اہم نکات (خلاصہ) افسوس ناک واقعہ: جیکب آباد کے گنجان اور مصروف کاروباری مرکز ‘لیڈیز مارکیٹ’ میں مبینہ نو سرباز نے پانچ سالہ بچی کے کانوں سے سونے کی بالیاں اتار لیں۔ متاثرہ خاندان: پانچ سالہ بچی آیت جتوئی کے چچا دین محمد جتوئی نے پریس کلب پہنچ کر اس مجرمانہ کارروائی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ پولیس انتظامیہ سے مطالبہ: پولیس کے اعلا حکام اور ضلعی پولیس افسر (ایس ایس پی) سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، ملزم کو گرفتار کرنے اور مسروقہ زیورات برآمد کرانے کی اپیل کی گئی ہے۔ عوامی تشویش: تجارتی مراکز میں سیکیورٹی اور نگہداشت کے ناکافی انتظامات کے باعث نو سربازوں اور جیب تراشوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر شہریوں میں شدید اضطراب پھیلا ہوا ہے۔ پس منظر: جیکب آباد کے تجارتی مراکز اور نو سربازی کا مسئلہ جیکب آباد کے گنجان آبادی والے تجارتی علاقوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی خریداری کے لیے مخصوص ‘لیڈیز مارکیٹ’ میں چوری، جیب تراشی اور نو سربازی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ان منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں خواتین اور بچے ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے آتے ہیں۔ تاہم، مناسب حفاظتی اقدامات، جدید نگرانی کے آلات اور پولیس کی باقاعدہ گشت کی عدم دستیابی کے باعث مجرمانہ عناصر کے لیے کارروائی کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ عام طور پر نو سرباز اور حیلہ جو افراد معصوم بچوں اور غافل خریداروں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ بچوں کو ورغلانا، انہيں دھوکے سے علیحدہ کرنا یا باتوں میں الجھا کر ان کے جسم پر موجود قیمتی اشیاء اور زیورات اتار لینا اس قسم کے گروہوں کا روایتی طریقہ کار رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ تجارتی مراکز میں سیکیورٹی کا نظام کس قدر ابتر اور غیر فعال ہے۔ واقعے کی تفصیلات اور متأثرہ خاندان کا مؤقف موصولہ اطلاعات کے مطابق، واقعہ جیکب آباد کے سٹی تھانے کی حدود میں واقع معروف ‘لیڈیز مارکیٹ’ میں پیش آیا۔ جہاں پانچ سالہ معصوم بچی ‘آیت جتوئی’ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بازار آئی ہوئی تھی۔ بازار کے بھیڑ بھاڑ اور رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مبینہ نو سرباز نے انتہائی صفائی اور چالاکی سے معصوم بچی کو اپنا نشانہ بنایا۔ ملزم نے بچی کو باتوں میں الجھا کر یا ڈرا دھمکا کر اس کے کانوں میں موجود سونے کی بالیاں اتار لیں اور بڑی آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بچی کے اہل خانہ پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بچی کے چچا دین محمد جتوئی نے صحافیوں اور پولیس انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے لیے جیکب آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا: “ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ اس قسم کی مجرمانہ حرکت نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے صدمے کا باعث ہے بلکہ یہ پورے شہر کی سیکیورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ہماری بیٹیوں اور بچوں کے لیے بازار بھی محفوظ نہیں رہیں گے تو عام شہری کہاں جائے؟” قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کا کردار اس افسوس ناک واقعے کے بعد سٹی تھانہ پولیس اور ضلعی پولیس افسر (ایس ایس پی) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے اعلا پولیس حکام سے درج ذیل بنیادی مطالبات کیے ہیں: واقعے کا فوری نوٹس: ضلعی پولیس افسر (ایس ایس پی) جیکب آباد اس واقعے کا از خود نوٹس لیں۔ جدید ذرائع کا استعمال: مارکیٹ اور اطراف کی دکانوں میں نصب جدید ویڈیو کیمروں (سی سی ٹی وی) کی مدد سے ملزم کی نشاندہی کی جائے۔ فوری گرفتاری: نو سرباز کو سائنسی اور جدید طریقہ کار سے جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مال کی برآمدگی: معصوم بچی کے مسروقہ زیورات برآمد کروا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ مجرمانہ واقعے کی اہم پیش رفت │ ┌───────────────────────────────────┼───────────────────────────────────┐ │ │ │ موقعِ واردات متاثرہ فریق پولیس و انتظامیہ (لیڈیز مارکیٹ) (آیت جتوئی و خاندان) (سٹی تھانہ و ایس ایس پی) - ۵ سالہ بچی نشانہ - پریس کلب پر احتجاج - نوٹس لینے کا مطالبہ - کانوں سے بالیاں غائب - انصاف کی فراہمی کا مطالبہ - کیمروں کی مد سے تلاش تاجر برادری اور شہریوں کا ردِعمل اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی لیڈیز مارکیٹ کے تاجروں اور عام شہریوں میں شدید تشویش اور برہمی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بازاروں میں بدامنی اور نو سربازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے خریداروں کا اعتماد اٹھ رہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں منفی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ شہری حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انتظامیہ کو تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کے لیے درج ذیل فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں: پولیس گشت میں اضافہ: مصروف اوقات کے دوران مارکیٹوں میں پولیس کے اہلکاروں اور سادھ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی تعنیاتی یقینی بنائی جائے۔ کیمروں کی تنصیب: تمام تاجروں کو اپنی دکانوں کے باہر اعلیٰ معیار کے ویڈیو کیمرے لگانے کا پابند کیا جائے اور میونسپل کمیٹی کی جانب سے مرکزی راستوں پر کیمرے لگائے جائیں۔ مشکوک افراد پر نظر: بازاروں میں بلا مقصد گھومنے والے اور مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کی جائے۔ تجارتی مراکز میں بچوں کی سیکیورٹی: والدین کے لیے لمحہ فکریہ یہ واقعہ محض ایک جرم نہیں بلکہ والدین کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے۔ بھیڑ بھاڑ والے بازاروں میں چھوٹے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سماجی ماہرین اور صحافتی حلقے چند اہم باتوں کی جانب توجہ دلاتے ہیں: مسلسل نگہداشت: بازاروں اور عمومی مقامات پر چھوٹے بچوں کو کسی صورت تنہا یا نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے۔ قیمتی اشیاء سے اجتناب: چھوٹے بچوں کو بازار لاتے وقت انہیں سونے یا دیگر قیمتی زیورات پہننانے سے پرہیز کیا جائے، تاکہ مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد کی توجہ ان کی طرف مبذول نہ ہو۔ آگاہی و تربیت: بچوں کو یہ تربیت دی جائے کہ وہ کسی بھی اجنبی شخص کی دی ہوئی چیز قبول نہ کریں اور نہ ہی ان کی باتوں میں آئیں۔ آئندہ کا لائحہ عمل اور توقعات متاثرہ خاندان نے واضح کیا ہے کہ اگر پولیس نے اس واقعے میں ملوث ملزم کو جلد گرفتار نہ کیا اور مسروقہ بالیاں برآمد نہ کرائیں تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کریں گے۔ شہری تنظیموں، تاجروں اور عوام کو امید ہے کہ ضلعی پولیس افسر (ایس ایس پی) اور سٹی تھانہ پولیس اس معاملے میں سنجیدگی دکھاتے ہوئے روایتی سستی کا خاتمہ کریں گے اور نہ صرف ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے بلکہ شہر کے تمام تجارتی مراکزمیں امن و امان کا ماحول قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔ ایڈیٹوریل نوٹ: یہ خبر مقامی نامہ نگار کی رپورٹ اور متاثرہ خاندان کے پریس کلب میں دیے گئے بیانات پر مبنی ہے۔ ادارے نے واقعے سے متعلق معروضیت کو مدِ نظر رکھا ہے اور پولیس انتظامیہ کے رسمی موقف یا تفتیشی پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ Post navigation جیکب آباد کے سنگین اور بنیادی مسائل پر سیاسی و سماجی قیادت کا بڑا اقدام: 20 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، مشترکہ جدوجہد کا عزم کیڈٹ کالج پیٹارو میں سالانہ چینی نغمہ سرائی کے مقابلے کا انعقاد: نوجوان نسل میں چینی زبان اور ثقافتی روابط کا فروغ