Preloader
Anti encouragement at KTS

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتظامیہ کا بڑا قدم: صوبائی حکومت کی ہدایت پر ضلع ہری پور کی تینوں تحصیلوں میں تجاوزات مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
  • کھلابٹ میں آپریشن: ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کی زیرِ نگرانی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) نے کھلابٹ ٹاؤن شپ کے مین چوک اور دیگر حصوں میں غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دیں۔
  • نالوں اور راستوں کی واگزاری: دکانوں کے باہر قائم غیر قانونی چبوتروں، شیڈز اور سرکاری نالوں پر بنے تجاوزات کو بھاری مشینری کی مدد سے گرایا گیا۔
  • سخت خبردار: ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی اور عام راستوں پر قبضہ کرنے والوں کو خود ہی تجاوزات ہٹانے کی آخری مہلت ہے، ورنہ مقدمات درج کیے جائیں گے۔

تعارف

ضلع ہری پور کی اہم ترین آبادی کھلابٹ ٹاؤن شپ میں ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے کی مشترکہ ٹیم نے غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف ایک بڑا اور مؤثر آپریشن انجام دیا ہے۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ہری پور کی براہِ راست نگرانی میں ٹی ایم اے کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کر کے کئی دکانوں کے باہر بنے ہوئے غیر قانونی ڈھانچے، سرکاری نالوں پر تعمیرات اور عوامی گزرگاہوں میں قائم رکاوٹوں کو زمین بوس کر دیا گیا۔ اس کارروائی نے جہاں ایک طرف شہر کی مرکزی شاہراہوں اور بازاروں میں ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کی راہ ہموار کی ہے، وہیں دوسری طرف قبضہ مافیا اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو انتظامیہ کی جانب سے ایک سخت اور واضح پیغام بھی دیا ہے۔

آپریشن کا پس منظر اور صوبائی پالیسی

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوامی اراضی کی واگزاری اور تجارتی مراکز میں بڑھتی ہوئی تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک منظم حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اس وقت صوبے کے دیگر تمام اضلاع کی طرح ضلع ہری پور کی بھی تینوں تحصیلوں (تحصیل ہری پور، تحصیل غازی اور تحصیل خانپور) میں بلدیاتی اور انتظامی ٹیمیں مکمل متحرک ہو چکی ہیں۔

کھلابٹ ٹاؤن شپ، جو کہ تربیلا ڈیم کے متاثرین کی آباد کاری کا ایک اہم ترین مرکز اور تجارتی شاہراہ ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے شدید تجاوزات کی لپیٹ میں تھا۔ دکانداروں اور رکشہ یا ٹھیلے والوں کی جانب سے دکانوں کے باہر پکے چبوترے، لوہے کے شیڈ اور سامان سڑک پر سجانے سے پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے راستہ انتہائی تنگ ہو چکا تھا۔ نالوں کی بندش کے باعث معمولی بارش میں بھی پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا تھا، جس پر عوام کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے یہ آپریشن ترتیب دیا۔

مین چوک اور مرکزی بازار میں کارروائی کی تفصیلات

کارروائی کے لیے ٹی ایم اے کے عملے اور ضلعی پولیس کی بھاری نفری نے کھلابٹ ٹاؤن شپ کے دل یعنی “مین چوک” کو گھیرے میں لیا۔ آپریشن کے آغاز سے پہلے علاقے میں منادی کروائی گئی اور اس کے بعد بلڈوزر اور کرین کی مدد سے تجاوزات کو گرانے کا کام شروع کیا گیا۔

کارروائی کے دوران درج ذیل مقامات اور تعمیرات کو نشانہ بنایا گیا:

  • دکانوں کے باہر غیر قانونی توسیع: دکانداروں کی جانب سے سڑک کے فٹ پاتھ اور حدود پر بنائے گئے پکے چبوترے اور عارضی شیڈز۔
  • سرکاری نالوں پر قبضے: برساتی پانی اور سیوریج کی سڑک پار نالیوں پر تعمیر کی گئی دکانیں، چبوترے اور لکڑی کے تختے۔
  • عوامی راستوں پر رکاوٹیں: مرکزی چوک کی طرف آنے والی تمام چھوٹی بڑی گزرگاہوں میں رکھے گئے لوہے کے بورڈ اور سامان رکھنے کے ڈھانچے۔

اس آپریشن کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال یا امن و امان کی خراب صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی موجود رہی، جس کی وجہ سے کارروائی مکمل طور پر پرامن انداز میں انجام پائی۔

ضلعی انتظامیہ کا بیان اور آئندہ کا لائحہ عمل

آپریشن کے موقع پر موجود ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مقامی تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ اور سرکاری زمینوں کی واگزاری انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہے۔

افسران کی گفتگو کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. کسی رعایت کے بغیر کارروائی: سرکاری اراضی، عوامی راستوں، نالوں اور عام گزرگاہوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والا چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اس کے خلاف بلا تفریق ایکشن لیا جائے گا۔
  2. خود سے تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت: جن دکانداروں نے ابھی تک اپنی حد سے آگے سامان رکھا ہوا ہے یا غیر قانونی تعمیرات کی ہیں، وہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے فوراً انہیں ازخود ختم کر دیں۔
  3. قانونی چارہ جوئی: آئندہ دوبارہ تجاوزات قائم کرنے یا سرکاری کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کر کے بھاری جرمانے اور گرفتاریوں کا عمل شروع کیا جائے گا۔
  4. مسلسل نگران ٹیمیں: گرائی گئی تجاوزات کے دوبارہ قائم ہونے کو روکنے کے لیے ٹی ایم اے کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر گشت کرے گا۔

عوامی ردعمل اور متوقع اثرات

کھلابٹ ٹاؤن شپ میں تجاوزات کے خلاف اس بروقت کارروائی کو مقامی شہریوں، پیدل چلنے والے راہگیروں اور گاڑی مالکوں کی جانب سے شدید سراہا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مین چوک میں تجاوزات کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر بدترین ٹریفک جام رہتا تھا، جس سے سکول جانے والے بچوں، مریضوں اور دفاتر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

معاشی اور ماحولیاتی لحاظ سے اس آپریشن کے درج ذیل مثبت اثرات حاصل ہوں گے:

  • ٹریفک کی روانی: مین چوک اور ملحقہ سڑکیں کشادہ ہونے سے ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوگا اور حادثات کی شرح میں کمی آئے گی۔
  • نکاسی آب کا نظام: نالوں پر سے ناجائز قبضے ختم ہونے کے باعث بارشوں میں پانی کے کھڑے ہونے اور گندگی کے مسائل سے نجات ملے گی۔
  • خوبصورتی اور تجارتی سدھار: بازاروں کی ترتیب درست ہونے سے گاہکوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی جس سے قانونی کاروبار کو فروغ ملے گا۔

نتیجہ

کھلابٹ ٹاؤن شپ میں انتظامیہ کا یہ اقدام اس بات کی واضح علامت ہے کہ قانون کی بالادستی اور عوامی آسانی کے لیے ریاست کا عملہ متحرک ہے۔ تاہم اس کارروائی کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انتظامیہ اور بلدیاتی ادارہ صرف ایک بار کی کارروائی پر اکتفا نہ کریں، بلکہ آئندہ کے لیے بھی سخت مانیٹرنگ کا نظام برقرار رکھیں تاکہ واگزار کرائی گئی زمینوں پر دوبارہ ناجائز قبضے نہ ہو سکیں۔ تاجر برادری کو بھی چاہیے کہ وہ ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے شہر کو خوبصورت اور کشادہ بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔