Preloader
Food safety drive

اہم نکات (خلاصہ)

  • موثر کارروائی: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی خصوصی ہدایات پر “بدلتا خیبر پختونخوا” مہم کے تحت خانپور میں سخت ناکہ بندیاں اور اچانک چھاپے مارے گئے۔
  • مضرِ صحت اشیا کی تلفی: معائنے کے دوران بڑی مقدار میں ناقص مچھلی، ملاوٹی دودھ اور بدبودار مضرِ صحت تیل موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
  • قانونی کارروائی: صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
  • شہریوں کی صحت کا تحفظ: انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ عوام کو معیاری اور خالص خوراک کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

تعارف

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے تاریخی اور سیاحتی حوالے سے اہم قصبے خانپور میں ضلعی انتظامیہ اور فوڈ سیفٹی ٹیم نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے عوام کو صحت مند اور معیاری خوراک فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ “بدلتا خیبر پختونخوا” مہم کے سلسلے میں کی جانے والی اس کارروائی کا بنیادی مقصد شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے۔ رات کی تاریکی میں ہونے والی اس اچانک کارروائی نے جہاں ایک طرف فوڈ سیفٹی کے عملے کی مستعدی کو ظاہر کیا ہے، وہیں دوسری طرف تجارتی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔

کارروائی کا پس منظر اور گورنر خیبر پختونخوا کی ہدایات

صوبے بھر میں اشیائے خورونوش کے معیار کو بہتر بنانے اور عوام کو ملاوٹ سے پاک اشیا کی فراہمی کے لیے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خصوصی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ ان احکامات کی روشنی میں “بدلتا خیبر پختونخوا” مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے کے تمام اضلاع میں خوراک کے معیار کی کڑی نگرانی کرنا ہے۔

خانپور میں ہونے والی یہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ خانپور نہ صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے بلکہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں سیاح اور مقامی افراد کھانے پینے کی اشیا خریدتے ہیں۔ ایسے میں خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی کے تحت ضلعی انتظامیہ نے رات گئے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر کے باہر سے آنے والی خوراک کی ترسیل کا معائنہ کیا۔

رات گئے ناکہ بندیاں اور اچانک چھاپے

فوڈ سیفٹی ٹیم نے حکمت عملی کے تحت رات کے وقت خانپور کے داخلی راستوں پر سخت ناکہ بندی کی۔ اس دوران شہر میں داخل ہونے والے تمام مال بردار اور خوراک لانے والے گاڑیوں کی کڑی جانچ پڑتال کی گئی۔

اس کے علاوہ شہر کے اندر موجود مختلف بازاروں، مرغی فروشوں، مچھلی مارکیٹوں اور دودھ کی دکانوں کا اچانک دورہ کیا گیا۔ معائنے کے دوران درج ذیل امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا:

  • معیار اور تازگی: اشیائے خورونوش بالخصوص مچھلی اور مرغی کی تازگی اور ان کے ذبح کرنے کے طریقے۔
  • حفظانِ صحت کے اصول: دکانوں کے اندر صفائی ستھرائی کی صورتحال اور ملازمین کے حفاظتی اقدامات۔
  • ذخیرہ کرنے کے انتظامات: دودھ، گوشت اور دیگر اشیا کو محفوظ رکھنے کے لیے فریج اور کولنگ کے مناسب انتظامات کی موجودگی۔
  • فوڈ سیفٹی قوانین: حکومت کی طرف سے مقرر کردہ خوراک کے حفاظتی اصولوں اور ایس او پیز پر عمل درآمد۔

موقع پر کارروائی: ناقص اشیا کی تلفی اور جرمانے

تحقیقات اور معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ عناصر زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں شہریوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے موقع پر ہی سخت فیصلے کرتے ہوئے درج ذیل کارروائیاں کیں:

  1. ناقص مچھلی کی تلفی: خانپور لائی جانے والی ایسی مچھلی جو باسی، بدبودار اور کھانے کے قابل نہیں تھی، اسے فوری طور پر ضبط کر کے ضائع کر دیا گیا۔
  2. ملاوٹی دودھ کی جانچ: دودھ فروشوں کی دکانوں پر ٹیسٹ کیے گئے جہاں پانی کی ملاوٹ اور صحت کے لیے نقصان دہ کیمیکلز کی موجودگی پر لاکھوں روپے مالیت کا دودھ ضائع کیا گیا۔
  3. مضرِ صحت تیل: فرائی کرنے کے لیے استعمال ہونے والا وہ پرانا اور بدبودار تیل جو انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے، موقع پر تلف کر دیا گیا۔
  4. جرمانے کا نفاذ: صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں پر بھاری نقدی جرمانے عائد کیے گئے۔

دکانداروں کے لیے سخت ہدایات اور وارننگ

کارروائی کے اختتام پر فوڈ سیفٹی ٹیم کے سربراہان نے مقامی تاجروں اور دکانداروں کے ساتھ ایک مختصر میٹنگ کی اور انہیں دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی۔ حکام کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔

دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ:

  • عوام کو معیاری، محفوظ اور خالص اشیائے خورونوش کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائیں۔
  • اپنی دکانوں میں صفائی ستھرائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھیں۔
  • حکومت کی طرف سے جاری کردہ فوڈ سیفٹی اصولوں پر من و عن عمل کریں۔

انتظامیہ نے واضح کیا کہ آئندہ بھی اس قسم کے سرپرائز وزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگر کوئی دوبارہ ایسی غفلت کا مرتکب پایا گیا تو نہ صرف دکانیں سیل کر دی جائیں گی بلکہ سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

عوامی ردعمل اور سماجی اثرات

خانپور کے عوام اور سماجی حلقوں نے اس موثر کارروائی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملاوٹ مافیا کی وجہ سے بچوں اور بڑوں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی تھیں، اور اس قسم کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ ناقص خوراک، بالخصوص باسی مچھلی اور مضرِ صحت تیل کے استعمال سے پیٹ کی بیماریاں، جگر کے امراض اور یہاں تک کہ کینسر جیسی موذی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا یہ قدم نہ صرف بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکے گا بلکہ تاجروں میں بھی ایک مثبت خوف پیدا کرے گا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کاروبار کریں۔

نتیجہ

ہری پور کے علاقے خانپور میں فوڈ سیفٹی ٹیم کی یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انتظامیہ عزم مصمم کر لے تو معاشرے کو ملاوٹ جیسی لعنت سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ “بدلتا خیبر پختونخوا” مہم کے تحت اس طرح کے اقدامات پورے صوبے کے لیے ایک بہترین مثال ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کارروائی کو کسی ایک دن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ تاجر برادری میں قانون کا احترام ہمیشہ زندہ رہے اور عوام کو ایک صحت مند ماحول مل سکے۔