Preloader
Educational emergency in kp

اہم نکات (خلاصہ)

  • سرکاری تعلیمی اداروں کا ڈیٹا: صوبے بھر میں کل 34 ہزار 784 سرکاری اسکول فعال ہیں، تاہم ان کا ایک بڑا حصہ شدید زبوں حالی اور انتظامی چیلنجز کا شکار ہے۔
  • کلاس رومز کا بحران: اعداد و شمار کے مطابق 36 ہزار 967 کلاس رومز بالکل نا قابلِ استعمال یا ختم ہو چکے ہیں، جبکہ 19 ہزار 224 کلاس رومز کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔
  • اسکولوں کی سیلنگ: مختلف انتظامی اور حفاظتی بنیادوں پر صوبے بھر میں 3 ہزار کے قریب اسکول سیل کر دیے گئے ہیں، جس سے ہزاروں طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
  • نجی شعبے کا حجم: ڈائریکٹر محکمہ ثانوی و اعلیٰ تعلیم جعفر منصور کے مطابق صوبے میں اس وقت 11 ہزار 542 نجی اسکول رجسٹرڈ ہیں جو تعلیمی خلا کو پر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

خبر کا پس منظر: صوبائی تعلیمی نظام اور انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال

کسی بھی معاشرے کی ترقی، معاشی استحکام اور روشن مستقبل کا دارومدار اس کے تعلیمی نظام اور بنیادی تعلیمی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر ہوتا ہے۔ تاہم، صوبے میں گزشتہ چند دہائیوں سے قدرتی آفات، فنڈز کی عدم دستیابی، سست روی کا شکار ترقیاتی منصوبے اور انتظامی غفلت جیسے عوامل نے سرکاری تعلیمی اداروں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

بارشوں، زلزلوں اور دیکھ بھال کے مناسب نظام (Maintenance System) کی عدم موجودگی کے باعث سینکڑوں اسکولوں کی عمارتیں وقت کے ساتھ ساتھ خستہ حال ہوتی گئیں اور بالآخر ناقابلِ استعمال ہو کر ختم ہو گئیں۔ اس تمام صورتِ حال کا براہِ راست اثر ان غریب اور متوسط طبقے کے بچوں پر پڑ رہا ہے جن کے لیے تعلیم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہ سرکاری اسکول ہی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں: تعلیمی اداروں کا تفصیلی جائزہ

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ اور اعداد و شمار نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کی سنجیدگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صوبے میں بنیادی تعلیمی ڈھانچے کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔

مندرجہ ذیل نکات اور ڈیٹا صوبے کی موجودہ صورتحال کی کی عکاسی کرتے ہیں:

  • کل سرکاری اسکول: صوبے بھر میں مجموعی طور پر 34,784 سرکاری اسکول موجود ہیں، جن پر لاکھوں بچوں کی بنیادی و ثانوی تعلیم کا انحصار ہے۔
  • ختم شدہ کلاس رومز: عمارتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ناکارہ ہونے کی وجہ سے 36,967 کلاس رومز عملی طور پر ختم یا نا قابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔
  • ازسرنو تعمیر کے منتظر کلاس رومز: صوبے بھر میں 19,224 ایسے کلاس رومز کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی عمارتیں اتنی خطرناک ہو چکی ہیں کہ انہیں مسمار کر کے ازسرنو تعمیر کرنا ناگزیر ہے۔
  • سیل شدہ اسکول: مختلف انتظامی، سیکیورٹی، قانونی اور عمارتوں کے غیر محفوظ ہونے کے باعث 3,000 سے زائد اسکولوں کو سیل کیا جا چکا ہے۔
  • رجسٹرڈ نجی اسکول: ڈائریکٹر محکمہ ثانوی و اعلیٰ تعلیم جعفر منصور کے مطابق صوبے میں 11,542 نجی اسکول باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں، جو اس وقت تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم لیکن مہنگا متبادل بنے ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ

کیٹیگری / شعبہتعداد / ڈیٹاموجودہ صورتحال اور چیلنج
کل سرکاری اسکول34,784صوبے کے تمام اضلاع میں قائم سرکاری تعلیمی نیٹ ورک
ختم شدہ کلاس رومز36,967زبوں حالی اور دیکھ بھال نہ ہونے سے ناکارہ ہو چکے ہیں
ازسرنو تعمیر طلب کلاس رومز19,224طلباء کے لیے خطرہ، فوری دوبارہ تعمیر کی ضرورت
سیل شدہ اسکول~3,000انتظامی اور سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بند
رجسٹرڈ پرائیویٹ اسکول11,542نجی شعبے کے تحت کام کرنے والے ادارے (بحوالہ جعفر منصور)

تعلیمی بحران کے منفی اثرات: طلباء، اساتذہ اور معاشرہ

کلاس رومز کی اتنی بڑی تعداد میں تباہی اور اسکولوں کی سیلنگ سے پیدا ہونے والے مسائل محض اینٹ اور پتھر کی عمارتوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس سے ایک پورا معاشرتی اور تعلیمی بحران جنم لے رہا ہے:

  1. کھلے آسمان تلے تعلیم: ہزاروں طلباء کلاس رومز کی عدم دستیابی اور عمارتوں کی خستہ حالی کے باعث شدید گرمی، سردی اور برسات کے موسم میں کھلے آسمان تلے یا خیموں میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔
  2. اسکول چھوڑنے کی شرح (Drop-out Rate) میں اضافہ: اسکولوں کی بندش اور فاصلے بڑھنے سے بالخصوص طالبات (Girls Students) کی بڑی تعداد تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو رہی ہے، کیونکہ والدین غیر محفوظ یا دور دراز کے اسکولوں میں بچیوں کو بھیجنے سے کتراتے ہیں۔
  3. کلاس رومز میں اوور کراؤڈنگ: جہاں کلاس رومز بچے ہیں، وہاں ایک ہی کمرے میں متعدد کلاسوں کے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے، جس سے تدریسی معیار اور توجہ کی صلاحیت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
  4. نجی اسکولوں پر انحصار اور معاشی بوجھ: سرکاری اسکولوں کی ناکامی کے باعث غریب والدین کو بھی اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرانا پڑ رہا ہے، جس سے ان پر بھاری فیسوں اور تعلیمی اخراجات کا ایک اضافی معاشی بوجھ پڑ رہا ہے۔

نجی شعبے کا کردار اور ڈائریکٹر تعلیم کا موقف

ڈائریکٹر محکمہ ثانوی و اعلیٰ تعلیم جعفر منصور کے مطابق صوبے میں رجسٹرڈ 11 ہزار 542 نجی اسکول اس وقت تعلیمی خلا کو پر کرنے میں ایک اہم متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور ان میں تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے محکمہ تعلیم اقدامات کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

تاہم، تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی اسکول کبھی بھی سرکاری اسکولوں کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتے۔ نجی ادارے زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود ہیں، جبکہ دور دراز دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جہاں غربت زیادہ ہے، وہاں صرف اور صرف فعال سرکاری اسکول ہی واحد امید ہوتے ہیں۔

مسئلے کا حل اور مستقبل کا لائحہ عمل

اس سنگین تعلیمی صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت، محکمہ تعلیم اور تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی ماہرین نے مندرجہ ذیل اہم تجاویز پیش کی ہیں:

  • تعلیمی ایمرجنسی اور بجٹ میں اضافہ: صوبائی بجٹ میں تعلیم اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے فنڈز کی تخصیص میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
  • ترجیحی تعمیراتی منصوبے: جن 19 ہزار سے زائد کلاس رومز کو ازسرنو تعمیر کی ضرورت ہے، ان کے لیے ہنگامی فنڈز جاری کر کے مرحلہ وار تعمیراتی کام فوری شروع کیا جائے۔
  • سیل شدہ اسکولوں کی ری اسیسمنٹ: 3 ہزار کے قریب سیل شدہ اسکولوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور جن اسکولوں کو معمولی مرمت یا انتظامی اصلاحات کے بعد کھولا جا سکتا ہے، انہیں بلا تاخیر فعال کیا جائے۔
  • شفافیت اور معیاری کام: C&W اور دیگر تعمیراتی اداروں کو پابند کیا جائے کہ اسکولوں کی تعمیر میں معیاری مٹیریل کا استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ عمارتیں پائیدار رہ سکیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی ذمہ داری اور معروضیت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ محکمہ تعلیم اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان تشویشناک اعداد و شمار کو محض کاغذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ہر بچے کے بنیادی حق یعنی “حصولِ تعلیم” کو یقینی بنائیں۔

اگر اب بھی تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے فوری اور ہنگامی اقدام نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کا تعلیمی مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا، جس کا خمیازہ پورے صوبے اور ملک کو بھگتنا پڑے گا۔