Preloader
New provinces, old solutions

اہم نکات

  • بین الاقوامی مالیاتی و ترقیاتی اداروں کے ماہرین نے پاکستان کو ایک ایسے عظیم ملک سے تعبیر کیا ہے جہاں کے فیصلے غیر سنجیدہ پالیسی سازوں کے ہاتھ میں رہے ہیں۔
  • پاکستان میں نئے انتظامی صوبوں کا قیام ایک عرصے سے سیاسی اور انتظامی بحث کا مرکز ہے، مگر اسے محض نعرے بازی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
  • آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ ادھورا ہے، جس کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکمرانی کا فریم ورک شدید متاثر ہوا ہے۔
  • مسائل کا اصل حل محض نئے جغرافیائی صوبے بنانے میں نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے اور گراس روٹ لیول پر اختیارات کی منتقلی میں مضمر ہے۔

تعارف اور موضوع کا پس منظر

کئی برس پہلے ایک کثیر القومی ترقیاتی بینک کے سینئر عہدیدار نے پاکستان کی حکمرانی اور انتظامی صورتحال پر ایک سخت اور فکر انگیز تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ “پاکستان ایک انتہائی اہم اور بڑا ملک ہے لیکن بدقسمتی سے اسے ناتجربہ کار اور غیر سنجیدہ پالیسی ساز طبقہ چلا رہا ہے۔” اگرچہ یہ بات ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی گئی تھی، لیکن اگر ملکی تاریخ اور انتظامی زوال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کڑوی سچائی آج بھی اتنی ہی سچی اور حقیقت پر مبنی محسوس ہوتی ہے جتنی پچھلی دہائیوں میں تھی۔

پاکستان اس وقت انتظامی، معاشی اور حکمرانی کے شدید بحرانوں کا شکار ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں سے ایک سب سے نمایاں تجویز “نئے صوبوں کی تشکیل” کی ہے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی نئے انتظامی خطے قائم کر دینے سے عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے یا پھر ہم پرانے اور ناکام نسخوں کو نیا نام دے کر ایک بار پھر بنیادی نقائص سے نظریں چرا رہے ہیں؟

نئے صوبوں کی بحث: سیاسی نعرے بازی یا حقیقی ضرورت؟

پاکستان میں نئے صوبوں خصوصاً جنوبی پنجاب، ہزارہ، اور سندھ کے بعض شہری علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ دہائیوں پرانا ہے۔ اس مطالبے کے پیچھے دو بنیادی نظریات کام کر رہے ہیں:

1. انتظامی سہولت کا نقطہ نظر

ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو ایک ہی دارالحکومت (لاہور) سے چلانا ایک مشکل اور پیچیدہ امر ہے۔ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو اپنے معمولی انتظامی کاموں کے لیے صدورِ مقام کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور مالی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔

2. سیاسی اور جذباتی نعرہ

بدقسمتی سے، سیاسی جماعتوں نے اس حقیقی انتظامی ضرورت کو صرف الیکشن جیتنے کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہر انتخاب سے قبل نئے صوبے کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس معاملے کو برف خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ آئینی ترمیم اور پارلیمانی دو تہائی اکثریت کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر تمام تر ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔

انتظامی و معاشی حقائق پر مبنی ڈیٹا اور اعداد و شمار

پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے اور صوبائی ناہمواریوں کے چند اہم اور واضح حقائق درج ذیل ہیں:

  • آبادی کا غیر متوازن پھیلاؤ: ملکی آبادی کا پچاس فیصد سے زائد حصہ صرف ایک صوبے میں مقیم ہے، جبکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ملکی رقبے کا چوالیس فیصد ہونے کے باوجود آبادی کے شدید کم تناسب کا حامل ہے۔
  • ترقیاتی فنڈز کی عدم مساوات: صوبائی بجٹ کا اسی فیصد سے زائد حصہ صوبائی دارالحکومتوں اور ان کے گرد و نواح کی تزیین و آرائش پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ دور افتادہ اضلاع بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
  • صوبائی محاصل کا نظام: صوبے اپنی کل مالی ضروریات کے لیے اسی سے نوے فیصد تک وفاقی قابلِ تقسیم پول (این ایف سی ایوارڈ) کے مرہونِ منت ہیں، اور اپنے ذاتی محاصل جمع کرنے کا نظام انتہائی کمزور ہے۔
  • بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی: ملک کے ساڑھے تین سو سے زائد اضلاع میں فعال، بااختیار اور مالی طور پر خود مختار بلدیاتی نظام کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے تمام تر دباؤ صوبائی اسمبلیوں پر پڑتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم اور ادھورا خواب

سال دو ہزار دس میں منظور کی جانے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد وفاق سے اختیارات لے کر صوبوں کو منتقل کرنا تھا تاکہ علاقائی خود مختاری اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں۔

اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو مالیاتی اور انتظامی لحاظ سے زیادہ اختیارات ملے، لیکن صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھے حکمران طبقات نے ان اختیارات کو اضلاع اور یونین کونسلوں تک منتقل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ یوں، جو اختیارات اسلام آباد سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ منتقل ہوئے تھے، وہ انہی چاروں شہروں کے سیکرٹریٹ میں قید ہو کر رہ گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام تک واقعی اختیارات کی منتقلی نہ ہو سکی اور انتظامی زوال مزید گہرا ہو گیا۔

پرانے حل اور بنیادی خامیاں

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے تو بنیادی اصلاحات کے بجائے سطحی اقدامات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نئے صوبوں کا قیام اگر درج ذیل اصلاحات کے بغیر کیا گیا تو یہ ایک نیا انتظامی بوجھ ثابت ہو گا:

  • نئے بیوروکریسی کے اخراجات: نیا صوبہ بنانے کا مطلب نئے گورنر ہاؤسز، وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر، سیکرٹریٹ، پولیس کے سربراہان اور سرکاری گاڑیوں کا ایک نیا لشکر تیار کرنا ہے، جس کے اخراجات غریب عوام کے ٹیکسوں سے پورے کیے جائیں گے۔
  • جغرافیائی اور لسانی تنازعات: بغیر کسی سنجیدہ قومی اتفاقِ رائے کے نئے حدود کا تعین لسانی اور قومیتی فسادات کا باعث بن سکتا ہے، جو کہ ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہو گا۔
  • معاشی عدم استحکام: نئے صوبوں کی قائم پذیری کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس اپنے مالی وسائل ہوں، ورنہ وہ وفاق کے لیے ایک اور مستقل مالی بوجھ بن جائیں گے۔

حقیقی حل: مقامی حکومتوں کا مضبوط اور بااختیار نظام

بین الاقوامی ماہرین اور مقامی دانشمند طبقے کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ مسائل کا واقعی اور پائیدار حل نیا جغرافیہ تراشنے میں نہیں بلکہ مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کو فعال اور طاقتور بنانے میں پوشیدہ ہے:

1. بلدیاتی نظام کی آئینی تحفظ و بحالی

دنیا کے تمام کامیاب اور ترقی یافتہ ممالک میں صفائی، پینے کا پانی، ابتدائی تعلیم، صحت اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت جیسے تمام امور بلدیاتی کونسلوں اور میئرز کے پاس ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جب تک بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ اور مالی خود مختاری نہیں دی جائے گی، تب تک نئے صوبے بنانے سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

2. مالیاتی اختیارات کی ضلعی منتقلی

جس طرح وفاق سے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے فنڈز ملتے ہیں، اسی طرح صوبوں کے اندر پبلک فنانس مینجمنٹ کے تحت “صوبائی فنانس کمیشن” (پی ایف سی) کو فعال کر کے فنڈز کی براہِ راست اضلاع کو منتقلی کو قانونی لازمی امر بنانا ہوگا۔

3. سول سروس اور پولیس اصلاحات

عوامی خدمت کے اداروں اور بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہوگا تاکہ انتظامی فیصلے سیاسی پسند و ناپسند کے بجائے عوامی ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر ہو سکیں۔

حاصلِ کلام و ایڈیٹوریل تجزیہ

غیر ملکی مالیاتی ادارے کے اس عہدیدار کا تبصرہ آج بھی ملکی حکمرانوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ نہیں ہے کہ یہاں وسائل یا صلاحیت کی کمی ہے، بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کے پالیسی ساز ہمیشہ مستقل اور بنیادی حل تلاش کرنے کے بجائے عارضی اور سطحی اقدامات پر تکیہ کرتے ہیں۔

نئے صوبوں کی تشکیل اگر محض سیاسی نمبر گیم اور بیوروکریسی کا سائز بڑھانے کے لیے کی جائے گی تو یہ ملک کو مزید معاشی تباہی کی طرف دھکیلے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملکی قیادت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر گراس روٹ لیول پر اختیارات کی منتقلی، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور غیر ضروری سرکاری اخراجات پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہو، تاکہ یہ عظیم ملک واقعی اپنے پوٹینشل کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔