اہم نکات (خلاصہ) مشترکہ کانفرنس کی تاریخ: جیکب آباد کے درپیش شہری اور بنیادی مسائل کے خاتمے کے لیے 20 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قیادت اور رابطے: مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے شہر کی ممتاز مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے دعوت نامے پیش کیے۔ بنیادی مطالبات: پندرھ لاکھ کی آبادی کے لیے جامعہ کا قیام، سرکاری علاج گاہ میں معیاری ادویات اور علاج کی فراہمی، نیز غیر اعلانیہ برقی رو کی معطلی کا فوری خاتمہ شامل ہے۔ تفریحی و ماحولیاتی تنزل: شہر کے قدیم عوامی تماش گاہوں اور تفریحی مقامات کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شجر کاری اور بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پس منظر: تاریخی شہر کا مسائلستان میں تبادلہ جیکب آباد کا شمار اندرونِ سندھ کے اہم اور تاریخی اضلاع میں ہوتا ہے۔ یہ خطہ اپنی گرم ترین موسمی شدت کے ساتھ ساتھ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان اور سندھ کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث تجارتی اور انتظامی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ تاہم، پچھلی چند دہائیوں سے مسلسل انتظامی غفلت، بنیادی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ اور ترقیاتی فنڈز کے نامناسب استعمال نے اس تاریخی شہر کو مشکلات اور محرومیوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقامی سطح پر عوامی شکایات کا ایک لمبا سلسلہ موجود ہے جہاں پینے کے صاف پانی کی نایابی، سڑکوں کی خستہ حالی، صفائی کا ابتر نظام اور امن و امان کی خراب صورت حال نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر اور سیاسی و سماجی دھاروں میں یہ احساس شدت سے اجاگر ہو رہا ہے کہ جب تک تمام گروہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوں گے، اس وقت تک حکمرانوں اور متعلقہ حکام کی توجہ ان دیرینہ مسائل کی طرف مبذول نہیں کروائی جا سکتی۔ تمام مکاتبِ فکر کو ایک نقطے پر لانے کی حکمتِ عملی اسی تناظر میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے پیش رفت کرتے ہوئے تمام سیاسی، مذہبی، قوم پرست اور سماجی جماعتوں کو ایک میز پر جمع کرنے کے لیے 20 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور تمام رہنماؤں کو شاملِ عمل کرنے کے لیے انہوں نے شہر کے نمایاں افراد سے خود ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد نہ صرف دعوت نامے پہنچانا تھا بلکہ شہر کی ابتر صورت حال پر ایک مفصل تبادلہ خیال کرنا بھی تھا۔ اہم ملاقاتیں اور شرکاء: مہران سوشل فورم: فورم کے سربراہ اور ممتاز قانون دان ایڈووکیٹ عبدالحئی سومرو سے تفصیلی ملاقات کی گئی۔ روحانی و مذہبی شخصیات: درگاہ حاجن شاہ کے سجادہ نشین اور انجمن سپاہ علی اکبر کے صدر سید احسان علی شاہ بخاری سے مشاورت کی گئی۔ سماجی تنظیمیں: تاج ویلفیئر کے سربراہ احمد خان رند کے ساتھ شہر کی ماحولیاتی اور تفریحی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔ ہمراہ وفد: ملاقاتوں میں مجلس علمائے مکتبِ اہل بیت ضلع کے صدر علامہ حاجی سیف علی ڈومکی اور راجہ سید ریاض علی شاہ بھی موجود تھے۔ عمومی صورت حال اور اہم ترین عوامی مطالبات ان ملاقاتوں کے دوران جن باتوں پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا گیا، وہ عام شہری کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کسی ایک حلقے یا نظریے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کا اثر پورے شہر کی معاشی اور سماجی ساخت پر پڑتا ہے۔ جیکب آباد کے بنیادی مسائل اور مطالبات │ ┌───────────────────────┬────────────────┼───────────────────────┐ │ │ │ │ جامعہ کا قیام علاج گاہ کی بحالی برقی رو کی معطلی تفریحی مقامات کی بحالی (15 لاکھ آبادی) (ادویات و سہولیات) (غیر اعلانیہ کٹوتی) (شجر کاری و اصلاح) 1. اعلا تعلیمی ادارے کی شدید قلت ضلع کی مجموعی آبادی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ: ضلعی آبادی: اندازاً 15 لاکھ (پندرہ لاکھ) سے تجاوز کر چکی ہے۔ جامعہ کی موجودگی: اتنی بڑی آبادی کے لیے ضلع بھر میں ایک بھی باقاعدہ اعلا تعلیمی ادارہ یا جامعہ (یونیورسٹی) موجود نہیں ہے۔ نتیجہ: نوجوان نسل، بالخصوص طالبات، کو اعلا تعلیم کے حصول کے لیے دوسرے دور دراز اضلاع یا صوبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس کے اخراجات غریب اور متوسط گھرانوں کی استطاعت سے باہر ہیں۔ 2. طبی سہولیات اور سرکاری علاج گاہ کی حالتِ زار شہر کا سب سے بڑا سرکاری علاج گاہ (سول اسپتال) ہر سال کروڑوں روپے کا انتظامی اور ترقیاتی بجٹ وصول کرنے کے باوجود مریضوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ مراجعین کو معیاری اور ضروری ادویات اندرونِ علاج گاہ سے میسر نہیں آتیں۔ جدید طبی آلات اور ماہر معالجین کی عدم دستیابی کے باعث معمولی حادثات کے مصدومین کو بھی دوسرے شہروں میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔ 3. برقی رو کی غیر اعلانیہ معطلی اور روزمرہ زندگی کا تعطیل شدید ترین گرمی والے اس خطے میں روزانہ کئی کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ برقی رو کی معطلی نے نہ صرف شہریوں کا چین و سکون برباد کر دیا ہے بلکہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔ صنعت کار اور چھوٹے دکاندار اس بدتر صورت حال کی وجہ سے شدید معاشی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ تفریحی مقامات کا زوال اور ماحولیاتی بگاڑ شہر کے بنیادی و طبی مسائل کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور تفریحی ڈھانچہ بھی مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ تاج ویلفیئر کے سربراہ احمد خان رند نے اس نقطے پر خاص طور پر روشنی ڈالی کہ کسی بھی زندہ دل شہر کے لیے سبزہ اور عوامی تماش گاہیں ضروری ہوتی ہیں، لیکن جیکب آباد میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ تلف شدہ تفریحی مقامات: شہر کے تاریخی تفریحی مقامات جن میں شہید مرتضیٰ بھٹو پارک اور شہید اللہ بخش سومرو پارک شامل ہیں، عدم توجہی کے باعث مکمل طور پر اجڑ چکے ہیں۔ دیگر مقامات کی ابتر صورت: شہید بے نظیر بھٹو پارک کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں اور وہاں صفائی و دیکھ بھال کا کوئی معقول نظام موجود نہیں ہے۔ شجر کاری کی اشد ضرورت: شدید گرمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری اور عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر پودے لگانے اور شہر کو سرسبز بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا لازمی ہو چکا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے ممکنہ اثرات اور مستقبل کا لائحہ عمل 20 نومبر کو منعقد ہونے والی یہ کانفرنس محض ایک روایتی اجلاس نہیں بلکہ اس سے علاقائی سیاست اور انتظامی امور پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ قانونی ماہرین اور مہران سوشل فورم کے نمائندوں کے مطابق جب تمام بااثر طبقے، سیاسی دھارے اور سماجی تنظیمیں ایک یکجا منشور پر متفق ہوں گی تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے لیے ان مطالبات کو رد کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس کانفرنس کے ذریعے ایک دباؤ کا گروپ قائم ہو سکے گا جو انتظامیہ سے اپنے حقوق منوانے کی صلاحیت رکھے گا۔ سید احسان علی شاہ بخاری اور دیگر رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ایک جامع اور تحریری لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا جس کی روشنی میں اعلیٰ حکام، وزراء اور متعلقہ اداروں کے سربراہان تک عوامی آواز پہنچائی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر قانونی و سڑکوں کی جدوجہد کا راستہ بھی اپنایا جائے گا۔ ایڈیٹوریل نوٹ: یہ نیوز آرٹیکل ہمارے نمائندے کی جانب سے بھیجی گئی معلومات، مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں کے بیانات اور جیکب آباد کی موجودہ صورت حال پر مبنی تحریر ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی فریق کی جانب داری کے بغیر علاقے کے عوامی اور شہری مسائل کو اجاگر کرنا اور حقیقت پر مبنی تصویر پیش کرنا ہے۔ Post navigation ہائر ایجوکیشن کمیشن کا تاریخی فیصلہ: بی ٹیک انجینئری کو مکمل انجینئری ڈگری تسلیم کر لیا گیا جیکب آباد: لیڈیز مارکیٹ میں نو سربازی کی واردات، کم سن بچی کانوں کی بالیوں سے محروم، متاثرہ خاندان کا پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج