Preloader
Newton would have Joined PML-N If he’d been Alive Today

اہم نکات

  • وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمان نے ایک متنازع اور عجیب دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر برطانوی سائنس دان نیوٹن آج زندہ ہوتے تو وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بجائے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا انتخاب کرتے۔
  • معاونِ خصوصی کا ماننا ہے کہ نیوٹن نواز شریف کے فکری اور سیاسی نظریات سے متاثر ہو کر حکمران جماعت کا حصہ بننا پسند کرتے۔
  • اس غیر معمولی اور اچھوتے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں دلچسپ بحث، طنز و مزاح اور تنقید کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
  • سیاسی ماہرین اس قسم کے بیانات کو سنجیدہ سیاسی بیانیے کے بجائے عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔

تعارف اور خبر کا بنیادی پس منظر

پاکستان کی قومی سیاست میں بیانات اور سیاسی نعرے بازی کا ایک اپنا ہی رنگ رہا ہے، جہاں رہنما اکثر و بیشتر اپنے مخالفین کو مات دینے یا اپنی جماعت کی تعریف میں عجیب و غریب اور نادر مثالیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف سیاسی افق بلکہ عام عوام کو بھی حیرت اور استعجاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمان نے ایک گفتگو کے دوران یہ حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے معروف سائنس دان اور ریاضی دان اسحاق نیوٹن اگر آج کے دور میں بقیدِ حیات ہوتے، تو وہ پاکستان کی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بجائے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرتے۔ معاونِ خصوصی کے مطابق نیوٹن جیسا عبقری انسان عمران خان کی جماعت کے بجائے سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی سوچ اور نظریات میں اپنا سیاسی مسکن تلاش کرتا۔

معاونِ خصوصی کا بیان اور بنیادی دعوے

حذیفہ رحمان نے اپنے بیان میں جن امور اور دلائل پر تکیہ کرتے ہوئے تاریخی سائنس دان کی سیاسی وابستگی کا خاکہ پیش کیا، ان کی تفصیلات درج ذیل نکات میں پیش کی جاتی ہیں:

  • سائنس دان کی سیاسی وابستگی کا قیاس: حذیفہ رحمان کا کہنا تھا کہ نیوٹن جیسے عقل و شعور رکھنے والے مفکر کبھی بھی غیر مستحکم یا ہیجان انگیز سیاست کا حصہ نہیں بنتے۔
  • مسلم لیگ (ن) کا انتخاب: ان کے دعوے کے مطابق نیوٹن کی سیاسی ہمدردیاں مسلم لیگ (ن) کی تعمیر و ترقی، معاشی توازن اور طویل المدتی منصوبوں کی پالیسی کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتیں۔
  • تحریکِ انصاف پر تنقید: انہوں نے اشارتاً یہ بات بھی کہی کہ پی ٹی آئی کی سیاست جذباتی نعروں پر مبنی ہے، جو نیوٹن جیسے منطقی اور سائنسی سوچ کے حامل شخص کے مزاج سے میل نہیں کھاتی۔

تاریخی پس منظر: اسحاق نیوٹن کون تھے؟

اس غیر معمولی سیاسی بیان کو سمجھنے کے لیے سائنس کے تاریخ دانوں اور عام قارئین کے لیے سر اسحاق نیوٹن کی تاریخی حیثیت کو جاننا ضروری ہے:

  • سائنسی خدمات: سر اسحاق نیوٹن سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے عظیم انگریز فزکس دان، ریاضی دان اور فلکیات دان تھے۔ انہوں نے حرکت کے تین بنیادی قوانین اور ثقالت (کششِ ثقل) کا عالمی قانون پیش کیا جس نے جدید سائنس کی بنیاد رکھی۔
  • سیاسی کیریئر: بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نیوٹن اپنی زندگی کے آخری ایام میں برطانیہ کی پارلیمان کے رکن اور شاہی ٹکسال کے سربراہ بھی رہے، تاہم ان کی پہچان اور بنیادی شناخت محض سائنس، ریاضی اور علمی تحقیق ہی رہی۔
  • زمانے کا فرق: نیوٹن کا انتقال سترہ سو ستائیس میں ہوا، یعنی ان کی وفات کو تقریباً تین سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ایسے میں صدیوں پرانی شخصیت کا موازنہ اکیسویں صدی کے ملکی سیاسی حالات اور مقامی جماعتوں سے کرنا ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی کوئی منطقی یا سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے۔

عوامی اور سوشل میڈیا پر ردِعمل

حذیفہ رحمان کا یہ بیان سامنے آتے ہی ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایک طوفان آ گیا۔ مختلف طبقات کی جانب سے اس بیان پر گوناگوں ردِعمل دیکھنے کو ملا:

1. طنز و مزاح کی لہر

سوشل میڈیا کے صارفین نے اس بیان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انتہائی دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے کیے:

  • کچھ صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر نیوٹن مسلم لیگ (ن) میں ہوتے تو کیا وہ حرکت کے اپنے تین قوانین کے بعد “سیاسی وفاداری کی تبدیلی” کا کوئی نیا قانون بھی پیش کرتے؟
  • بعض کا کہنا تھا کہ سیب کے درخت سے نیچے گرنے اور کششِ ثقل دریافت کرنے والے نیوٹن کو شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا نام صدیاں بعد ایک ایشیائی ملک کے سیاسی بیان میں اس انداز سے استعمال ہوگا۔

2. اپوزیشن کا شدید ردِعمل

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور حامیوں نے اس بیان پر سخت تنقید کی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ نہیں بچا، اسی لیے وہ اب تین سو سال پرانی شخصیات کا سہارا لے کر اپنی جماعت کی قبولیت ثابت کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے اسے حکومتی بیانیے کی فکری مفلسی قرار دیا۔

پاکستانی سیاست میں انوکھے بیانات کی روایت

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں کسی سیاسی رہنما یا سرکاری عہدیدار نے ایسا عجیب یا خلافِ عقل دعویٰ کیا ہو۔ ملکی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں جو بعد میں عوام کے لیے تفریح اور تنقید کا سامان بنتے ہیں:

  • تاریخی شخصیات کے حوالے: اکثر اوقات قومی رہنماؤں کا موازنہ حضرت عیسیٰ، علامہ اقبال یا قائدِ اعظم سے کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
  • سائنسی اور مذہبی ملاپ: بعض اوقات قدرتی آفات، معاشی بحرانوں یا سائنسی دریافتوں کو اپنے سیاسی بیانیے کے موافق ڈھالنے کے لیے غیر منطقی مثالیں دی جاتی ہیں۔
  • توثیق کا بحران: تجزیہ کاروں کے مطابق جب سیاسی جماعتیں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوتی ہیں یا عوامی مقبولیت کا بحران کا شکار ہوتی ہیں، تو وہ غیر متعلقہ تاریخی و عالمی علامتوں کا سہارا لینے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ اور صحافتی نقطہ نظر

ایک غیر جانبدارانہ اور باوقار صحافتی زاویے سے دیکھا جائے تو سیاسی رہنماؤں کو عوامی پلیٹ فارمز پر گفتگو کرتے وقت اپنے الفاظ اور مثالوں کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔

  • سیاسی سنجیدگی کا تقاضا: سرکاری عہدوں اور خصوصاً وزیراعظم کے معاونین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کی حقیقی معاشی صورتحال، افراطِ زر، روزگار اور عوامی مسائل پر بات کریں۔
  • بین الاقوامی تاثر: اس قسم کے بیانات عالمی سطح پر ملکی سیاسی سنجیدگی کے متعلق غلط تاثر قائم کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک ذرائع ابلاغ جب اس قسم کی خبروں کو جگہ دیتے ہیں تو اس سے ملکی سیاست کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
  • عوامی ترجیحات سے دوری: ایسے وقت میں جب عام شہری بجلی کے بلوں، مہنگائی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، نیوٹن کی سیاسی وابستگی پر بحث کرنا عوامی مسائل سے چشم پوشی کے مترادف لگتا ہے۔

حاصلِ کلام

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمان کا نیوٹن سے متعلق بیان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور انوکھے واقعے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ اس بیان نے وقتی طور پر میڈیا کی توجہ حاصل کر لی اور حکمران جماعت کے کچھ حامیوں نے اسے سیاسی نقطہ آفرینی قرار دیا، لیکن مجموعی طور پر عوام اور سائنسی و سیاسی ماہرین نے اسے غیر منطقی اور مزاحیہ قیاس آرائی ہی سمجھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سیاست میں خیالی اور مفروضاتی بیانات کے بجائے واقعی مسائل اور حقائق پر مبنی بحث کو فروغ دیا جائے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔