنگ پہاڑی موڑوں پر تیز رفتار گاڑیاں نہ صرف سامنے سے آنے والی ٹریفک کے لیے تبا ہی کا باعث بنتی ہیں بلکہ سڑک کنارے واقع آبادیوں، بازاروں اور سکول و کالج جانے والے بچوں کے لیے بھی مستقل ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں۔

تازہ ترین حادثہ: طالب علم اذان کا شدید زخمی ہونا

سمگلنگ کی اس بے لگام نقل و حمل کا ایک اور دردناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب نجف پور کا رہائشی اور کالج کا محنتی طالب علم اذان ایک تیز رفتار جیپ کی زد میں آ گیا۔ تیز رفتاری اور لاپرواہی کے باعث پیش آنے والے اس حادثے میں طالب علم شدید زخمی ہو گیا اور اس کی جسمانی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔

واقعے کے فوری بعد مقامی افراد نے زخمی طالب علم کو ترناوہ کے قریب ترین طبی مرکز منتقل کیا، جہاں اسے ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ تاہم، ضربات کی شدت اور نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے اسے مزید بہتر اور تخصیصی علاج کے لیے فوری طور پر پنجاب کے بڑے ہسپتال کے لیے روانہ کر دیا ہے۔ اس سانحے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حقائق پر مبنی جائزہ: درپیش چیلنجز اور انتظامی غفلت

خان پور میں پیدا ہونے والی اس غیر قانونی صورتحال کا جائزہ درج ذیل بنیادی نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے:

  • تعلیمی اراضی کا غلط استعمال: گورنمنٹ ڈگری کالج جیسے اہم تعلیمی ادارے کا گراؤنڈ غیر قانونی مال کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے لیے استعمال ہونا انتظامی کنٹرول کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
  • سرکاری آمدنی اور اجناس کا زیاں: پنجاب سے غیر قانونی آٹے کی ترسیل سے جہاں قانونی نظام متاثر ہو رہا ہے، وہاں بلیک مارکیٹ کی وجہ سے عام شہریوں کو بھی مناسب قیمت پر اشیائے خورونوش کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
  • عوامی سلامتی پر خطرات: تیز رفتار جیپوں کی بے ہنگم آمد و رفت کے باعث حالیہ مہینوں میں ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
  • قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار: سرحدوں پر چیک پوسٹوں اور گشت کے باوجود اتنے بڑے پیمانے پر ٹرکوں اور جیپوں کی نقل و حمل پر کارروائی نہ ہونا شہریوں میں گہرے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔

عوامی تشویش، مطالبات اور مستقبل کا لائحہ عمل

طالب علم اذان کے حادثے اور کالج گراؤنڈ میں سمگلنگ کی سرگرمیوں پر علاقے کی تمام تر سول سوسائٹی، والدین اور طلباء نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں، مقامی انتظامیہ اور پولیس کی یہ مبینہ خاموشی یا غفلت اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام غیر قانونی عناصر کے سامنے بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

اہلیانِ خان پور اور متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے:

  1. کالج گراؤنڈ کو واگزار کرایا جائے: گورنمنٹ ڈگری کالج کی حدود سے سمگلروں کے تمام اڈوں اور گاڑیوں کو فوری طور پر ختم کر کے تعلیمی تقدس بحال کیا جائے۔
  2. سمگلنگ کے راستوں کی ناکابندی: پنجاب اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی راستوں پر سخت چیک پوسٹیں قائم کی جائیں اور غیر قانونی آٹے کی ترسیل میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔
  3. حادثے کے ذمہ داروں کی گرفتاری: طالب علم اذان کو ٹکر مارنے والی گاڑی کے ڈرائیور اور اس کے مالکان کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔
  4. تیز رفتار گاڑیوں کے خلاف مہم: پہاڑی اور گنجان راستوں پر بے ہنگم گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف خصوصی ٹریفک مہم شروع کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

اگر انتظامیہ نے ان سنگین مسائل پر فوراً توجہ نہ دی تو یہ صورتحال کسی بڑے عوامی احتجاج یا شدید بے چینی کا سبب بن سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری غفلت برتنے والے اداروں پر عائد ہوگی۔