اہم نکات (خلاصہ) پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کچہری: ڈی آئی جی ہزارہ جہانزیب نذیر خان اور کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی خان کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی مسائل براہِ راست سننے کا تاریخی اقدام۔ غازی کے مسائل کا حل: ضلع ہری پور کی تحصیل غازی کے شہریوں کی شکایات پر متعلقہ افسران کو ۱۵ دن کے اندر مکمل حل اور پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت۔ مقامی سطح پر ڈرائیونگ ٹیسٹ: ڈی پی او ہری پور کو پولیس سہولت مرکز غازی میں ماہانہ بنیادوں پر ڈرائیونگ لائسنس کا ٹیسٹ منعقد کرنے کا حکم تاکہ شہریوں کو ہری پور کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ بلاتفریق تجاوزات کا خاتمہ: کمشنر ہزارہ کا شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے، صفائی ستھرائی کی بہتری اور تاجروں کے ساتھ مل کر شہری ماحول کی بحالی کا عزم۔ ابتدائیہ: عوامی خدمت میں جدید ٹیکنالوجی اور شفاف گورننس کی نئی مثال خیبر پختونخوا کے خوبصورت خطے ہزارہ ڈویژن میں عوامی انتظامیہ اور نظامِ انصاف نے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ ڈویژنل سطح پر گورننس کو عوام دوست، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہزارہ پولیس، جہانزیب نذیر خان اور کمشنر ہزارہ ڈویژن، شاہ رخ علی خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ڈیجیٹل کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایبٹ آباد میں واقع اپنے دفاتر سے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ہزارہ ڈویژن کے دور دراز علاقوں، بالخصوص ضلع ہری پور کی تحصیل غازی کے شہریوں سے براہِ راست رابطہ قائم کیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف غازی کے دور افتادہ علاقوں سے شہریوں نے اپنے دیرینہ پولیس، ریونیو اور بلدیاتی مسائل اعلیٰ حکام کے سامنے رکھے بلکہ انتظامی سربراہان نے مواقع پر ہی ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے ۱۵ دن کی حتمی مہلت مقرر کر کے افسران کو جوابدہ بنایا۔ ڈیجیٹل کھلی کچہری کا فلسفہ اور بنیادی مقاصد پاکستان میں عام شہری کو اپنے جائز مسائل کے حل یا انتظامی شکایت کے درج کرانے کے لیے بارہا دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے وقت اور مالی وسائل کا شدید ضیاع ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل کھلی کچہری کے اس نظام سے طرزِ حکمرانی میں نمو اور دور رس تبدیلیاں توقع کی جا رہی ہیں۔ ڈی آئی جی ہزارہ جہانزیب نذیر خان اور کمشنر ہزارہ کے مطابق اس ڈیجیٹل اقدام کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں: دہلیز پر انصاف و سہولت: شہریوں کو اپنے گھروں اور تحصیل کی حدود سے نکلے بغیر بلاواسطہ اعلیٰ حکام تک رسائی فراہم کرنا۔ فوری اور مؤثر ازالہ: روایتی دفتری کارروائیوں اور فائلوں کی تاخیر کو ختم کر کے مسائل کے حل کی حتمی اور سخت مدت (۱۵ دن) متعین کرنا۔ شفافیت اور احتساب: ضلعی و تحصیلی افسران کو عوامی نمائندوں اور شہریوں کے سامنے براہِ راست جوابدہ بنانا۔ بہتر نگرانی کا نظام: آن لائن پورٹل اور آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے شکایات پر ہونے والی پیش رفت کی روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ جانچ پڑتال۔ غازی کے شہریوں کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان آن لائن کچہری کے دوران تحصیل غازی کے رہائشیوں نے امن و امان، سڑکوں کی صورتِ حال، بلدیاتی سروسز اور پولیس سہولیات کے حوالے سے متعدد سوالات اور شکایات پیش کیں۔ ان پر انتظامیہ نے فوراً درج ذیل اہم اقدامات کی منظوری دی: ۱. غازی میں ماہانہ بنیادوں پر ڈرائیونگ ٹیسٹ کی منظوری تحصیل غازی اور اس کے مضافاتی دیہات کے رہائشیوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول اور گاڑی کے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے ہری پور کے مرکزی دفتر جانا پڑتا تھا، جس سے ان کا پورا دن اور معقول رقم ضائع ہوتی تھی۔ ہدایت: ڈی آئی جی ہزارہ نے ڈی پی او ہری پور تیمور خان کو واضح ہدایت جاری کی کہ وہ پولیس سہولت مرکز غازی میں ہر ماہ باقاعدگی سے ڈرائیونگ ٹیسٹ کا انعقاد یقینی بنائیں۔ سہولیات میں بہتری: پولیس سہولت مرکز غازی میں دیگر خدمات (مثلاً کردار کا سرٹیفکیٹ، کاپی ودیگر تصدیقات) کے عمل کو بھی مزید تیز اور شہری دوست بنانے کا حکم دیا گیا۔ ۲. ۱۵ دن کی حتمی عملدرآمد کی مہر تمام متعلقہ محکموں (پولیس، ریونیو، ٹاؤن کمیٹی) کے افسران کو پندرہ دنوں کے اندر اندر شہریوں کے موصولہ مسائل کو قانون کے مطابق حل کر کے تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی تاکید کی گئی۔ شہری ماحول اور تجاوزات کے خلاف بلا تفریق آپریشن کچہری کے دوران تجارتی مراکز، سڑکوں کی تنگی اور تجاوزات کا معاشی و سماجی مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا۔ کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی خان نے سول انتظامیہ کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہر کی خوبصورتی اور روڈ نیٹ ورک کو بہتر بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قانون کے مطابق کارروائی: تجاوزات ہٹانے سے پہلے تمام متعلقہ تاجروں اور قابضین کو قانونی نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں تاکہ وہ خود سے ناجائز ساختیں ختم کر سکیں۔ بلا تفریق اقدام: نوٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد بغیر کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ آئندہ کا لائحہ عمل: تجاوزات کے خاتمے کے بعد شہر میں صفائی ستھرائی، سڑکوں کی کشادگی اور شجر کاری جیسے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ عام شہریوں اور تاجر برادری دونوں کے لیے کاروبار اور سفر آسان ہو سکے۔ ┌────────────────────────────────────────────────────────┐ │ ڈیجیٹل کچہری: انتظامی اصلاحاتی مرحلے │ └───────────────────────────┬────────────────────────────┘ │ ┌───────────────────┼───────────────────┐ │ │ │ ┌─────▼─────┐ ┌─────▼─────┐ ┌─────▼─────┐ │ آن لائن │ │ ۱۵ روزہ │ │ شہری │ │ شکایت درج │ ────► │ حتمی مدت │ ────► │ سہولیات │ │ کرانا │ │ و احتساب │ │ کی فراہمی│ └───────────┘ └───────────┘ └───────────┘ مقالاتی و عددی خلاصہ: اہم اعلانات اور اقدامات خبر کے نمایاں پہلوؤں کا ایک نظر میں خلاصہ درجہ ذیل نکات میں دیا گیا ہے: مرکزی منتظمین: ڈی آئی جی ہزارہ جہانزیب نذیر خان اور کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی خان۔ ہدف بنایا گیا علاقہ: سرکل غازی، ضلع ہری پور (ہزارہ ڈویژن)۔ شکایات حل کرنے کی مقررہ مدت: ۱۵ ایام۔ اہم عوامی سہولت: غازی سہولت مرکز میں ماہانہ ڈرائیونگ ٹیسٹ کا آغاز۔ شہری اصلاحات: قانونی نوٹسز کے بعد تجاوزات کا بلا تفریق خاتمہ اور صفائی کی مہم۔ بنیادی پالیسی: ڈیجیٹل کچہریوں کا مستقل اور مسلسل انعقاد۔ صحافتی و انتظامی تجزیہ: اثرات، چیلنجز اور مستقبل کا منظرنامہ صحافتی اور گراؤنڈ ریئلٹی کے زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ڈیجیٹل کھلی کچہری کا انعقاد انتظامی میدان میں ایک خوش آئند اور جدید تبدیلی ہے۔ ۱. دور دراز علاقوں کا مرکزی دھارے میں شمولیت تحصیل غازی کا جغرافیائی موقع ایسا ہے کہ اس کے بعض دیہات ہری پور یا ایبٹ آباد کے ہیڈکوارٹرز سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ڈیجیٹل نظام نے فاصلوں کی اس رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے، جس سے کمزور طبقے اور دور دراز کے رہائشیوں کو تقویت ملے گی۔ ۲. محکموں کے درمیان باہمی تعاون عموماً انتظامیہ اور پولیس الگ الگ کام کرتے ہیں، لیکن کمشنر ہزارہ (سول انتظامیہ) اور ڈی آئی جی ہزارہ (پولیس انتظامیہ) کے ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے سے زمین، تجاوزات اور کرائم سے جڑے مشترکہ مسائل کا حل ایک ہی چھت تلے ممکن ہو گیا ہے۔ ۳. عملدرآمد کا چیلنج ڈیجیٹل کچہری میں احکامات دینا ایک پہلا قدم ہے، لیکن اس کا اصل امتحان پندرہ دن بعد ان احکامات کی زمینی حقیقت پر من و عن تعمیل ہے۔ اگر ماتحت عملہ پندرہ دن کی مہلت کے اندر مسائل کو سنجیدگی سے حل کرتا ہے تو اس ماڈل کو ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژنز کے لیے بھی ایک بہترین ‘گورننس ماڈل’ کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔ اختتامیہ: پائیدار ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی ڈی آئی جی ہزارہ جہانزیب نذیر خان اور کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی خان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ کچہری کوئی ایک بار کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ تمام اضلاع (مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد، بٹگرام، تورغر، اپر و لوئر کوہستان) تک بڑھایا جائے گا۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر ٹیکنالوجی کے ذریعے سننا اور فوری قانونی ریلیف دینا نہ صرف ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرے گا بلکہ اس سے سرکاری محکموں کی مجموعی کارکردگی میں بھی مثبت اور دیرپا تبدیلی آئے گی۔ غازی کے شہریوں اور تاجروں نے انتظامیہ کے اس انقلابی قدم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پندرہ دنوں کے اندر ان کے بنیادی مسائل کا دیرپا حل سامنے آئے گا۔ Post navigation ڈپٹی کمشنر جامشورو کا تحصیل تھانہ بولا خان کا تفصیلی دورہ: تعلیمی، طبی اور انتظامی امور کا جامع معائنہ، ہر پندرہ روز بعد دوبارہ دورے کا اعلان کرے کوئی، بھرے کوئی: بجلی نظام کی خرابیوں اور بحالی کا مالی بوجھ ایک بار پھر غریب عوام پر ڈالنے پر شدید تشویش