اہم نکات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک عوامی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی عوام ان سے بیزار ہو گئے تو وہ اسرائیل نقل مکانی کر لیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اسرائیل میں انتہائی مقبول ہیں اور اگر وہاں کا انتخاب لڑیں تو ننانوے فیصد عوامی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس غیر معمولی بیان نے عالمی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں اس کے مختلف پہلوؤں پر تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ سیاست اس بیان کو ٹرمپ کے مخصوص سیاسی اندازِ گفتگو، امریکی ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور اسرائیل کے ساتھ اپنے مضبوط روابط کے اظہار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تعارف اور بیان کا پس منظر امریکی سیاست میں اپنے منفرد اور غیر متوقع جملوں کی وجہ سے ہمیشہ خبروں کی زد میں رہنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ایک حالیہ تقریب کے دوران اپنے مخصوص اور مزاحیہ لیکن فکر انگیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہری ان سے بیزار یا تنگ آ گئے، تو وہ اسرائیل منتقل ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسرائیل چلے جائیں تو وہاں کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں، کیونکہ وہاں کے لوگ ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کی مقبولیت کا تناسب ننانوے فیصد تک پہنچتا ہے۔ اگرچہ یہ بیان ایک شوخ طبعی یا سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات اور اس کے پسِ منظر میں چھپے سیاسی پیغامات نے وائٹ ہاؤس سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اہم حقائق اور بنیادی دعوے صدر ٹرمپ کے اس تازہ ترین بیان کے اہم نکات اور اس کے بنیادی قانونی و سیاسی پہلو درج ذیل ہیں: اقامت اور سیاسی منتقلی کا خیال: صدر ٹرمپ نے امریکہ میں ممکنہ سیاسی مخالفت یا عوامی بیزاری کی صورت میں اسرائیل کو اپنی اگلی رہائش گاہ کے طور پر پیش کیا۔ عوامی مقبولیت کا دعویٰ: انہوں نے اپنے اندازے کے مطابق اسرائیل میں اپنی مقبولیت کو ننانوے فیصد قرار دیا، جو کہ کسی بھی جمہوری ملک میں کسی غیر ملکی یا مقامی رہنما کے لیے ایک غیر معمولی اور حیران کن عددی دعویٰ ہے۔ وزیراعظم بننے کا عزم: ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ اسرائیل جا کر محض عام شہری کی حیثیت سے نہیں رہیں گے بلکہ وہاں کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے یعنی وزیراعظم کی نشست پر متمکن ہونے کی صلاحیت اور خواہش رکھتے ہیں۔ قانون و آئین کی حدبندی: بین الاقوامی اور اسرائیلی قوانین کے مطابق، کسی بھی شخص کے لیے اسرائیل کا وزیراعظم بننے کے لیے وہاں کی شہریت حاصل کرنا، مقامی پارلیمان کا رکن بننا اور سیاسی پارٹی کی قیادت کرنا لازمی ہے، جس کے باعث سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو عملی حقیقت سے زیادہ ایک سیاسی ڈرامائی جملہ قرار دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ٹرمپ کا ماضی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سمجھنے کے لیے ان کے سابقہ دورِ حکومت اور اسرائیل کے حوالے سے ان کی پالیسیوں پر نظر ڈالنا انتہائی ضروری ہے۔ اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران، ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی کے دہائیوں پرانے ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے چند ایسے فیصلے کیے تھے جنہوں نے اسرائیل میں ان کی مقبولیت کو عروج پر پہنچا دیا۔ 1. بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا امریکی تاریخ میں پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا باقاعدہ دارالحکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ اس قدم کو اسرائیل کے تمام سیاسی طبقوں نے سراہا تھا جبکہ عالمی برادری اور عرب دنیا کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ 2. ابراہیمی معاہدات کا قیام ٹرمپ کی زیرِ نگرانی اور کاوشوں سے اسرائیل اور کئی عرب ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان) کے درمیان تعلقات کی استواری کے لیے “ابراہیمی معاہدات” پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدات کو اسرائیل کے اندر ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا گیا جس نے خطے میں اسرائیل کی تنہائی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 3. جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کی توثیق سائبر اور زمینی سرحدوں کی حفاظت کے نام پر ٹرمپ انتظامیہ نے شام کی مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حقِ ملکیت کو تسلیم کیا، جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام میں ان کی ساکھ ایک انتہائی مخلص اور حامی دوست کی بن گئی۔ اسرائیلی عوام اور سیاست میں ٹرمپ کی مقبولیت کا جائزہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ننانوے فیصد مقبولیت کا دعویٰ ایک جذباتی اور مبالغہ آرائی پر مبنی عددی خاکہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مختلف بین الاقوامی تحقیقی اداروں اور رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیل کے اندر ٹرمپ کی مقبولیت واقعی بہت زیادہ ہے۔ اسرائیلی شہری بالخصوص دائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھنے والے افراد ٹرمپ کو تاریخ کا سب سے زیادہ “اسرائیل دوست” امریکی صدر مانتے ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود اسرائیلی سیاسی نظام انتہائی پیچیدہ اور منقسم ہے۔ وہاں کے پارلیمانی نظام میں کسی بھی ایک فرد کے لیے مطلق اکثریتی مقبولیت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے کیونکہ مختلف مذہبی، سکولر اور سیاسی گروپس کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس لیے، باوجود اس کے کہ عام عوام میں ان کے لیے ہمدردی موجود ہے، وہاں کا سیاسی نظام کسی غیر ملکی شخصیت کو براہِ راست اتنی بڑی مسند پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ امریکی داخلی سیاست اور انتخاب پر اثرات اس بیان کے امریکی داخلی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی ووٹرز اور سیاسی مبصرین اس بیان کو درج ذیل نظر سے دیکھ رہے ہیں: یہودی ووٹرز کو متوجہ کرنا: امریکہ میں موجود ایک بڑا اور بااثر یہودی ووٹر بنک ہمیشہ سے امریکی انتخابات میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے۔ ٹرمپ اس قسم کے بیانات کے ذریعے امریکی یہودیوں اور سخت گیر عیسائی نظریاتی گروہوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ تنقید اور مخالفین کا مؤقف: ڈیموکریٹک پارٹی اور ٹرمپ کے دیگر سیاسی مخالفین اس بیان کو امریکی قوم اور صدارتی عہدے کی توہین قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک امریکی صدر یا صدارتی امیدوار کا یہ کہنا کہ وہ ملک چھوڑ کر کسی اور ملک کا حکمران بن جائے گا، اس کے اپنے ملک اور آئین سے وفاداری پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی حکمتِ عملی: تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ میڈیا کس طرح کے بیانات کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسا متنازع بیان دے کر وہ نہ صرف خبروں کی سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کی توجه بھی اصل ملکی مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ عالمی ردِعمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ عالمی صحافتی منظرنامے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو ایک “سیاسی شعبدہ بازی” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں سربراہانِ مملکت کے بیانات انتہائی تول کر اور سوچ سمجھ کر دیے جاتے ہیں، لیکن ٹرمپ کا اندازِ بیان ہمیشہ سے روایتی سفارتی آداب سے الگ رہا ہے۔ اس بیان نے جہاں ایک طرف اسرائیل کے ساتھ ان کے جذباتی تعلق کو ظاہر کیا ہے، وہاں دوسری طرف یہ امریکی عوام میں ان کے خلاف پائے جانے والے تحفظات کو بھی ہوا دے سکتا ہے۔ صحافتی نقطہ نظر سے، خبر کی معروضیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس بیان کو صرف ایک پرگوئی یا سیاسی نعرے کے طور پر دیکھا جائے، کیونکہ آئینی، قانونی اور جیو پولیٹیکل حقائق کی روشنی میں اس کا عملی طور پر وقوع پذیر ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ حاصلِ کلام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ امریکہ چھوڑ کر اسرائیل کے وزیراعظم بن سکتے ہیں، ان کے منفرد اور متنازع سیاسی سفر کا ایک اور دلچسپ باب ہے۔ یہ بیان ٹرمپ کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس طرح ایک ہی جملے سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، سفارتی حلقوں اور عام عوام کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی ووٹرز ان کے اس بیان کو ایک تفریحی سیاسی جملہ سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں یا آنے والے ایام میں یہ ان کے خلاف ایک بڑا سیاسی حربہ بن کر سامنے آتا ہے۔ Post navigation سابق سینیٹر مشتاق احمد اور ان کی اہلیہ کے درمیان ازدواجی رشتہ ختم، فیملی کورٹ کا خلع کا فیصلہ ایران پر حتمی فیصلے سے قبل امریکی انتظامیہ میں تقسیم: ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں اور سفارتی حکمتِ عملی کا جامع جائزہ