Preloader
Sakardu murder case dropscene

خبر کے اہم نکات

  • سفاکانہ واقعہ: گلگت بلتستان کے شہر سکردو میں میاں، بیوی اور ان کے دو معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
  • کامیاب چھاپہ مار کارروائی: کرم پولیس نے لوئر کرم کے علاقے سمیر حسن علی کلے میں کارروائی کرتے ہوئے دو نامزد مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
  • اعلیٰ حکام کا نوٹس: انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کی ہدایات پر قائم کی گئی خصوصی ٹیم نے پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس اندھے قتل کیس کو ٹریس کیا۔
  • قانونی منتقلی: کرم پولیس نے ابتدائی تفتیش اور تمام تر قانونی ضوابط مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو سکردو پولیس کے سپرد کر دیا۔

سکردو میں اندوہناک سانحہ: ایک ہنستا ہوا خاندان اجڑ گیا

گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان کے خوبصورت اور پرامن علاقے سکردو میں ایک ایسا دل خراش اور اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے خطے کو دہلا کر رکھ دیا۔ نا معلوم جابر عناصر نے ایک ہی گھرانے کے چار افراد—جن میں میاں، ان کی اہلیہ اور دو انتہائی کم سن بچے شامل تھے—کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد ملزمان نہایت چالاکی کے ساتھ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

ابتدائی معلومات اور تحقیقات کے مطابق مقتول شخص کا تعلق مقامی طور پر سکردو سے تھا جبکہ ان کی اہلیہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے مرکزی شہر پاراچنار کی رہائشی تھیں۔ اس سانحے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور عوام کی جانب سے درندوں کی فوری گرفتاری اورانہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے شدید احتجاجی مطالبات سامنے آنے لگے۔

اعلیٰ حکام کا نوٹس اور خصوصی تفتیشی ٹیم کی تشکیل

واقعے کی سنگینی اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سکردو پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔ تفتیش کے دوران جب تاریں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم سے جڑتی ہوئی محسوس ہوئیں تو سکردو پولیس کی جانب سے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

آئی جی پی خیبر پختونخوا نے واقعے کا فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ شاکر حسین داوڑ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرم ڈاکٹر سعد آفریدی کو ملزمان کی کسی بھی قیمت پر گرفتاری کے لیے واضح اور اضطراری ہدایات جاری کیں۔

ڈی پی او کرم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اور منظم پولیس فورس پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی، جس کی قیادت ایس پی لوئر کرم نصیر علی خان اور فلک نواز بنگش کو سونپی گئی۔ اس تفتیشی اور آپریشنل ٹیم میں درج ذیل افسران اور اہلکار شامل تھے:

  • ڈی ایس پی سرکل: عنایت خان اور مظہر علی
  • ایس ایچ اوز: افتخار احمد (تھانہ سمیر)، زائد حسین طوری (تھانہ آگرہ)، اور عبید الرحمٰن (تھانہ صدہ)
  • معاون اہلکار: اے ایس ایچ او ارشاد حسین
  • دیگر فورس: ایلیٹ فورس کے تربیت یافتہ جوان، لیڈی پولیس کی اہلکار اور بھاری پولیس نفری۔

لوئر کرم میں کامیاب چھاپہ اور ملزمان کی گرفتاری

خصوصی پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط، خفیہ اطلاعات اور تکنیکی وسائل کا سہارا لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔ پولیس نے دن رات ایک کرتے ہوئے لوئر کرم کے حساس علاقے سمیر حسن علی کلے میں ایک کامیاب اور حکمت عملی سے بھرپور چھاپہ مارا اور اندھے قتل کے اس خوفناک کیس میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے:

  1. سید رجب حسین ولد بادشاہ حسین (سکندر/رہائشی: حسن علی کلے، سمیر)
  2. سید حلیم حسین ولد بادشاہ حسین (سکندر/رہائشی: حسن علی کلے، سمیر)

یہ دونوں ملزمان اپنوں ہی کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اپنے علاقے میں روپوش ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم کرم پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کے فرار یا روپوش رہنے کے تمام راستے بند کر دیے۔

پیشہ ورانہ تفتیش اور قانونی تقاضوں کی تکمیل

گرفتاری کے بعد کرم پولیس نے ملزمان سے انتہائی پیشہ ورانہ، قانونی اور جدید سائنسی انداز میں تفتیش کی۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے ایسے اہم انکشافات اور حقائق پر سے پردہ اٹھایا جس کی بنیاد پر اس اندھے اور گمنام کیس کی کڑیاں یکے بعد دیگرے کھلتی چلی گئیں۔ کرم پولیس کی محنت، مہارت اور لازوال حکمت عملی کے نتیجے میں یہ پیچیدہ کیس کم سے کم وقت میں حل ہو گیا۔

پولیس انتظامیہ نے قانونی ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری کارروائی اور دستاویزی مراحل مکمل کیے۔ اس کے بعد گرفتار دونوں مرکزی ملزمان کو مزید تفتیش، چالانی اور عدالت میں پیشی کے لیے باقاعدہ طور پر سکردو پولیس کے سپرد کر دیا گیا تاکہ مقدمے کی مزید کارروائی اس علاقے کی حدود میں آگے بڑھائی جا سکے جہاں جرم سرزد ہوا تھا۔

سماجی اثرات اور عوام کا ردِعمل

اس دردناک واقعے نے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی شدئد غم و غصے میں مبتلا کر دیا تھا۔ میاں، بیوی اور ان کے ساتھ دو بے گناہ بچوں کا قتل ایک ایسا جرم تھا جس نے انسائیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ عوامی حلقوں، سماجی تنظیموں اور شہری معاشرے کی جانب سے کرم پولیس کی اس تیز رفتار اور کامیاب کارروائی کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ کرم پولیس نے جس ذمہ داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو دبوچا ہے، اس سے قانون پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس قسم کی کارروائیوں سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ جرم کرنے والے چاہے جتنی بھی دور بھاگ جائیں، قانون کے لمبے ہاتھ بالاخر ان کی گردن تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔

پلیس کا موقف اور غم زدہ خاندان سے ہمدردی

کرم پولیس کے ترجمان اور اعلیٰ حکام نے اس موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پولیس فورس اس اندوہناک اور غم انگیز واقعے کے متاثرہ اور غم زدہ لواحقین کے دکھ اور صدمے میں برابر کی شریک ہے۔

پولیس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مظلوم خاندان کو انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عدالت عالیہ میں مضبوط شواہد پیش کر کے ملزمان کو ان کے کیے کی سخت سے سخت سزا دلوائی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسے سفاکانہ اور شقی القلب اقدام کی جرأت نہ کر سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔