Preloader
Action against drugs mafia demanded

اہم نکات:

  • کراچی میں تھانہ کے آئی اے (کورنگی انڈسٹریل ایریا) کی حدود میں امتیاز سپر مارکیٹ کے سامنے پل کے نیچے گٹکا ماوا کی مبینہ کھلے عام فروخت جاری ہونے کے الزامات۔
  • علاقہ مکینوں اور مقامی ذرائع کے مطابق مولا داد کے مبینہ کیبن پر منشیات و ممنوعہ اشیاء کی فروخت پر پولیس کی خاموشی پر شہریوں میں تشویش۔
  • مبینہ طور پر ہفتہ وار 50 ہزار روپے کی پولیس “بیٹ” کا ادعا، تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور قانونی تصدیق ہونا باقی ہے۔
  • شہریوں کا آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے محض علامتی کارروائی کے بجائے مرکزی سپلائی نیٹ ورک اور ریکیٹ کے خاتمے کا زوردار مطالبہ۔
  • کراچی میممنوعہ اشیاء کی مبینہ فروخت

کراچی میں مضرتِ رساں اشیاء کا پھیلاؤ اور امن و امان کی صورتحال

پاکستان کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی میں گٹکا، ماوا، اور دیگر مضرِ صحت اشیاء کی فروخت نہ صرف عوامی صحت کے لیے ایک بڑا تازیانہ ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی مسلسل ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ حکومتِ سندھ اور عدالتِ عالیہ کی جانب سے گٹکا و ماوا کی تیاری اور خرید و فروخت پر سخت ترین پابندی کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں اس ممنوعہ کاروبار کے نیٹ ورکس کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صنعتی علاقے کورنگی اور اس سے ملحقہ تھانہ کے آئی اے (KIA) کی حدود میں گٹکا ماوا کی مبینہ کھلے عام فروخت نے پولیس انتظامیہ کے مانیٹرنگ اور چیکنگ کے نظام کو ایک بار پھر نقطۂ نظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ مقامی شہریوں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات کے قریبی پوائنٹس پر اس قسم کے کاروبار کا چلنا نہ صرف نو جوان نسل کے لیے تباہ کن ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

مولا داد کیبن اور مبینہ پولیس سرپرستی کا معمہ

روزنامہ فلک ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات اور علاقائی ذرائع کے دعووں کے مطابق، تھانہ کے آئی اے کی حدود میں امتیاز سپر مارکیٹ کے سامنے واقع پل کے نیچے ایک کیبن (جسے مولا داد کا کیبن بتایا جاتا ہے) گٹکا ماوا کی مبینہ فروخت کے مرکزی نقطے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے سنگین دعویٰ مبینہ پولیس سرپرستی کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق:

  • ہفتہ وار بھتہ/بیٹ کا الزام: دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ کیبن سے مبینہ طور پر 50 ہزار روپے ہفتہ وار کی رقم بطور “بیٹ” وصول کی جاتی ہے تاکہ کارروائی سے بچا جا سکے۔
  • بیٹر کی نشاندہی: مقامی ذرائع بیٹر پی سی شہزاد کے نام کا حوالہ دیتے ہیں، جس کے ذریعے رقم کی منتقلی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
  • ایڈیٹوریل نوٹ و تصدیق: ایک ذمہ دارانہ اور غیر جانبدارانہ صحافتی اصول کے تحت اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس مبینہ رقم اور پولیس سرپرستی کی فی الوقت کوئی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یہ تمام باتیں مقامی سطح پر سامنے آنے والے الزامات پر مبنی ہیں، جن کی حقیقت شفاف انکوائری کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔

چھوٹے کارندوں کی گرفتاری بمقابلہ اصل ڈیلرز کا تحفظ

علاقائی مکینوں اور تجارتی برادری نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جب بھی پولیس پر عوامی یا میڈیا کا دباؤ بڑھتا ہے، تو اکثر اوقات علامتی یا ستحی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

کارروائیوں کے اس روایتی پیٹرن کے حوالے سے درج ذیل نکتہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں:

  1. محدود کارروائی: پولیس اکثر اوقات محض چند سو روپے کے گٹکے بیچنے والے ریلے والوں یا چھوٹے کارندوں کو گرفتار کر کے ان پر معمولی دفعات کے تحت مقدمات درج کرتی ہے۔
  2. بڑے سپلائرز کی پردہ پوشی: مینوفیکچررز، بڑے ہول سیل ڈیلرز اور سپلائی چین فراہم کرنے والے عناصر کو منظرِ عام سے ہٹا دیا جاتا ہے یا انہیں بچا لیا جاتا ہے۔
  3. نیٹ ورک کا برقرار رہنا: اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کچھ ہی دنوں بعد وہی پوائنٹس کسی نئے کارندے کے ساتھ دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں اور گٹکا ماوا کا کالا دھندہ جوں کا توں جاری رہتا ہے۔

گٹکا ماوا کے استعمال کے سائنسی اور سماجی اثرات

کراچی میں گٹکا اور ماوا محض ایک جرم نہیں بلکہ صحت کا ایک انتہائی سنگین بحران بن چکا ہے۔ طبی ماہرین اور کینسر اسپتالوں کی رپورٹس کے مطابق سندھ میں منہ اور گلے کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ یہی ممنوعہ اشیاء ہیں۔

موجودہ صورتحال کے بنیادی اعداد و شمار اور طبی حقائق درج ذیل ہیں:

  • طبی خطرات: ماوا اور گٹکا میں استعمال ہونے والا کیمیکل اور چھالیہ منہ کے کینسر (Oral Cancer)، سب میوکس فائبروسس (Submucous Fibrosis)، اور گردوں کی بیماریوں کا بنیادی سبب ہے۔
  • متاثرہ طبقہ: ان اشیاء کا شکار سب سے زیادہ 15 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان اور محنت کش طبقہ ہو رہا ہے، جو اپنی خون پسینے کی کمائی ان زہریلی اشیاء پر لٹا دیتے ہیں۔
  • قانونی حیثیت: سندھ اسمبلی نے ‘سندھ پروہیبیشن آف مینوفیکچرنگ، پروموشن اینڈ سیل آف گٹکا اینڈ ماوا ایکٹ’ کے تحت ان اشیاء کی تیاری اور فروخت کو ایک غیر قابلِ ضمانت اور سنگین جرم قرار دے رکھا ہے، جس میں قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔

مقامی شہریوں اور سول سوسائٹی کا ردِعمل

تھانہ کے آئی اے کی حدود میں قائم اس پوائنٹ کے حوالے سے علاقہ مکینوں، تاجروں اور راہگیروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ امتیازی سپر مارکیٹ کا پل ایک مصروف ترین عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد بالخصوص خواتین اور بچے گزرتے ہیں۔ ایسے معروف مقام کے قریب ممنوعہ اشیاء کی کھلے عام دستیابی سیکیورٹی کے تمام دعووں کی نفی کرتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی علاقے کی پولیس چاہے تو اس کی حدود میں ایک پتھر بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ لہذا، اگر کسی جگہ پر مہینوں سے غیر قانونی کام ہو رہا ہے تو یا تو یہ متعلقہ پولیس کی بے خبری اور ناہلی ہے یا پھر عدم توجہی اور مبینہ ملی بھگت۔

اعلیٰ حکام سے مطالبات اور مستقبل کا لائحہ عمل

اس تمام صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں، صحافتی حلقوں اور سول سوسائٹی نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ایسٹ/کورنگی سے فوری اور جامع اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:

  1. شفاف انکوائری: تھانہ کے آئی اے کی حدود میں مولا داد کے کیبن پر مبینہ فروخت اور پولیس اہلکاروں پر عائد کردہ الزامات کی کسی غیر جانبدار سینئر افسر (ایس ایس پی رینک) سے تحقیقات کروائی جائیں۔
  2. سپلائی چین کا خاتمہ: گٹکا ماوا تیار کرنے والے کارخانہ داروں اور مرکزی سپلائرز کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اس کی رسد کو جڑ سے کاٹا جا سکے۔
  3. ذمہ داروں کا احتساب: اگر انکوائری میں مبینہ پولیس سرپرستی یا ہفتہ وار رقم کے الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں، تو متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکماتی اور قانونی کارروائی کی جائے۔
  4. پولیس کا موقف: متعلقہ پولیس حکام کے موقف کے لیے بھی راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔ اگر پولیس کا اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان یا تردید سامنے آتی ہے تو اسے بھی غیر جانبدارانہ بنیادوں پر خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ کراچی جیسے عالمی شہر کو امن، صفائی اور قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ گٹکا ماوا جیسی زہریلی اشیاء کا خاتمہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب انتظامیہ اور پولیس بغیر کسی لچک کے، بلاتفریق اور شفاف طریقے سے قانون نافذ کریں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025