Preloader
Solidarity with Kashmir at LUMHS

اہم نکات (خلاصہ)

  • یکجہتی ریلی: لمس یونیورسٹی جامشورو میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔
  • اعلیٰ قیادت و اساتذہ کی شرکت: ریلی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن سمیت یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسرز، اساتذہ، ملازمین اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
  • سیمینار اور دستاویزی فلم: ریلی کے بعد منعقدہ سیمینار میں طلبہ نے تقاریر کیں اور مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہی فراہم کرنے والی خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
  • عالمی برادری پر زور: وائس چانسلر نے پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

تعارف اور خبر کا پس منظر

سندھ کے تاریخی تعلیمی شہر جامشورو میں واقع ملک کے نامور طبی ادارے، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ‘یومِ سیاہ کشمیر’ نہایت سنجیدگی اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد کشمیریوں پر ہونے والے مسلسل غصبانہ اقدامات، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور عالمی برادری کی توجہ اس اہم تنازع کی جانب مبذول کروانا تھا۔

تقریب کی شروعات ایک پُرامن لیکن پروقار ریلی سے ہوئی، جو مین کیمپس کے مرکزی راستوں سے ہوتی ہوئی وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے دوران کیمپس کی فضا کشمیریوں کی حمایت میں بلند ہونے والے نعروں سے گونجتی رہی۔

ریلی میں شرکاء کا جوش و خروش اور پیغامات

ریلی میں یونیورسٹی کی تمام تر شعبہ جات اور انتظامیہ سے وابستہ افراد نے اتحاد اور یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ و طالبات نے اپنے ہاتھوں میں مختلف قسم کے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں، بھارتی تسلط کی مذمت میں اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں تحریریں درج تھیں۔

اس موقع پر شرکاء نے درج ذیل بنیادی نکات کو اپنے پیغامات کا حصہ بنایا:

  • یکساں جذبات: “کشمیر کا درد ہمارا درد ہے” کا نعرہ لگا کر یہ باور کرایا گیا کہ تمامپاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ دل سے جڑی ہوئی ہے۔
  • انسانی حقوق کا پاس: کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور عزتِ نفس کے تحفظ کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
  • خودارادیت کی حمایت: اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق دینے پر زور دیا گیا۔

آگاہی سیمینار اور دستاویزی فلم کی نمائش

ریلی کی اختتام پذیری کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایک خاص آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد بالخصوص جوان نسل اور شعبہ طب کے طلبہ کو مسئلہ کشمیر کی تاریخی بصیرت اور موجودہ چیلنجز سے روشناس کروانا تھا۔

سیمینار کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  1. طلبہ کی تقاریر: طلبہ نے اپنی تقاریر میں کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط جدوجہدِ آزادی، ان کی قربانیوں اور خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
  2. دستاویزی فلم: تقریب کے دوران طلبہ کو ایک دستاویزی فلم (Documentary) دکھائی گئی، جس میں مقبوضہ وادی کی حقیقی صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگینی اور عوام کی صابرانہ جدوجہد کے مناظر شامل تھے۔

وائس چانسلر اور تعلیمی قیادت کا موقف

لیاقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام جس کرب اور مشکلات سے گزر رہے ہیں، اسے کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے خطاب کی اہم باتیں درج ذیل ہیں:

  • بین الاقوامی قراردادیں: انہوں نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق مسئلہ کشمیر کے فوری، منصفانہ اور پرامن حل کے حامی ہیں۔
  • تعلیمی اداروں کی ذمہ داری: انہوں نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فرض صرف نصابی تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ سماجی انصاف، عالمی امن اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے شعور اجاگر کرنا بھی ہے۔
  • یکجہتی کا اعادہ: انہوں نے کہا کہ لمس کی پوری برادری بشمول اساتذہ، عملہ اور طلبہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

نمایاں شخصیات کی شرکت

اس تاریخی ریلی اور سیمینار میں لیاقت یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ اور مختلف فیکلٹیز کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں درج ذیل نامور اساتذہ اور ڈاکٹرز شامل تھے:

  • پروفیسر ڈاکٹر ثمرین میمن
  • پروفیسر ڈاکٹر منظور علی لاکھیر
  • ڈاکٹر سلمان شمس
  • ڈاکٹر سنتوش کمار
  • ڈاکٹر فرحانہ راجپر
  • پروفیسر ڈاکٹر نصرت نثار
  • پروفیسر ڈاکٹر احسن لغاری
  • پروفیسر عمران شیخ

حاصلِ کلام

جامشورو میں لیاقت یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی یہ آواز اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا تعلیمی و باضمیر طبقہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تقریب کے اختتام پر دنیا بھر کے امن پسند اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیر میں قیامِ امن اور انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ نیوز رپورٹ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو میں منعقدہ تقریب اور اس میں جاری کردہ سرکار و انتظامی بیانات کی بنیاد پر معروضی بنیادوں پر تیار کی گئی ہے۔ ادارے کا مقصد واقعہ کی حقیقت پسندانہ اور جامع کوریج فراہم کرنا ہے۔