Preloader
Criticism on pti era

اہم نکات (خلاصہ)

  • کرپشن کے ریکارڈز: نیبر ہڈ یونین کونسل کوترپان کے چیئرمین زبیر خان کا دعویٰ ہے کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں کرپشن کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے۔
  • عوام کی مشکلات: زبیر خان کے مطابق عوام کو محض ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا گیا اور وسائل صرف منظورِ نظر افراد پر نچھاور کیے گئے۔
  • مستقبل کے فیصلے: عوام کو اب اپنے بہتر مستقبل کے لیے ہوشیار رہنے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

تعارف اور خبر کا پس منظر

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سیاسی سرگرمیاں اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہیں جب مقامی بلدیاتی نمائندوں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے سابقہ حکومتی دور پر کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی پس منظر میں، نیبر ہڈ یونین کونسل کوترپان کے چیئرمین زبیر خان نے ایک پریس کانفرنس اور عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کی تاریخ میں اس سے پہلے اس پیمانے پر انتظامی بے ضابطگیاں اور وسائل کا زیاں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

اس خبر کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک ایک ہی سیاسی جماعت برسرِ اقتدار رہی ہے، اور اس دوران صوبائی خودمختاری، فنڈز کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت پر اکثر بحث ہوتی رہی ہے۔ زبیر خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور معاشی حالات ایک اہم موڑ پر ہیں۔

پی ٹی آئی دورِ حکومت: الزامات اور زمینی حقائق

چیئرمین زبیر خان نے اپنے بیان میں کھل کر کہا کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک طرح سے یرغمال بنائے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا جامع یا عوامی فلاحی منصوبہ نہیں تھا جس سے عام آدمی کو براہِ راست کوئی طویل المدتی فائدہ پہنچتا۔

اس موضوع کو گہرائی میں سمجھنے کے لیے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • ترقیاتی منصوبوں کا فقدان: ناقدین کے مطابق، پچھلے کئی سالوں میں بڑے پیمانے پر فنڈز جاری تو ہوئے مگر زمینی سطح پر عوامی سہولیات، صحت اور تعلیم کے شعبے زبوں حالی کا شکار رہے۔
  • پسند اور ناپسند کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم: یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریاں صرف مخصوص حلقوں یا پارٹی وابستگی رکھنے والے افراد تک محدود رکھی گئیں، جس کی وجہ سے میرٹ کا قتل عام ہوا۔
  • کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں: مقامی رہنماؤں کا اصرار ہے کہ صوبائی سطح پر احتساب کے نظام کو کمزور کر کے اربوں کھربوں روپے کے مالیاتی اسکینڈلز کو پروان چڑھایا گیا، جس سے صوبے کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔

گورنر راج اور سیاسی کشمکش کا پس منظر

بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا کہ کس طرح ماضی میں سیاسی مخالفین اور حکومت کے درمیان تناؤ پایا جاتا تھا، بالخصوص گورنر راج کی بحث کے حوالے سے۔ زبیر خان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ آج کہاں ہیں جو گورنر راج کے نفاذ پر بڑی بڑی باتیں کرتے تھے اور اس کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے دعویدار تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وفاق اور صوبے کے درمیان ہمیشہ سے ایک کشمکش کی فضا رہی ہے، جس کا خمیازہ بالآخر عام عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جب بھی صوبائی حکومت اور مرکزی اختیارات کے حامل اداروں میں تصادم ہوتا ہے، ترقیاتی عمل رک جاتا ہے اور روزمرہ کے امور شدید متاثر ہوتے ہیں۔

عوامی ردعمل اور موجودہ سیاسی صورتحال

مقامی سطح پر عوام کی طرف سے اس بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں وہ طبقہ جو سابقہ حکومت سے متنفر تھا، وہ اس تنقید کی تائید کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اس پر بحث چھڑ گئی ہے۔

زبیر خان نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ اپنے سیاسی مستقبل کو خود سنواریں اور کسی کے دلفریب نعروں یا جھوٹے وعدوں میں نہ آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار ایک ہی نام پر عوام کو لوٹنے اور گمراہ کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور عوامی خدمت کا عزم

بیان کے اختتام پر زبیر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ سے عوام کی خدمت رہا ہے اور رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ:

  • عہدہ ہو یا نہ ہو، وہ ہمیشہ عوام کے درمیان موجود رہیں گے۔
  • پچھلے ادوار کی طرح آئندہ بھی غریب اور متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔
  • عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ خبر اور اس میں شامل خیالات متعلقہ مقامی رہنما کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارتی طور پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ خبر میں کسی قسم کی جانبداری یا غیر تصدیق شدہ الفاظ کو شامل نہ کیا جائے اور معروضی صحافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل تفصیلات قارئین تک پہنچائی جائیں۔