Preloader
Seminar at LUMHS

جامشورو:رپوٹ محمد نصیر ساگر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے اورک آڈیٹوریم میں صوبائی محتسب سندھ کے برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کے تحت آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار میں صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت، وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن، اساتذہ، یونیورسٹی کے افسران اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت اور ان کی ٹیم کو یونیورسٹی آمد پر خوش آمدید کہا اور اس پروگرام کے لیے لمس جامشورو کے انتخاب کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم اور منفرد اقدام ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو شہریوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے سفیر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غربت اور شرح خواندگی میں کمی کے باعث شہریوں کے حقوق اور ان کے بارے میں آگاہی کے درمیان ایک بڑا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو انصاف کے حصول کے لیے دستیاب اداروں اور طریقہ کار سے آگاہ کرکے اس فرق کو ختم کرنا ہے۔

صوبائی محتسب سندھ کی سال 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے کہا کہ محتسب کے دفتر نے سال کے دوران 25 ہزار سے زائد شکایات پر کارروائی کی، 8 ہزار 700 سے زائد شہریوں کو ریلیف فراہم کیا اور عام لوگوں کو تقریباً 4 ارب 30 کروڑ روپے کے مالی فوائد پہنچانے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بہت سے شہری اس ادارے اور اس کی خدمات سے واقف نہیں ہیں۔ ایسے میں طلبہ بطور سفیر ان لوگوں تک معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو عام حالات میں محتسب کے دفتر سے رجوع نہیں کرتے۔

وائس چانسلر نے کہا کہ لمس جامشورو اس پروگرام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ یہاں سندھ کے مختلف علاقوں سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں اور مستقبل میں صحت کے شعبے سے وابستہ ہونے کے باعث عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹ اور صحت کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور شکایات درج کرانے کے لیے متعلقہ اداروں تک رہنمائی دینے میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے شرکاء کو یقین دلایا کہ یونیورسٹی اس پروگرام کے لیے سیمینار کے بعد بھی تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ لمس اپنے تدریسی اسپتالوں اور عوامی سطح پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز میں آگاہی نشستوں کے انعقاد میں سہولت فراہم کرے گی، جبکہ صوبائی محتسب سندھ کے ساتھ مل کر یونیورسٹی سے منسلک علاقوں میں شہریوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وائس چانسلر نے نوجوانوں کو عوام میں آگاہی پھیلانے اور انصاف تک رسائی میں مدد دینے کی ذمہ داری سونپنے پر صوبائی محتسب سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ طلبہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دیں گے اور معاشرے کی بہتری میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ سندھ کی آبادی تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ ہے، لیکن اس کے مقابلے میں صوبائی محتسب کے دفتر کو موصول ہونے والی شکایات کی تعداد بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد آج بھی اپنے حقوق اور صوبائی محتسب کے ادارے کی خدمات سے آگاہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی 46 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور ان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی شرکت انتہائی ضروری ہے۔

محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو آگاہی مہم کا حصہ بنانا ہے تاکہ وہ اپنے تعلیمی اداروں اور علاقوں میں لوگوں کو ان کے حقوق، تحفظ اور صوبائی محتسب کے دفتر کی خدمات کے بارے میں آگاہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ طبی شعبے سے وابستہ افراد کا عوام سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے، اس لیے ڈاکٹرز اور میڈیکل کے طلبہ معاشرے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں اور لوگوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

صوبائی محتسب سندھ نے مزید کہا کہ سال 2024 سے سندھ بھر میں آگاہی سیمینارز اور عوامی شکایات کی کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے معیار اور کارکردگی میں بھی فرق پایا جاتا ہے، اس لیے نوجوانوں میں تعلیم، حقوق اور ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔

اس سے قبل صوبائی محتسب سندھ کے رجسٹرار مسعود عشرت نے ادارے کی کارکردگی اور موصول ہونے والی شکایات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صوبائی محتسب سندھ کو مجموعی طور پر 25 ہزار 217 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 8 ہزار 854 شکایات ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد مسترد کردی گئیں، جبکہ 16 ہزار 363 شکایات باقاعدہ درج کی گئیں۔ اسی عرصے کے دوران 12 ہزار 591 شکایات کے فیصلے کیے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران مجموعی طور پر 16 ہزار 685 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 6 ہزار 455 شکایات مسترد کی گئیں، جبکہ 10 ہزار 230 شکایات باقاعدہ درج کی گئیں۔ اس دوران 10 ہزار 898 شکایات کے فیصلے کیے گئے۔

رجسٹرار مسعود عشرت نے کہا کہ صوبائی محتسب کے دفتر کو سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی، شہری سہولیات کی کمی، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے مسائل، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب، ماحولیاتی مسائل، پولیس کی زیادتیوں، ایف آئی آر درج نہ ہونے، زمین کے تنازعات اور صحت کی سہولیات سے متعلق شکایات موصول ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے کو کے ڈی اے، کے ایم سی، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، سائٹ اور سیسی سے متعلق بھی شکایات موصول ہوتی ہیں۔

سیمینار کے دوران صوبائی محتسب سندھ کی مشیر ریحانہ جی علی میمن نے برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کا تعارف کرایا۔

انہوں نے شرکاء کو صوبائی محتسب کے دفتر کے کام کرنے کے طریقہ کار، شکایات جمع کرانے کے عمل اور شکایات کی جانچ پڑتال سے لے کر ان کے حل تک مختلف مراحل کے بارے میں آگاہ کیا۔

سیمینار کے بعد وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کے ہمراہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں اور سہولیات کا دورہ کیا۔

دورے کے دوران انہوں نے امتحانی مرکز، لمس سروس اسپتال، گرلز ہاسٹل، گرلز جمنازیم، دندان سازی کی نئی تعمیر شدہ عمارت اور دیگر مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر دستیاب سہولیات اور جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے لمس جامشورو میں ہونے والی ترقی اور جدید سہولیات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لمس جامشورو کی ترقی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن کی قیادت میں یونیورسٹی مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تعلیمی اور طبی سہولیات میں بہتری کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔