Preloader
Serbia’s snap election: What’s at stake and can students unseat Vucic?

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتخابات کا انعقاد: صربیا میں ۲۵ اکتوبر کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جو صدر الیگزینڈر ووچچ کی حکمران جماعت کے اقتدار کا سب سے بڑا امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔
  • تحریک کا پس منظر: نومبر ۲۰۲۴ میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے ۱۶ افراد کی ہلاکت کے بعد بدعنوانی اور حکومتی غفلت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔
  • طلبہ کی قیادت: اس احتجاجی تحریک کی قیادت نوجوان طلبہ نے سنبھالی، جو اب ایک باقاعدہ سیاسی طاقت بن کر الیکشن میں حکمران جماعت کے سامنے ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھرے ہیں۔
  • سیاسی اثرات: یہ انتخابات نہ صرف صربیا میں ۱۴ سال سے قائم ایک ہی جماعت کے سیاسی تسلط کی بقا کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کی جمہوریت اور مستقبل کی سمت کا بھی تعین کریں گے۔

صربیا میں سیاسی ہلچل: ۲۵ اکتوبر کے قبل از وقت انتخابات

صربیا میں ۲۵ اکتوبر کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ملک کی جدید سیاسی تاریخ کے انتہائی حساس اور فیصل کن انتخابات بن چکے ہیں۔ یہ رائے دہی صدر الیگزینڈر ووچچ اور ان کی جماعت ‘صربین پروگریسو پارٹی’ (ایس این ایس) کے اس اقتدار کے لیے ایک بڑا امتحان ہے جو ۲۰۱۲ سے قائم ہے۔ گزشتہ ۱۴ سالوں سے ملک کے سیاسی منظر نامے پر حاوی رہنے والی اس جماعت کو اس بار کسی روايتی اپوزیشن کے بجائے ملک کے غیور اور بیدار مغز طلبہ کی قیادت میں قائم ہونے والی ایک وسیع عوامی تحریک کے شدید چیلنج کا سامنا ہے۔

اس سیاسی کشمکش کو عالمی میڈیا میں ایک تاریخی معرکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایک طرف تمام انتظامی اور معاشی وسائل پر قابض حکمران طبقات ہیں تو دوسری طرف اپنے حقوق، شفافیت اور انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے نوجوان اور شہری موجود ہیں۔

نووی ساد کا سانحہ: ایک سانحے سے جنم لینے والی ملک گیر تحریک

اس تمام سیاسی اور معاشی بحران کی شروعات نومبر ۲۰۲۴ میں اس وقت ہوئی جب صربیا کے دوسرے بڑے شہر نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی حال ہی میں مرمت کی گئی کنکریٹ کی چھت اچانک دھڑام سے نیچے جا گری۔ اس دردناک حادثے میں ۱۶ افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد شدید زخمی ہو گئے۔

اس حادثے نے صربیا کے عوام میں شدید غصے اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ عوام نے اسے محض ایک اتفاقی حادثہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور الزام عائد کیا کہ اس کی بنیادی وجہ حکومتی اداروں میں پھیلی بدعنوانی، تعمیراتی کاموں میں گھپلے اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت ہے۔ ابتدا میں جو احتجاج صرف اس حادثے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے مطالبات تک محدود تھا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک وسیع تر حکومت مخالف اور کرپشن مخالف تحریک میں تبدیل ہو گیا۔

طلبہ کی قیادت: سیاسی میدان میں ایک نئی اور طاقتور لہر

اس ملک گیر تحریک کا سب سے نمایاں اور مختلف پہلو یہ تھا کہ اس کی باگ ڈور روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے مختلف جامعات کے طلبہ نے سنبھالی۔ ۲۰۰۰ میں سلوبوڈان ملوسووچ کے اقتدار کا خاتمہ کرنے والی تحریک کے بعد، صربیا نے اتنی بڑی اور منظم عوامی بیداری کا نظارہ کبھی نہیں کیا تھا۔

طلبہ نے نہ صرف دارالحکومت بیلگریڈ اور دیگر بڑے شہروں میں تاریخی مظاہروں کا انعقاد کیا بلکہ انہوں نے تمام روایتی سیاسی تقسیموں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عام شہریوں کو ایک نقطے پر جمع کیا۔ ان کی اس مہم نے عوام کے اس دیرینہ غصے کو ایک موثر سمت دی جو وہ ۲۰۱۲ سے حکمران جماعت ‘صربین پروگریسو پارٹی’ کی پالیسیوں اور روایتی اپوزیشن کی بے حسی کی وجہ سے محسوس کر رہے تھے۔

===============================================================
            صربیا کے پارلیمانی انتخابات اور بحران کے حقائق
===============================================================
 ۱. بنیادی محرک:       نووی ساد ریلوے اسٹیشن حادثہ (۱۶ ہلاکتیں)۔
 ۲. الیکشن کی تاریخ:    ۲۵ اکتوبر (قبل از وقت پارلیمانی رائے دہی)۔
 ۳. مرکزی سیاسی جماعت:  صربین پروگریسو پارٹی (۲۰۱۲ سے اقتدار میں)۔
 ۴. بنیادی اپوزیشن:    طلبہ کی قیادت میں بننے والا جمہوری اور عوامی اتحاد۔
 ۵. الیکشن کا مقصد:     ۲۵۰ نشستوں پر مشتمل پارلیمان کی نئی تشکیل۔
===============================================================

حکمران جماعت کا ۱۴ سالہ تسلط اور درپیش چیلنجز

صدر الیگزینڈر ووچچ اور ان کی جماعت نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران صربیا کے میڈیا، معیشت اور تمام حکومتی اداروں پر اپنا مضبوط اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے۔ الیگزینڈر ووچچ نے حالیہ سیاسی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو پارلیمانی انتخابات کے محاذ پر پیش کیا ہے تا کہ وہ اقتدار میں اپنی گرفت کو مزید قائم رکھ سکیں۔

تاہم، اس بار صورتحال ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف نظر آتی ہے:

  • عوامی ردِعمل: عام شہریوں کا حکومتی دعووں پر سے اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔
  • اپوزیشن کی نئ ساخت: روایتی سیاسی جماعتوں کے بکھراؤ کے برعکس طلبہ کا محاذ شہریوں کو ایک شفاف متبادل فراہم کر رہا ہے۔
  • بین الاقوامی توجہ: یورپی یونین کے ساتھ روابط اور غیر جانبدارانہ انتخابات پر عالمی اداروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

حکومتی ارکان کی جانب سے اس تحریک کو بیرونی سازش قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم طلبہ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے خالصتاً اندرونی اصلاحات، انصاف اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک قرار دیا ہے۔

پس منظر اور مستقبل کے اثرات: صربیا کس سمت جا رہا ہے؟

صربیا کا شمار بلقان کے خطے کے انتہائی اہم اور معاشی لحاظ سے مرکزی ممالک میں ہوتا ہے، جو ایک عرصے سے یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار بھی ہے۔ ملک میں جاری یہ سیاسی کشمکش محض کسی حکومت کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس کا براہ راست تعلق ملک کے مستقبل، جمہوریت کی حالت اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد سے ہے۔

اگر صدر الیگزینڈر ووچچ کی جماعت یہ انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس سے ان کے اقتدار کو مزید طول ملے گا، جبکہ اگر طلبہ کا اتحاد نمایاں کامیابی حاصل کرتا ہے تو یہ نہ صرف صربیا بلکہ پورے مشرقی یورپ کے لیے نوجوانوں کے ذریعے انٹیلی جنس اور جمہوریت کی بحالی کی ایک روشن مثال بن جائے گا۔

ایڈیٹوریل نوٹ

۲۵ اکتوبر کی رائے دہی کے نتائج صربیا کی ۲۵۰ نشستوں پر مشتمل پارلیمان کی نئی شکل کا تعین کریں گے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، انتخابات کے شفاف انعقاد اور اس کے بعد سامنے آنے والے نتائج پر دونوں فریقین کے ردِعمل پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہوگا، کیونکہ یہ انتخابات صربیا کی آنے والی دہائیوں کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔