Preloader
Jui head addresses national education conference

خبر کے اہم نکات

  • حکومتی پابندیاں اور تعلیمی اجتماعات: مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کرنا حکمرانوں کی تعلیم اور طلبہ سے بے توجہی کا واضح ثبوت ہے۔
  • احتساب اور سیاسی زندگی: انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی چونتیس سالہ طویل سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوا اور موجودہ اداروں کا احتساب صرف انتقامی کارروائیوں پر مبنی ہے۔
  • وسائل اور صوبائی حقوق: رہنما جے یو آئی نے خبردار کیا کہ قبائلی علاقوں، معدنی ذخائر اور صوبائی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششیں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
  • دینی مدارس اور نظریہ: دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدارس سے وابستہ شخصیات انسانیت کی اصل رہنمائی کرتی ہیں۔

قومی تعلیمی کانفرنس کا پس منظر اور سیاسی پس منظر

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی قومی تعلیمی کانفرنس اس وقت ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ اختیار کر گئی جب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس اسٹیج سے حکومتی پالیسیوں، ریاستی اداروں کے رویوں اور ملک کی موجودہ سمت پر کھل کر بات کی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد اگرچہ تعلیمی مسائل اور اداروں کی بہتری پر غور کرنا تھا، تاہم اس موقع پر دی جانے والی تقریر نے ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران ملک میں تعلیم، دینی مدارس کے انتظامات، صوبائی وسائل اور انتظامی فیصلوں پر مختلف طبقات کی طرف سے جو تشویش پائی جاتی ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں انہی تمام نکتوں کو باضابطہ طور پر اٹھایا۔ یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں معاشی بحران، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور سیاسی کشمکش عروج پر ہے۔

طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی آزادی پر پابندیاں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے طلبہ اور اساتذہ کو اپنے علمی و فکری اجتماعات منعقد کرنے سے روکنا اس بات کا عکاس ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں تعلیم اور تربیت کی کوئی خاص قدر و منزلت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تربیت کے بغیر معاشرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور انسانیت ادھوری رہ جاتی ہے۔

مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں ایسے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں جن کا عام عوام اور تعلیمی طبقے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ فیصلے کرنے والے نامعلوم افراد کے بارے میں سب جانتے ہیں، اور ان اداروں کے اقدامات سے حکومت خود اپنے خلاف عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کر رہی ہے۔

سیاسی شفافیت اور احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں

اپنی چونتیس سالہ طویل سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتنی طویل مدت میں ان پر کرپشن کا کوئی مقدمہ یا الزام ثابت نہیں ہو سکا اور وہ کبھی کسی عدالت کے سامنے مجرم کی حیثیت سے پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک بار ختمِ نبوت کے تقدس کے معاملے پر انہیں عدالت کا رخ کرنا پڑا تھا۔

احتساب کے اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ شفاف احتساب نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام سیاستدانوں پر تو کڑی نظر رکھی جاتی ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں کروڑوں اور اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے حکمرانوں سے کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ مقدمات اور سزاؤں کے باوجود وفاداری کا اعلان کرتے ہی تمام جرائم دھل جاتے ہیں، جو کہ ملکی نظام کی غیر جان داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

دینی مدارس، نظریہ اور شریعت کا تصور

دینی مدارس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مدارس کو سرکاری کنٹرول یا دباؤ میں لانے کی گھناؤنی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس محض مولوی پیدا کرنے کے مراکز نہیں ہیں بلکہ یہ وہ ادارے ہیں جو معاشرے کو اخلاقیات، دین کی تعلیم اور انسانی زندگی کی درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ علمائے دین انبیاء کے سچے وارث ہیں جن کا مقصد دولت کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مکمل سیاسی، معاشی اور سماجی نظام موجود ہے۔ قرآن پاک کا بنیادی تصور آزادی، معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کے حقوق کا محافظ ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے اپنے مفادات کے تحت قانون سازی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو مسلسل نظرانداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دینی اور اخلاقی اقدار سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔

صوبائی وسائل، معدنی ذخائر اور قبائلی علاقوں کے مسائل

خیبر پختونخوا میں حالیہ انتظامی صورتحال اور دیگر امور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسی کیفیت پیدا کرنے کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی میں کمی کے بجائے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے بجائے وہاں کے قیمتی معدنی ذخائر پر قبضہ جمانا تو نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ:

  • ہمارے پہاڑوں کے قیمتی معدنی ذخائر، ساحل اور جزائر کو کسی کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا रही ہے۔
  • صوبوں کے مالیاتی وسائل اور این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی کی کوششیں جاری ہیں۔
  • قبائلی علاقوں کے انضمام کے دس سال بعد اب خود اس فیصلے کے نتائج کو غلط قرار دیا جا رہا ہے۔

جمہوری جدوجہد اور مستقبل کا عزم

خطاب کے آخر میں مولانا فضل الرحمٰن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی جماعت کسی کی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ انگریز دور کی آزادی کی تحریک کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانوں کے ہتھکنڈے اور دباؤ کے حربے پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ناکام رہیں گے۔ تحریک تشدد کا نام نہیں بلکہ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی اور حکومت کو تمام تر تشویش پر عوام اور سیاسی قیادت کو مطمئن کرنا ہوگا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔