Preloader
Assistant commissioner visit different schools

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتظامی تحرک: ڈپٹی کمشنر ہری پور کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر خان پور مس عائشہ ناصر نے تحصیل خان پور کے متعدد سرکاری اسکولوں کا ہنگامی اور تفصیلی معائنہ کیا۔
  • مشترکہ ٹیکنیکل ٹیم: معائنے کے دوران محکمہ تعلیم کے افسران، کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کے سب انجینئرز اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کی ٹیکنیکل ٹیمیں بھی ہمراہ تھیں۔
  • بنیادی سہولیات کا جائزہ: اسکولوں کی عمارتوں کی پائیداری، کلاس رومز، چاردیواری، پینے کے صاف پانی، واش رومز اور بجلی کی سہولیات کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔
  • فوری مرمت کے احکامات: خستہ حال اور مرمت طلب عمارتوں کی نشاندہی کر کے متعلقہ محکموں کو فوری طور پر مرمتی کام شروع کرنے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت کی گئی۔

خبر کا پس منظر: خیبر پختونخوا میں تعلیمی انفراسٹرکچر کا جائزہ

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور اور بالخصوص اس کی تحصیل خان پور میں سرکاری اسکولوں کے معیار اور وہاں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات پر ہمیشہ سے خصوصی توجہ کی ضرورت رہی ہے۔ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں قائم متعدد تعلیمی ادارے موسمی اثرات، عمارتوں کی قدامت اور بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث خستہ حالی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے طلباء و طالبات کی تدریسی سرگرمیاں اور ان کی حفاظت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔

حکومت خیبر پختونخوا کی عمومی پالیسی اور ضلعی انتظامیہ ہری پور کے وژن کے مطابق، سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں کے ہم پلہ لانے اور طلباء کے لیے ایک محفوظ و سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلۂ عمل کے تحت ڈپٹی کمشنر ہری پور نے تمام سب ڈویژنز کے انتظامی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کا میدانِ عمل میں جا کر معائنہ کریں اور خستہ حالی کی نشاندہی پر فوری تدارک یقینی بنائیں۔

اسسٹنٹ کمشنر خان پور مس عائشہ ناصر کا دورہ: ایک تفصیلی معائنہ

ڈپٹی کمشنر ہری پور کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر خان پور مس عائشہ ناصر نے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ ٹیم کے ہمراہ تحصیل خان پور کے مختلف بوائز اور گرلز سرکاری اسکولوں کا دورہ کیا۔

اس معائنے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف روایتی دورہ نہیں کیا گیا بلکہ تکنیکی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو بھی ساتھ شامل رکھا گیا، تاکہ کسی بھی عمارت کے ساختی نقائص (Structural Defects) کا موقع پر ہی صحیح اور سائنسی اندازہ لگایا جا سکے۔

ٹیم میں درج ذیل شعبہ جات کے نمائندے شامل تھے:

  • محک محکمہ تعلیم: اسکولوں کی حاضری اور تدریسی معیار کے جائزے کے لیے۔
  • محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W): اسکول کی عمارتوں، چھتوں اور چاردیواری کے استحکام کی جانچ کے لیے۔
  • تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) ٹیکنیکل ٹیم: واش رومز، سینیٹیشن، واٹر سپلائی اور صفائی کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے۔

معائنے کے دوران کا جائزہ اور تکنیکی نكات

دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء سے گفتگو کی اور درج ذیل بنیادی امور کا تفصیلی جائزہ لیا:

  1. عمارتوں کی سیکیورٹی اور چاردیواری: خصوصاً گرلز اسکولوں میں چاردیواری کے تحفظ اور اونچائی کا معائنہ کیا گیا تاکہ طالبات کا تعلیمی ماحول مکمل طور پر محفوظ رہے۔
  2. سینیٹیشن اور واش رومز: اسکولوں میں واش رومز کی حالت، صفائی کے انتظامات اور مسلسل پانی کی فراہمی کو پرکھا گیا۔
  3. پینے کا صاف پانی اور بجلی: اسکولوں میں بجلی کی وائرنگ اور پینے کے پانی کی ٹینکیوں کی صفائی و دستیابی کی تصدیق کی گئی۔
  4. کلاس رومز اور فرنیچر: کمرۂ جماعت کی حالت، روشنی کے مناسب انتظام اور بچوں کے بیٹھنے کے فرنیچر کی دستیابی کا معائنہ کیا گیا۔
معائنے کا شعبہجانچ کے اہم نکاتانتظامیہ کی پیش رفت / ہدایت
عمارت و چاردیواریچھتوں کی دراڑیں، چاردیواری کی مضبوطیC&W کو خستہ حال حصوں کی فوری مرمت کا حکم
سینیٹیشن و واش رومزصفائی، واش رومز کی حالت، سیوریجTMA کو فوری سینیٹیشن ڈرائیو اور پائپ لائنز درست کرنے کی ہدایت
بجلی و پانیوائرنگ، پینے کا صاف پانیبجلی کی ننگی تاروں کی تبدیلی اور فلٹریشن کے احکامات
تدریسی ماحولاساتذہ و طلباء کی حاضری، روشنیمحکمہ تعلیم کے افسران کو حاضری کی سخت نگرانی کی ہدایت

خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی اور فوری احکامات

معائنے کے دوران جن سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، چھتوں یا چاردیواری میں خستہ حالی اور خرابی پائی گئی، ان کے متعلق اسسٹنٹ کمشنر مس عائشہ ناصر نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور موقع پر موجود C&W اور TMA کے سب انجینئرز کو ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے تمام ضروری کاغذات اور تخمینہ جات (Estimates) ہنگامی بنیادوں پر مرتب کیے جائیں۔ تمام متعلقہ محکموں کو پابند کیا گیا کہ وہ اندریں چند ایام ایک جامع رپورٹ ڈپٹی کمشنر دفتر میں جمع کرائیں تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی اور مرمتی کام کا باقاعدہ آغاز ممکن ہو سکے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے واضح الفاظ میں کہا: “سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خستہ حال عمارتیں طلباء اور اساتذہ کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، لہٰذا ان کا علاج ترجیحی بنیادوں پر ضروری ہے۔”

اجلاس اور سیکیورٹی و تعلیمی اثرات

ضلعی انتظامیہ ہری پور کا یہ اقدام صرف ایک وقتی دورے تک محدود نہیں بلکہ اس کے درپردہ دور رس تعلیمی اور سماجی اثرات مرتب ہوں گے۔

  • والدین کے اعتماد کی بحالی: دیہی علاقوں کے عام شہریوں اور والدین کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال ہوگا کہ ان کے بچوں کو محفوظ ماحول مل رہا ہے۔
  • ترکِ اسکول (Drop-out Rate) میں کمی: بنیادی سہولیات جیسے صاف واش رومز اور پینے کے پانی کی موجودگی سے خصوصاً گرلز اسکولوں میں طالبات کی حاضری کا تناسب بڑھے گا۔
  • محکمہ جات کا باہمی رابطہ (Inter-departmental Coordination): محکمہ تعلیم، C&W اور TMA کا ایک ساتھ کام کرنا انتظامی سستی اور تاخیری حربوں کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔

ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی نقطہ نظر سے ضلعی انتظامیہ ہری پور اور اسسٹنٹ کمشنر خان پور کا یہ اقدام انتہائی قابلِ تحسین ہے، تاہم اس کی حقیقی افادیت اس وقت ہی سامنے آئے گی جب نشاندہی کی گئی عمارتوں کی مرمت کا کام عملی طور پر مکمل ہوگا اور متعلقہ محکمے وقت مقررہ پر کام کی رپورٹ پیش کریں گے۔

عوامی و تعلیمی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ ہری پور کے اس متحرک کردار کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ضلع کے دیگر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے اسکولوں میں بھی اسی نوعیت کی مہم بلا تعطل جاری رکھی جائے گی تاکہ ضلع ہری پور کو ایک ماڈل تعلیمی ضلع بنایا جا سکے۔