Preloader
news zalzala post earthquake square 1790428805895

اہم نکات (خلاصہ)

  • تقریب اور میزبانی: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) سندھ کے ترجمان ڈاکٹر اے جی انصاری کی سینئر صحافی عبدالرحمن کے عشائیے میں شرکت اور کراچی پریس کلب میں صحافتی برادری سے اہم ملاقات۔
  • ثقافتی احترام: صحافی برادری کی جانب سے ڈاکٹر اے جی انصاری کو سندھ کے روایت کے مطابق اجرک اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا گیا۔
  • امن و رواداری کا پیغام: جنگ اور تصادم کے مقابلے میں طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کو عالمی ترقی اور پائیدار امن کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا۔
  • عالمی امن کانفرنس کی دعوت: مارچ 2027 میں سکھر میں منعقد ہونے والی تین روزہ عظیم الشان ‘عالمی امن کانفرنس’ کے لیے صحافی برادری، دانشمندوں اور سول سوسائٹی کو باضابطہ شرکت کی دعوت۔

کراچی (خاص رپورٹ: اے جی بلوچ)

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگی ماحول اور نظریاتی تصادم کے اس دور میں باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں جے یو آئی سندھ کے ترجمان ڈاکٹر اے جی انصاری نے کراچی پریس کلب میں صحافی برادری اور اہم میڈیا شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا کا روشن مستقبل جنگ اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ انصاف، رواداری اور پرامن سیاسی و سماجی جدوجہد میں مضمر ہے۔

ڈاکٹر اے جی انصاری نے یہ بات سینئر صحافی، کراچی پریس کلب کے ترجمان اور این این آئی کراچی کے بیورو چیف عبدالرحمن کی جانب سے دیے گئے ایک پروقار عشائیے کے موقع پر کہی۔ اس تقریب میں کراچی اور دیگر اضلاع کے ممتاز صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کراچی پریس کلب میں پروقار تقریب اور ثقافتی پذیرائی

کراچی میں منعقدہ اس پریس ملن اور عشائیے میں صحافتی برادری کے نمایاں نمائندے اور عہدیداران موجود تھے۔ تقریب میں کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان، سینئر صحافی عبدالجبار ناصر، وکیل الرحمن، خالد محمود، رضوان بھٹی، منیر شاہ، اور جیکب آباد سے آئے ہوئے صحافی زاہد حسین رند سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب کا ماحول انتہائی شائستہ اور فکر انگیز تھا، جہاں صحافت، میڈیا کی ذمہ داریوں اور موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر صحافی برادری کی جانب سے ڈاکٹر اے جی انصاری کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور سندھ کی دیرینہ اور باوقار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا گیا۔ اس ثقافتی تحفے کو ڈاکٹر انصاری نے سندھ کی مہمان نوازی اور صحافتی برادری کی محبت کا بے مثال مظاہرہ قرار دیا۔

عالمی امن، برداشت اور مکالمے کی ناگواری

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جے یو آئی سندھ ڈاکٹر اے جی انصاری نے عالمی و علاقائی صورتحال کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج نفرت اور تصادم کا پھیلتا ہوا رجحان ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا استعمال کبھی بھی پائیدار حل فراہم نہیں کر سکتا۔

“آج دنیا کو جنگ اور نفرت کی نہیں بلکہ امن، برداشت، باہمی احترام اور باوقار مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ امن کے بغیر نہ تو کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور نہ ہی انسانیت کے لیے کسی روشن مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔” — ڈاکٹر اے جی انصاری

انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ پرامن سیاسی جدوجہد، انسانی حقوق کی پاسداری، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اپنا بنیادی منشور بنایا ہے۔ سیاسی یا نظریاتی اختلافات کو ختم کرنے کا واحد راست راستہ یہ ہے کہ تمام فریقین انصاف اور باوقار مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کا کلیدی کردار

موجودہ تناظر میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ جہاں دنیا افواہوں اور منفی بیانیے کی زد میں ہے، وہاں صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو محض خبریں دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معاشرے میں باہمی برداشت، اخوت اور امن کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ صحافتی برادری اپنے قلم اور آواز کے ذریعے نفرت کے بیانیے کا مقابلہ کر سکتی ہے اور عوام میں مثبت فکر اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

سکھر میں 2027ء کی عظیم الشان عالمی امن کانفرنس

ڈاکٹر اے جی انصاری نے کراچی پریس کلب کے عہدیداران، صحافی برادری اور سول سوسائٹی کو جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک انتہائی اہم عالمی تقریب کا باضابطہ دعوت نامہ پیش کیا۔

کانفرنس کی اہم تفصیلات:

  • تاریخ انعقاد: 19، 20 اور 21 مارچ 2027ء
  • مقام: سکھر، سندھ
  • میزبان و قیادت: جے یو آئی، تحتِ قیادت مولانا فضل الرحمن
  • موضوع: عالمی امن، اخوت، انسانیت اور مکالمہ

انہوں نے بتایا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ تین روزہ کانفرنس ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں، سیاسی و سماجی شخصیات، مفکرین، اور عالمی مندوبین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ اس اجتماع کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ اسلام اور پرامن گروہ ہمیشہ سے انسانیت، انصاف اور بھائی چارے کے حامی رہے ہیں۔

تنازعات کا پس منظر اور موجودہ سیاسی ضرورت

اگر ہم موجودہ ملکی و عالمی حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا کے دیگر خطوں تک جنگی ماحول اور معاشی ناہمواری نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان کے اندرونی حالات میں بھی سیاسی عدم استحکام اور معاشرتی عدم برداشت کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس صورتحال میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے صحافتی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر امن کی گفتگو کرنا ایک خوش آئند قدم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سکھر میں ہونے والی عالمی امن کانفرنس نہ صرف سندھ کے ثقافتی و مذہبی تنوع کو اجاگر کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک پرامن اور مثبت امیج کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

صحافتی برادری کی جانب سے حوصلہ افزائی اور شکر گزاری

تقریب کے اختتام پر صحافی برادری نے ڈاکٹر اے جی انصاری کے خیالات اور امن کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کو سراہا۔ صحافیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحافت کا بنیا دی مقصد ہی سچائی کے ساتھ ساتھ انسانی قدروں اور امن کا تحفظ کرنا ہے۔

ڈاکٹر اے جی انصاری نے میزبانی کرنے پر این این آئی کے بیورو چیف عبدالرحمن، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ پرکشش اور پرتکلف عشائیے کے ساتھ یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی، جس میں آئندہ بھی صحافتی برادری اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔