اہم نکات خیبر پختونخوا کے تاریخی ضلع ہری پور میں تجاوزات یا پرانی عمارتوں کی مسماری کے دوران انیسویں صدی کا تاریخی “شیراں والا گیٹ” نمودار ہو گیا۔ ہری پور شہر کی بنیاد سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے 1822ء کے قریب رکھی تھی، جہاں شہر اور قلعے کی حفاظت کے لیے تاریخی دروازے قائم کیے گئے تھے۔ دہائیوں سے نجی تعمیرات اور کمرشل دکانوں کے پسِ منظر میں چھپا یہ قدرتی و تاریخی ورثہ اب اپنی اصل ہندوستانی و سکھ فنِ تعمیر کی ساخت کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ مقال نگاروں، محققین اور اہلیانِ ہری پور نے محکمہ آثارِ قدیمہ اور ضلعی انتظامیہ سے اس تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاریخی دریافت کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال خیبر پختونخوا کے مردم خیز اور تاریخی خطے ہزارہ کے ضلع ہری پور میں ایک تاریخی اور نادر سرپرائز اس وقت سامنے آیا جب شہر کے قدیمی حصے میں قائم تجاوزات یا خستہ حال نجی تعمیرات کو ہٹایا گیا۔ اس مسماری کے نتیجے میں دہائیوں سے اوجھل اور روپوش رہنے والا عظیم الشان “شیراں والا گیٹ” اپنی قدیمی اینٹوں، محرابوں اور مخصوص طرزِ تعمیر کے ساتھ منظر عام پر آ چکا ہے۔ شہر کے قلب میں واقع یہ تاریخی گیٹ، جو سالہا سال کی تجارتی اور رہائشی تجاوزات کی نظر ہو چکا تھا، اب اپنی پرانی شکستہ حالت کے باوجود اپنے اندر دو صدیوں پر محیط تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اینٹوں کی قدیمی چنائی، محرابی ساخت اور بالای حصے پر مجسمہ سازی کے اثار اب بھی واضح ہیں، جس پر “شیراں والا گیٹ – ہری پور کا تاریخی ورثہ سامنے آ گیا” کی تحریر کے ساتھ مقامی سطح پر خوشی اور تشویش کا ملا جلا ردِعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ہری پور شہر اور شیراں والا گیٹ کا تاریخی پس منظر ہری پور شہر کی بنیاد انیسویں صدی کے آغاز میں سنہ 1821ء سے 1822ء کے دوران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نامور سکھ جرنیل اور گورنر ہزارہ سردار ہری سنگھ نلوہ نے رکھی تھی۔ اس شہر کو ایک منظم اور دفاعی منصوبہ بندی کے تحت آباد کیا گیا تھا۔ شہر اور یہاں قائم قلعہ (ہری کشن گڑھ) کی حفاظت کے لیے 16 میٹر اونچی اور 4 میٹر چوڑی فصیلیں اور مختلف سمتی حفاظتی دروازے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان دروازوں میں سے ایک “شیراں والا گیٹ” بھی تھا، جس کا نام گیٹ کے بالای حصے پر شیروں کی ساخت کے مجسموں یا علامتوں کی موجودگی کے باعث پڑا۔ برطانوی دور کے بعد شہر کی آبادی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے سبب ان تاریخی گیٹس کے گرد نئی دکانیں اور مکانات قائم ہوتے گئے، جس کے نتیجے میں یہ تاریخی ورثہ نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گیا تھا۔ تاریخی اور فنِ تعمیر کا سائنسی جائزہ منظر عام پر آنے والے اس شیراں والا گیٹ کا فنِ تعمیر انیسویں صدی کے برصغیر اور بالخصوص سکھ اور شاہی دورِ حکومت کے طرزِ تعمیر کا عکاس ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس گیٹ کی بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں: قدیمی چھوٹے سائز کی سرخ اینٹیں: گیٹ کی تعمیر میں مخصوص چھوٹی سرخ اینٹوں اور روایتی چونا گارے کا استعمال کیا گیا ہے جو اس دور کی مضبوطی اور یکسانیت کو ظاہر کرتا ہے۔ محرابی دروازے اور کینگورے: گیٹ کی بالای ساخت میں خوبصورت محرابیں اور چھوٹے گنبد نما ڈیزائن شامل ہیں، جن کے اوپر علامتی نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ دفاعی اور تاریخی اہمیت: یہ گیٹ نہ صرف آمد و رفت کا ذریعہ تھا بلکہ قدیم دور میں شہر کی فصیل کا بنیادی حصہ تھا جس سے دشمن کے حملوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔ وقت کے اثرات: دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اینٹوں کا بڑا حصہ شکستہ ہو چکا ہے، جبکہ چھت پر خودرو جڑی بوٹیاں اور پودے اگ آئے ہیں جو عمارت کی پائیداری کے لیے خطرہ ہیں۔ ثقافتی ورثے کی حفاظت اور درپیش چیلنجز پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کا خطہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں، بشمول گندھارا، سکھ، مغل اور برطانوی ادوار کے تاریخی ورثے سے مالا مال ہے۔ تاہم، عدم توجہی، نامناسب منصوبہ بندی اور تجاوزات کے باعث ایسے متعدد تاریخی اثاثے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہری پور کا شیراں والا گیٹ سامنے آنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج اس عمارت کا تحفظ ہے۔ اگر اسے فوری طور پر سائنسی بنیادوں پر محفوظ نہ کیا گیا تو موسم کی سختی، بارشوں اور قریبی نئی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث یہ تاریخی ڈھانچہ زمین بوس ہو سکتا ہے۔ عوامی ردِعمل اور حکومتی محکموں سے مطالبات اس تاریخی گیٹ کے منظر عام پر آتے ہی ہری پور کے شہریوں، تاریخ دانوں، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں میں ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ اہلیانِ ہری پور نے اس دریافت کو شہر کی قدیم تاریخ کا روشن باب قرار دیا ہے۔ مقامی اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ ہری پور، صوبائی محکمہ آثارِ قدیمہ و سیاحت، اور حکومتِ خیبر پختونخوا سے درج ذیل ہنگامی مطالبات کیے گئے ہیں: عمارت کا فوری تحفظ: شیراں والا گیٹ کے ارد گرد مزید مسماری یا نئی تعمیرات کو فوراً روکا جائے تاکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ کیمیکل و فنی بحالی (ریسٹوریشن): محکمہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم بھیج کر اس تاریخی گیٹ کی اصل ہندوستانی طرزِ تعمیر کے مطابق کیمیکل اور فنی بحالی کا کام شروع کیا جائے۔ تجاوزات سے پاک سیاحتی مرکز: اس مقام کے گرد و نواح کو صاف ستھرا بنا کر ایک تاریخی و سیاحتی پوائنٹ کے طور پر تیار کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اور سیاح ہری پور کی دو سو سالہ قدیم تاریخ سے آگاہ ہو سکیں۔ تاریخی تختی کا قیام: گیٹ کی مکمل تاریخ، سنِ تعمیر اور بانی کے حوالے سے ایک آگاہی بورڈ نصب کیا جائے۔ اگر حکومت اور متعلقہ محکموں نے وقت پر اس تاریخی ورثے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کر لی، تو یہ اقدام نہ صرف ہری پور کے تاریخی تشخص کو زندہ رکھے گا بلکہ علاقے میں تاریخی سیاحت کی ترویج کا ذریعہ بھی بنے گا۔ Post navigation ہری پور مین بازار کی تاریخی تعمیر و کشادگی: عوامی مفاد کی جدوجہد، عدالتی مراحل اور سیاسی مخالفتوں کا سنہری باب تحصیل غازی میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن ساتویں روز بھی جاری: 18 کنال سرکاری اراضی واگزار، کروڑوں روپے کے قبضے ختم