اہم نکات ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر غازی جنید آفتاب کی زیرِ نگرانی انسدادِ تجاوزات مہم ساتویں روز بھی بلا تعطل جاری رہی۔ آپریشن کے دوران غازی بازار، خالو اور عیسیٰ روڈ کے اطراف سے پختہ و عارضی تجاوزات مسمار کر کے کروڑوں روپے مالیت کی 18 کنال اراضی واگزار کرائی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ حدود سے باہر سامان، شیڈز اور دیگر مانعِ ٹریفک ساختیں قائم کرنے سے مکمل پرہیز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تحصیل غازی کو تجاوزات سے پاک کرنے تک یہ مہم جاری رہے گی اور خلاف ورزی پر بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تحصیل غازی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا پس منظر ضلع ہری پور کی اہم اور تاریخی تحصیل غازی میں گزشتہ طویل عرصے سے تجارتی مراکز، مرکزی شاہراہوں اور سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ غازی بازار، خالو روڈ اور عیسیٰ روڈ جیسے اہم تجارتی راستوں پر دکانداروں اور تجارتی عناصر کی جانب سے پختہ شیڈز، تھڑے، اور سڑک کے حصوں پر سامان سجانے کی وجہ سے سڑکیں انتہائی تنگ ہو چکی تھیں۔ اس صورتحال کے باعث علاقے میں آئے روز شدید ٹریفک جام، حادثات اور پیدل چلنے والے راہگیروں کو سخت نقل و حرکت کی مشکلات کا سامنا تھا۔ شہریوں اور حقوقِ عامہ کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات اور قانون کی بالادستی کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ نے حتمی اور جامع حکمتِ عملی وضع کی، جس کے بعد اس وسیع پیمانے پر گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ ساتویں روز کی پیشرفت اور عملی اقدامات ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد کی واضح اور سخت ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر غازی جنید آفتاب نے بھاری مشینری، پولیس کی بھاری نفری اور بلدیاتی عملے کے ہمراہ خود میدان میں اتر کر آپریشن کی نگرانی کی۔ ساتویں روز کی کارروائی کے دوران غازی کے مرکزی بازار سے لے کر خالو اور عیسیٰ روڈ کے اطراف قائم تمام چھوٹی بڑی پختہ و عارضی تجاوزات کو بلاامتیاز مسمار کر دیا گیا۔ عملی کارروائی کے دوران انتظامیہ نے سڑک کے دائیں بائیں قائم پختہ دیواروں، لوہے کے شیڈز، چبوتروں اور عارضی تھڑوں کو مسمار کیا، جس سے سالہا سال سے گھری ہوئی سڑکیں کشادہ اور اپنے اصل خدوخال میں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ انتظامیہ کی اس بروقت کارروائی سے مرکزی بازار میں ٹریفک کی روانی میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ کارروائی کے اعداد و شمار اور نتائج سات روز سے جاری اس گرینڈ آپریشن کے اہم نتائج اور حاصل کردہ پیشرفت کو درج ذیل نکات کی صورت میں واضح کیا جاتا ہے: واگزار کرائی گئی اراضی: انتظامیہ کی سخت ترین کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 18 کنال سرکاری و عوامی اراضی ناجائز قبضوں سے پاک کرا لی گئی۔ اراضی کی مالیاتی قدر: واگزار کرائی گئی 18 کنال اراضی کی تخمینہ مالیت تجارتی اعتبار سے کروڑوں روپے بنتی ہے۔ متاثرہ اہم شاہراہیں: آپریشن کے ذریعے غازی بازار، خالو روڈ، اور عیسیٰ روڈ پر قائم تجاوزات کو یکسر ختم کیا گیا۔ مشینری اور نفری کا استعمال: آپریشن کو شفاف اور موثر بنانے کے لیے ہیوی مشینری، بلدیہ کے شعبہ تجاوزات کے اہلکاروں اور پولیس فورس کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ اسسٹنٹ کمشنر غازی کی دکانداروں کو سخت تنبیہ موقع پر صحافیوں اور مقامی تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر غازی جنید آفتاب نے انتظامیہ کے فیصلے اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح کیا۔ انہوں نے تمام دکانداروں اور تاجر برادری کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دکانوں کی قانونی حدود کا احترام کریں اور دکان سے باہر سامان رکھنے، حد سے زیادہ شیڈز لگانے یا سڑک پر عارضی مانع ساختیں کھڑی کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “تحصیل غازی میں انسدادِ تجاوزات کی یہ مہم کسی ایک دن یا ایک ہفتے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت تک بلا تعطل جاری رہے گی جب تک پورا علاقہ تجاوزات سے پاک نہیں ہو جاتا۔ قانون سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے اور دوبارہ تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے، سامان کی ضبطی اور پرچے درج کرنے جیسے سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں گے۔” عمومی تاثرات، اثرات اور سسٹین ایبلٹی کا چیلنج ضلعی انتظامیہ کے اس قدم کو تحصیل غازی کے عام شہریوں، طلباء، اور مسافروں کی جانب سے شدید پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے سے سڑکیں کشادہ ہو گئی ہیں اور اب پیدل چلنے اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں درپیش اذیت سے نجات ملی ہے۔ تاہم، صحافتی اور معروضی نقطہ نظر سے سب سے بڑا چیلنج اس آپریشن کے اثرات کو برقرار رکھنا (سسٹین ایبلٹی) ہے۔ ماضی میں بھی مختلف اضلاع میں ایسی مہمات چلائی جاتی رہی ہیں، لیکن انتظامیہ کے ہٹتے ہی قبضہ مافیا اور دکاندار دوبارہ سڑکوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، عوامی حلقوں نے تجویز دی ہے کہ: مسلسل نگرانی کا نظام: آپریشن کے بعد بلدیاتی اداروں اور پولیس کو پابند کیا جائے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر گشت کر کے دوبارہ تجاوزات نہ قائم ہونے دیں۔ حد بندی کی مستقل مارکنگ: سڑکوں کی حدود پر مستقل نشان دہی یا سفید رنگ کی لائنیں لگائی جائیں تاکہ دکانداروں اور گاہکوں کو اپنی حد کا معلوم رہے۔ متبادل جگہ کا قیام: ریڑھی بانوں اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے الگ سے مخصوص بازار یا اوقات متعین کیے جائیں تاکہ ان کا روزگار بھی بالکل ختم نہ ہو۔ اگر انتظامیہ اس تسلسل کو برقرار رکھتی ہے تو غازی کی یہ انسدادِ تجاوزات مہم دیگر تحسیلوں کے لیے بھی ایک نمونہ عمل ثابت ہوگی۔ Post navigation ہری پور کی تاریخی قدامت کی نئی علامت: “شیراں والا گیٹ” کا تاریخی ورثہ منظر عام پر آ گیا، آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ