اہم نکات (خلاصہ) سرپرائز دورہ اور معائنہ: ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے لمس (LUMHS) اسپتال جامشورو کا تفصیلی دورہ کیا اور او پی ڈی، مختلف وارڈز، اسٹور روم اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ مریضوں سے براہ راست گفتگو: زیر علاج مریضوں سے ملاقات کر کے علاج کی کیفیت، مفت ادویات کی فراہمی اور عملے کے رویے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ادویات اور ریکارڈ کی پڑتال: اسپتال اسٹور میں موجود ادویات کی دستیابی اور ان کے رجسٹرڈ اسٹاک کا باریک بینی سے معائنہ کیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اداریاتی خودمختاری: ایم ایس ڈاکٹر مرتضیٰ میمن نے بتایا کہ سول اسپتال حیدرآباد سے علیحدگی کے بعد اب لمس اسپتال کو مستقل اور خودمختار بنیادوں پر بہترین سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ صفر برداشت کی پالیسی: ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے معاملات میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر): عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور سرکاری اسپتالوں میں انتظامی امور کی بہتری کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) اسپتال جامشورو کا ایک اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے اسپتال کی عمارت، صفائی ستھرائی کے انتظامات، مختلف عمومی اور شعبہ جات کی او پی ڈی سمیت وارڈز کا تفصیلی معائنہ کیا اور علاج کے لیے آنے والے عام شہریوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا موقع پر جائزہ لیا۔ ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کا بنیادی مقصد سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا، مریضوں کے مسائل کا فوری ازالہ کرنا اور ادویات کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے تاکہ غریب و نادار طبقے کو علاج معالجے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مریضوں سے گفتگو اور سہولیات کی جانچ ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے دورے کے دوران اسپتال میں داخل مختلف زیر علاج مریضوں کے پاس جا کر ان کی عیادت کی اور ان سے براہ راست گفتگو کی اور اسپتال میں ملنے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے پوچھا کہ کیا انہیں ڈاکٹروں کی خدمات بروقت میسر ہیں، علاج مفت کیا جا رہا ہے اور کیا اسپتال کے اندر سے ادویات کی فراہمی بلا تعطل ممکن ہو رہی ہے یا نہیں؟ ڈپٹی کمشنر نے او پی ڈی (آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ) کا بھی معائنہ کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر سووں مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ انہوں نے وہاں موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری کی پڑتال کی اور ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مریضوں کو لمبی قطاروں اور غیر ضروری تاخیر سے بچانے کے لیے او پی ڈی کے نظام کو مزید منظم اور فعال بنایا جائے۔ ادویات کے اسٹاک اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال سرکاری اسپتالوں میں اکثر ادویات کی عدم دستیابی یا ناپید ہونے کی شکایات عام رہتی ہیں۔ اس نقطے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے لمس اسپتال کے مین میڈیسن اسٹور کا خصوصی معائنہ کیا۔ انہوں نے اسٹور میں موجود ادویات کی مقدار اور ان کی معیار کا جائزہ لیا اور اسٹاک رجسٹر کے ساتھ ادویات کے موجودہ ذخائر کا باریک بینی سے موازنہ کیا۔ انہوں نے اسٹور انچارج اور انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ ادویات کی خریداری اور تقسیم میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ حکومت کی طرف سے بھیجی جانے والی تمام زندگی بچانے والی ادویات (Life-Saving Drugs) واقعی مستحق مریضوں تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی شارٹیج کا مصنوعی بحران پیدا کرنے یا کسی بھی قسم کی بے قاعدگی پر سخت قانونی اور ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامی ہدایات اور “صفر برداشت” کا اصول معائنے کے بعد اسپتال انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے کہا کہ انسانی زندگیوں کا تحفظ اور شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسپتال آنے والا ہر شہری ہماری توجہ اور بہترین علاج کا حقدار ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے صفائی ستھرائی کی موجودہ صورتحال پر خصوصی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسپتال کے واش رومز، وارڈز اور راہداریوں میں صفائی کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ گندگی بذات خود متعدد بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے کہا: “مریضوں کے علاج، ادویات کی فراہمی اور اسپتال میں صفائی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فرائض میں غفلت برتنے والے عملے کے خلاف بلاامتیاز یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔” لمس اسپتال کی اداریاتی حیثت اور تاریخی پس منظر اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) لمس اسپتال جامشورو ڈاکٹر مرتضیٰ میمن نے ڈپٹی کمشنر جامشورو کو اسپتال کے ڈھانچے اور حالیہ اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ میمن نے بتایا کہ ماضی میں لمس اسپتال جامشورو کو انتظامی طور پر سول اسپتال حیدرآباد کے ساتھ منسلک (Attach) کیا گیا تھا، جس کے باعث جامشورو کی مقامی آبادی کو علاج معالجے اور انتظامی امور میں شدید مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، اب حکومتِ سندھ اور صوبائی وزیر صحت کی خصوصی ہدایات کے تحت لمس اسپتال جامشورو کو سول اسپتال حیدرآباد سے مکمل طور پر علیحدہ کر کے ایک مستقل اور خودمختار اداریاتی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس اقدام سے جہاں اسپتال کو براہ راست بجٹ اور وسائل کی فراہمی آسان ہوئی ہے، وہیں مقامی سطح پر فیصلے کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایم ایس نے مزید بتایا کہ علیحدگی کے بعد اب اسپتال میں نئی مشینیں، جدید طبی سامان اور مطلوبہ ادویات کی بروقت فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے تاکہ جامشورو، کوٹری اور گردونواح کے دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو حیدرآباد یا کراچی کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اہم عہدیداروں کی شرکت اس اہم انتظامی دورے کے موقع پر ضلعی صحت کے دیگر اعلیٰ حکام اور اسپتال کے سینئر افسران بھی ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ موجود تھے، جن میں شامل ہیں: ڈاکٹر پیر منظور احمد (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر – DHO جامشورو) ڈاکٹر نیاز ببر (ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ – AMS لمس اسپتال) شعبہ جات کے انچارجز، سینئر ڈاکٹرز اور دیگر انتظامی و طبی عملہ ان تمام افسران نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ دیے گئے احکامات اور ہدایات پر حرف بحرف عمل درآمد کیا جائے گا اور اسپتال کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے گا۔ علاقے پر اثرات اور عوامی توقعات جامشورو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے ایک اہم مرکز ہے بلکہ یہ ضلع کی سطح پر ایک گنجان آباد علاقہ بھی ہے۔ یہاں قائم لمس یونیورسٹی سے ملحقہ اسپتال پر نہ صرف مقامی شہر بلکہ مٹیاری، دادو، اور نواب شاہ جیسے قریبی اضلاع کے غریب مریضوں کا بھی بھاری بوجھ ہوتا ہے۔ ماضی میں حیدرآباد سول اسپتال سے منسلک ہونے کے باعث بجٹ کی تقسیم اور انتظامی سست روی کی وجہ سے شہریوں کو شکایت رہی ہے کہ انہیں بنیادی ٹیسٹ یا ادویات کے لیے بھی نجی لیبارٹریوں یا حیدرآباد کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، اب جبکہ اسپتال کو علیحدہ اور بااختیار بنایا جا چکا ہے، ضلعی انتظامیہ کے ایسے سرپرائز دوروں اور کڑی نگرانی سے عوام میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے حالات میں بہتری آئے گی۔ طبی ماہرین اور مقامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایسے معائنے محض کاغذی کارروائی یا سستی شہرت تک محدود نہیں رہنے چاہیے بلکہ ان کے نتیجے میں مسلسل اور پائیدار اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ عام آدمی کو صحت کا وہ بنیادی حق مل سکے جس کا آئینِ پاکستان وعدہ کرتا ہے۔ Post navigation پارٹی کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سہیل افریدی لانگ مارچ پر جانے کی بجائے جیل جانے کی تیاری کریں۔ سکردو: ’قیدی نمبر 804‘ کا نعرہ لگانے پر مزمل علی کی درخواستِ ضمانت مسترد، ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل