اہم نکات (خلاصہ) مہم کا باقاعدہ آغاز: ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے ڈی سی آفس میں بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلا کر چار روزہ مہم کا افتتاح کیا۔ مہم کی تاریخیں: ضلع بھر میں انسدادِ پولیو کی یہ خصوصی مہم ۲ نومبر سے ۵ نومبر تک جاری رہے گی۔ عوامی اپیل: ڈپٹی کمشنر نے والدین اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے تعاون کریں اور پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو قطرے لازمی پلوائیں۔ آگاہی ریلی: افتتاحی تقریب کے بعد ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ایک واک/آگاہی ریلی نکالی گئی جس میں صحت، عالمی اداروں اور ریونیو کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ پس منظر: پولیو سے پاک پاکستان اور ضلعی اقدامات کی اہمیت پاکستان کا شمار دنیا کے ان معدودے چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس مہلک وائرس سے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سال بھر مختلف مرحلہ وار انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد کرتی ہیں۔ سندھ کے ضلع جامشورو میں بھی صحت کی صوبائی انتظامیہ اور عالمی اداروں کے تعاون سے وقتاً فوقتاً انسدادِ پولیو قطرے پلانے کی مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ جامشورو جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ضلع ہے جہاں نقل مکانی کرنے والی آبادی کی آمد و رفت زیادہ رہتی ہے۔ اسی بنا پر اس علاقے میں سو فیصد بچوں تک رسائی حاصل کرنا صحت کی پالیسی کا اہم ترین جزو ہے۔ پولیو کی بیماری کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے، تاہم بروقت اور باقاعدگی سے دیے جانے والے حفاظتی قطرے ہی بچوں کو اس معذوری کے مرض سے محفوظ رکھنے کا واحد اور موثر طریقہ ہیں۔ افتتاحی تقریب اور ڈپٹی کمشنر کی ہدایت جامشورو سے ہمارے نمائندے محمد نصیر ساگر کی رپورٹ کے مطابق، ڈی سی آفس جامشورو میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے معصوم بچوں کو اپنے ہاتھوں سے انسدادِ پولیو کے قطرے پلا کر اس چار روزہ مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ اور تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے کہا: “ہمارے بچے ہمارا روشن مستقبل اور پھولوں کی مانند ہیں۔ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچانا ہم سب کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پولیو کا خاتمہ صرف کسی ایک ادارے یا نقطہ نظر کا کام نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مشن ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ۲ نومبر سے ۵ نومبر تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دور دراز اور دیہی علاقوں کا کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ آگاہی ریلی اور نمایاں شرکاء افتتاحی تقریب کے فوراً بعد عوام میں شعور و آگاہی بیدار کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر افس سے ایک خصوصی آگاہی ریلی بھی نکالی گئی۔ اس ریلی کی قیادت خود ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں آگاہی والے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی اہمیت اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم تحریریں درج تھیں۔ آگاہی ریلی اور اہم انتظامی شرکاء │ ┌───────────────────────┬────────────────┼───────────────────────┐ │ │ │ │ ضلعی صحت افسر عالمی ادارۂ صحت صوبائی و کمیونیکیشن محکمہ ریونیو و (ڈاکٹر پیر منظور احمد) (ڈاکٹر منصور میمن) افسران (افشاں لالانی) پولیو ورکرز ریلی کے نمایاں شرکاء کی تفصیلات: ضلعی صحت افسر (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر): ڈاکٹر پیر منظور احمد صوبائی آپریشنز سینٹر: افشاں لالانی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او): ڈاکٹر منصور میمن این اسٹاپ افسر: ڈاکٹر راجیش کمار پولیو کمیونیکیشن افسر: امام بخش مگسی دیگر شرکاء: محکمہ ریونیو کے افسران، مقامی پولیو ورکرز، سماجی شخصیات اور صحت کے عملے کے ارکان۔ انسدادِ پولیو مہم کے متوقع نتائج اور انتظامی حکمتِ عملی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ۲ نومبر سے ۵ نومبر تک جاری رہنے والی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر گلی، محلے، اسکول اور دور دراز گوٹھوں تک رسائی آسان ہو سکے۔ ضلعی حکمتِ عملی کے بنیادی نکات: گھر گھر ٹیمیں: تربیت یافتہ پولیو ورکرز اور صحت کے رضاکار گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلائیں گے۔ متحرک (ٹرانزٹ) پوائنٹس: بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، تفریحی مقامات اور ضلعی سرحدوں پر خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ سفر کرنے والے بچوں کو بھی قطرے پلائے جا سکیں۔ حفاظتی اقدامات: پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ نگرانی و تجزیہ: روزانہ کی بنیاد پر ڈی سی افس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انکاری والدین کو راغب کیا جا سکے اور باقی رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔ والدین کے لیے التماس اور اجتماعی ذمہ داری صحت کے ماہرین اور ضلعی انتظامیہ نے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کی صحت اور مستقبل کو ترجیح دیں۔ ۵ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو بار بار قطرے پلانا ہی ان کے مدافعتی نظام کو طاقتور بناتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں ۲ نومبر سے ۵ نومبر کے درمیان پولیو ورکرز کی ٹیم نہ پہنچ سکے تو والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر قریب ترین سرکاری علاج گاہ يا صحت مرکز سے رجوع کریں اور اپنے بچے کو معذوری سے بچانے کا فریضہ ادا کریں۔ ایڈیٹوریل نوٹ: یہ نیوز آرٹیکل ہمارے نمائندے محمد نصیر ساگر کی بھیجی گئی رپورٹ اور ضلعی انتظامیہ جامشورو کے سرکاری بیانات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ خبر کی معروضیت اور صحت سے متعلق معلومات کی تصدیق کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطررکھا گیا ہے۔ Post navigation لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے میں سیمنار کا انعقاد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی سکردو میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کی شدید مذمت