Preloader
Field Marshall visited Corps Commander peshawar

اہم نکات (خلاصہ)

  • پشاور کا اعلیٰ سطح دورہ: چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں امن و امان کی صورتحال اور سرحدی امور پر بریفنگ دی گئی۔
  • دہشت گردی کے خلاف سخت موقف: بھارت کی سرپرستی میں سرگرم تمام شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز آپریشنز جاری رکھنے اور جہاں بھی خطرہ ہو، وہاں سخت جوابی کارروائی کا اعادہ کیا گیا۔
  • عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے شہداء، غازیوں اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
  • عوامی حمایت سے مکمل فتح کا عزم: فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ پاکستانی عوام کی اٹوٹ حمایت اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دہشت گردوں اور ان کے گمراہ کن نظریے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

کور ہیڈکوارٹرز پشاور کی آمد اور بریفنگ کے اہم پہلو

پشاور میں پاک فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا۔ کور ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر کمانڈر پشاور کور نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، پاک افغان سرحدی انتظامات اور سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس کے دوران عسکری قیادت کو صوبے میں انسدادِ دہشت گردی کی جاری کارروائیوں اور تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل کو بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہم آہنگی کے ساتھ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کر رہے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے تمام نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

افسران اور جوانوں کا بلند حوصلہ اور آپریشنل تیاریاں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بریفنگ کے بعد کور کے افسران اور جوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے میدانِ جنگ اور تمام محاذوں پر تعینات فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مستعدی اور بلند حوصلے کی بھرپور سراہنا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال یا شریر عناصر کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پاک فوج کی صلاحیتیں مسلّمہ ہیں۔

انہوں نے تمام فارمیشنز کو ہدایت جاری کی کہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا رہا جائے اور اعلیٰ ترین آپریشنل تیاریوں کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ترین حربوں، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ انٹیلی جنس کی مدد سے دشمن کو ہر محاذ پر زبردست شکست دی جائے گی۔

===============================================================
               پشاور دورے کے بنیادی خدوخال اور اہم اعلانات
===============================================================
 ۱. آپریشنل جائزہ:    خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کا معائنہ۔
 ۲. سرحد کی حفاظت:    پاک افغان سرحد کے انتظامات اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ۔
 ۳. دشمن کو تنبیہ:    بھارتی سرپرستی والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی۔
 ۴. نظریاتی جنگ:     دہشت گردوں اور ان کے گمراہ کن بیانیے کو مکمل شکست دینے کا عزم۔
 ۵. شہداء کا احترام:   پاکستانی عوام، شہداء اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں کی پذیرائی۔
===============================================================

بیرونی سرپرستی میں قائم دہشت گرد نیٹ ورکس اور سخت جواب

اپنے خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیموں اور ان کے آلہ کاروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز اور اثر انگیز بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے تمام عناصر کو سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

عسکری قیادت نے اس بات کو نمایاں کیا کہ سیکیورٹی فورسز سرحد پار یا ملک کے اندر موجود کسی بھی دہشت گرد پناہ گاہ اور ان کے سہولت کاروں کو بخشنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ جہاں کہیں بھی کوئی خطرہ یا ان کی موجودگی کی خبر ملے گی، وہاں مکمل قوت سے کارروائی کر کے ان کا صفایا کیا جائے گا۔

شہداء، غازیوں اور عوام کی قربانیوں کی پذیرائی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کی طویل جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے افسران، جوانوں، پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء اور غازیوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا لہو پاکستان کی آزادی اور امن کی ضمانت ہے اور ان کی عظیم قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔

انہوں نے خصوصی طور پر خیبرپختونخوا کے غیرت مند اور غیور عوام کے صابرانہ کردار اور تعاون کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مظالم جھیلے اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے وطن کی دفاعی ڈھال بنے ہیں۔

گمراہ کن نظریے کے خلاف قومی عزم

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک خطرناک اور گمراہ کن نظریہ بھی ہے، جس کا مقصد معاشرے میں انارکی، خوف اور ناامیدی پھیلانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت اور وحدت کی طاقت سے نہ صرف دہشت گردوں کو شکست دی جائے گی بلکہ ان کے گمراہ کن، انتہا پسندانہ اور منفی نظریے کو بھی معاشرے سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے غیور عوام کے ساتھ مل کر تمام شرپسندانہ ہتھکنڈوں کو ناکام بنائے گی اور پاکستان کو امن و ترقی کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

پس منظر اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا تجزیہ

خیبرپختونخوا کی معروضی اور جغرافیائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ خطہ ایک طویل عرصے سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے کامیابی سے متعدد آپریشنز مکمل کیے ہیں، تاہم سرحدی علاقوں سے شرپسند عناصر کی دراندازی کے خطرات بدستور موجود رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں بیرونی مداخلت اور بھارتی کی جانب سے بعض تنظیموں کی پشت پناہی کے ثبوت بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا یہ اہم اور بر وقت دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے نہ صرف اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ سرحد پار اور اندرونِ ملک موجود دشمنوں کو بھی یہ واضح پیغام جائے گا کہ پاکستان کی دفاعی و عسکری قیادت اپنے ملک میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم اور یکسو ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

عسکری حکام کے مطابق، پاک افغان سرحدی علاقوں اور صوبے بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اب مزید منظم انداز سے جاری رہیں گی۔ انسدادِ دہشت گردی کی اس حکمتِ عملی کا مقصد عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے خطے میں پائیدار معاشی و سماجی ترقی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔