Preloader
New digital payment system

اہم نکات (خلاصہ)

  • چیک کے ذریعے ادائیگیاں ختم: حکومت نے سرکاری سطح پر روایتی چیک کے ذریعے ادائیگیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے 16 نومبر 2026 سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔
  • راست نظام کا مرکزی کردار: 15 نومبر کے بعد تمام آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی ادائیگیاں روایتی کاغذی کارروائی کے بجائے جدید اور فوری ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے منتقل کر دی جائیں گی۔
  • کیش لیس معیشت کا وژن: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملکی معیشت کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے، بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کرنے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کی سخت ہدایات دی گئیں۔
  • سوشل سیفٹی اور بلوں پر اطلاق: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تمام ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل والٹ پر منتقل ہو چکی ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کو آر کوڈ کے ذریعے ترغیب دینے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کیش لیس معیشت کا نیا سنگِ میل: اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس

پاکستان کو جدید اور شفاف مالیاتی نظام پر استوار کرنے کی سمت ایک تاریخی اور دور رس قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی حکومت نے سرکاری رقوم کی نقل و حمل اور ادائیگیوں میں روایتی چیک کے استعمال کو ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کیش لیس معیشت کی ترویج اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام پر جائزاتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے مالیاتی اور انتظامی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، مرکزی بینک کے گورنر، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شمولیت کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کاغذی کرنسی اور روایتی طریقوں کے بجائے ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر منتقل ہونا موجودہ دور کا لازمی تقاضا ہے اور حکومت اس ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔

16 نومبر سے نیا مالیاتی نظام: سرکاری شعبے میں اہم تبدیلی

حکومتی اعلان کے مطابق 15 نومبر 2026 تک روایتی چیکس کے ذریعے ادائیگیوں کے آخری مراحل مکمل کر لیے جائیں گے، جس کے فوراً بعد 16 نومبر 2026 سے ملک بھر کے سرکاری اداروں میں تمام تر مالیاتی لین دین اور اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی نقل و حمل 100 فیصد ڈیجیٹل کر دی جائے گی۔ اس کے لیے مرکزی بینک کے فوری ادائیگیوں کے خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا سہارا لیا جائے گا۔

نئے نظام کے نفاذ اور مالیاتی اصلاحات کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • چیک کے استعمال کا خاتمہ: 15 نومبر کے بعد سرکاری کھاتوں اور اسائنمنٹ اکاؤنٹس پر روایتی کاغذی چیکس جاری کرنے یا وصول کرنے کا عمل ختم ہو جائے گا۔
  • ڈیجیٹل نظام پر منتقلی: 16 نومبر 2026 سے تمام سرکاری ادائیگیوں کو فوری اور براہِ راست راست نظام کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
  • دسمبر 2026 کا حدِ ہدف: وفاقی اور صوبائی محکموں کی تمام کی تمام ادائیگیاں دسمبر 2026 تک مکمل طور پر کیش لیس کر دی جائیں گی۔
  • اجتماعی معاونت کا اطلاق: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تمام مستحقین کو اب 100 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ اور موبائل کھاتوں کے ذریعے جاری کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایات: بلا تعطل انٹرنیٹ اور عوام کو سہولیات کی فراہم

اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے تاکید کی کہ کیش لیس معیشت کے مقاصد صرف اسی صورت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب ملک میں جدید تکنیکی بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو اور عام شہری کو ادائیگی کے دوران کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ملک کے تمام حصوں میں بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام کی طرف پیشرفت کے دوران عام خریداروں اور صارفین کو پیش آنے والے مسائل اور تکنیکی شکایات کا فوری ازالہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بجلی، گیس اور دیگر افادیت عامہ کے بلوں پر فوری طور پر کیو آر (QR) کوڈ کا نفاذ تیز کرنے کی ہدایت کی، تاکہ شہری اپنے موبائل فونز کے ذریعے لمحوں میں ادائیگی کر سکیں، اور اس حوالے سے فوری ذرائع ابلاغ پر آگاہی مہم چلانے کا حکم دیا۔

افسران کی تربیت اور دور دراز علاقوں کے لیے متبادل حکمت عملی

سرکاری محکموں میں نچلی اور اعلیٰ سطح پر اس بڑی تبدیلی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے جامع تکنیکی تیاری کی ہے۔ تمام سرکاری دفاتر کے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو نئے ڈیجیٹل سافٹ ویئر، کمپیوٹرized منتقلی اور سیکیورٹی پروٹوکولز کی مکمل تربیت دی جا چکی ہے تاکہ 16 نومبر سے کام میں کوئی تعطل نہ آئے۔

اسی کے ساتھ، جن علاقوں میں تکنیکی رکاوٹیں یا انٹرنیٹ کی پائیدار سہولت فی الوقت میسر نہیں ہے، وہاں کے لیے متبادل آف لائن یا جدید رابطہ کاری کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ اس متبادل انتظام کے تحت رقم کی تصدیق اور منتقلی کے عمل کو تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ دور دراز اضلاع کی مالیاتی سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار نہ ہوں اور کرپشن کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

کاغذی معیشت سے ڈیجیٹل دور: پس منظر اور ماضی کے اقدامات

پاکستان میں طویل عرصے سے سرکاری محکموں، ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں اور گرانٹس کی فراہمی کے لیے کاغذی چیک اور دستی اندراجات کا طریقہ کار مروج رہا ہے۔ تاہم، اس روایتی طریقہ کار کی وجہ سے کاغذی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر، کلرک شاہی کی رکاوٹیں، اور بعض اوقات جعلی چیکس یا شفافیت کی کمی جیسے مسائل درپیش رہتے تھے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران مرکزی بینک اور حکومت کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارم قائم کیے گئے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں رفتار اور شفافیت آئی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ناکارہ دستی نظام کو ختم کر کے تمام رقم براہِ راست مستحقین کے ڈیجیٹل والٹ میں منتقل کرنے کے کامیاب تجربے نے حکومت کو اس نظام کو پورے سرکاری ڈھانچے میں نافذ کرنے کا حوصلہ دیا۔

معاشی اثرات اور المستقبل کا صحافتی جائزہ

سرکاری سطح پر چیک کلچر کا خاتمہ اور 16 نومبر سے ڈیجیٹل نظام کا مکمل نفاذ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ملکی مالیاتی نظام میں درج ذیل مثبت اثرات سامنے آئیں گے:

اولاً، سرکاری فنڈز کے استعمال میں 100 فیصد شفافیت قائم ہوگی اور مالیاتی دھاندلی یا کرپشن کے امکانات کم سے کم رہ جائیں گے کیونکہ ہر روپے کی نقل و حمل کا فوری الیکٹرانک ریکارڈ موجود ہوگا۔ ثانیاً، عام شہریوں اور اداروں کا وقت بچے گا اور بینکوں پر غیر ضروری دباؤ کم ہوگا۔

تاہم، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا کا تحفظ اور دیہی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی حکومت کے لیے کڑا امتحان رہے گی۔ اگر حکومت اپنے طے شدہ اہداف کے مطابق تمام اقدامات کو شفاف انداز میں جاری رکھتی ہے، تو یہ وژن ملک کو کیش لیس اور غیر رسمی معیشت سے نکال کر ایک پائیدار اور معاصر معاشی صف میں کھڑا کر دے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔