کابل/مزار شریف، 3 نومبر 2025 – اتوار اور پیر کی درمیانی شب شمالی افغانستان کا ہندوکش خطہ 6.3 شدت کے ایک طاقتور زلزلے سے لرز اٹھا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 7 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے اس زلزلے کی شدت 6.3 بتائی ہے اور خطے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!زلزلے کا مرکز اور تفصیلاتیو ایس جی ایس کے مطابق، زلزلے کا مرکز (ایپی سینٹر) شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف کے قریب واقع خلم (Khulm) سے تقریباً 22 کلومیٹر مغرب-جنوب مغرب میں 28 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح 12 بج کر 59 منٹ پر آیا۔شدت: 6.3 (ریکٹر اسکیل پر)مرکز: خلم (مزار شریف کے قریب)، شمالی افغانستانگہرائی: 28 کلومیٹروقت: 3 نومبر، 2025، علی الصبح (مقامی وقت)زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل سمیت، پڑوسی ممالک تاجکستان، ازبکستان اور پاکستان کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔جانی و مالی نقصانصوبائی حکام اور صحت کے شعبے کے ترجمانوں کی جانب سے ملنے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق:ہلاکتیں: ابتدائی طور پر کم از کم 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔زخمی: مزار شریف اور اس کے گردونواح کے ہسپتالوں میں تقریباً 150 سے 320 افراد کو زخمی حالت میں لایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔علاقائی ردعمل: زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد مزار شریف میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں کے گرنے کے خوف سے آدھی رات کو سڑکوں پر نکل آئے۔ مقامی حکام نے ہنگامی ٹیلی فون نمبرز جاری کیے ہیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔یو ایس جی ایس نے خطے کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ “بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا امکان ہے اور یہ آفت ممکنہ طور پر دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔” اس طرح کے الرٹ لیول کے ماضی کے واقعات میں علاقائی یا قومی سطح پر بڑے ردعمل کی ضرورت پیش آئی ہے۔جغرافیائی اہمیت اور پس منظرافغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زلزلے عام ہیں۔ یہ ملک خصوصاً ہندوکش کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ واقع ہے، جو یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم کے قریب ہے۔ ان پلیٹوں کے ٹکرانے کی وجہ سے یہ علاقہ سیسمیک طور پر انتہائی فعال رہتا ہے۔یہ حالیہ زلزلہ محض دو ماہ بعد آیا ہے جب 31 اگست کو ملک کے مشرقی حصے میں 6.0 شدت کے زلزلے نے تباہی مچائی تھی، جس میں 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسے افغانستان کی حالیہ تاریخ کا ایک مہلک ترین زلزلہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، طالبان کی حکومت کو 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے 2023 میں ہرات میں آنے والے ایک اور شدید زلزلے کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں 1,500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔امدادی کام جاری ہیں اور نقصان کا مکمل جائزہ لینے کے لیے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبھارت پٹرولیم نے روسی سپلائی کو بدلنے کے لیے دسمبر کی کھیپ کے لیے ابوظہبی کے ’اپر زاکم‘ خام تیل کا سودا کر لیا۔ ترکی میں غزہ جنگ بندی اور آئندہ اقدامات پر وزارتی اجلاس: مسلم ممالک کا مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے پر اتفاق