Preloader
First schedule of long march

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں ایک بڑے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے اس کا مکمل، مرحلہ وار اور جامع شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے مقام گنڈی چوک سے شروع ہو رہا ہے، جو صوبے کے مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا 8 اکتوبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی مقام ‘خیر آباد’ پر اختتام پذیر ہوگا۔ اس موقع پر صوبے بھر کے مختلف حلقوں سے عوام، سیاسی کارکنان اور قبائلی اضلاع کے نمائندے مرحلہ وار اس کاروان میں شامل ہوں گے، جہاں سے آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

اہم نکات

  • مارچ کا آغاز: لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز 4 اکتوبر کو دوپہر 1 بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے ہو رہا ہے۔
  • مرحلہ وار پیشرفت: مارچ 5 اکتوبر کو کرک، 6 اکتوبر کو کوہاٹ اور متنی، جبکہ 7 اکتوبر کو پشاور (بڈھ بیر) سے گزرتا ہوا چارسدہ انٹرچینج پہنچے گا۔
  • حتمی پڑاؤ اور خیر آباد: 8 اکتوبر کو تمام اضلاع کا کاروان ‘خیر آباد’ کے مقام پر جمع ہوگا جہاں رات کا پڑاؤ کیا جائے گا اور آئندہ کے سیاسی/انتظامی لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔
  • سیاسی اور علاقائی اہمیت: جنوبی اضلاع، پشاور کی وادی اور قبائلی اضلاع کی یکجا شمولیت سے اس مارچ کو صوبائی سطح پر اہم سیاسی تحرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مارچ کا پس منظر اور سیاسی اہمیت

خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ اعلان ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ جنوبی اضلاع اور ضم شدہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، صوبائی حقوق، معاشی مطالبات اور مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اس مارچ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

صحافتی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مارچ کا بنیادی مقصد نہ صرف عوامی سطح پر سیاسی تحرک پیدا کرنا ہے بلکہ صوبے کے تمام خطوں—بشمول نارتھ و ساؤتھ وزیرستان، کرم، اورکزئی، خیبر اور مہمند—کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ لکی مروت جیسے اہم اور حساس جنوبی ضلع سے مارچ کی شروعات اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو جڑوں سے مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

روزانہ کا مرحلہ وار روٹ اور ٹائم ٹیبل

وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، مارچ کی منصوبہ بندی انتہائی تفصیلی انداز میں کی گئی ہے تاکہ ہر ضلع کے لوگ اپنے متعلقہ مقامات پر کاروان کا حصہ بن سکیں۔

+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| تاریخ     | شمولیت کے اضلاع / مقامات       | روانگی کا وقت              | شب باشی / رات کا پڑاؤ       |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| 4 اکتوبر  | لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان| دوپہر 1:00 بجے (گنڈی چوک) | کرک کے قریب                 |
|           | ساؤتھ و نارتھ وزیرستان، بنوں   |                            |                             |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| 5 اکتوبر  | کرک اور گرد ونواح کے عوام      | دوپہر 12:30 بجے            | کوہاٹ کے قریب               |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| 6 اکتوبر  | کوہاٹ، ہنگو، کُرم، اورکزئی    | دوپہر 12:00 بجے            | متنی (پشاور) کے قریب       |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| 7 اکتوبر  | خیبر، پشاور (کوہاٹ روڈ/موٹروے)  | دوپہر 12:30 بجے (بڈھ بیر)  | چارسدہ انٹرچینج کے قریب     |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+
| 8 اکتوبر  | چارسدہ، مہمند اور صوبے بھر سے  | دوپہر 12:30 بجے            | خیر آباد (حتمی جمع بندی)    |
+-----------+--------------------------------+----------------------------+-----------------------------+

تفصیلی روزنامچہ: کہاں سے کب روانگی؟

پہلا دن: 4 اکتوبر (یکشنبہ) – جنوبی اضلاع کا اتحاد

مارچ کا باقاعدہ آغاز لکی مروت کے مشہور گنڈی چوک سے ہوا۔ پہلے دن اس مارچ میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے عوام شامل ہوں گے۔ جنوبی اضلاع کے سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس نقطہ آغاز کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ قافلہ سفر طے کرتا ہوا رات کو کرک کے قریب اپنے پہلے پڑاؤ پر پہنچے گا۔

دوسرا دن: 5 اکتوبر (پیر) – کرک سے کوہاٹ کی جانب سفر

مارچ کے دوسرے مرحلے میں کرک کے عوام دوپہر 12:00 بجے قافلے کا استقبال کریں گے اور باقاعدہ شمولیت اختیار کریں گے۔ یہاں سے روانگی کا وقت دوپہر 12:30 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ قافلہ کرک سے ہوتا ہوا کوہاٹ کی حدود میں داخل ہوگا جہاں رات کے لیے پڑاؤ کا انتظام کیا گیا ہے۔

تیسرا دن: 6 اکتوبر (منگل) – پشاور وادی کی طرف پیشرفت

6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے عوام دوپہر 12:00 بجے اس تحرک میں شامل ہوں گے۔ کوہاٹ سے روانگی کے بعد مارچ صوبائی دارالحکومت پشاور کے مضافات کی طرف بڑھے گا اور پشاور کے علاقے متنی کے قریب رات گزارے گا۔

چوتھا دن: 7 اکتوبر (بدھ) – بڈھ بیر اور پشاور کے حلقے

7 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے بڈھ بیر کے مقام سے اگلا سفر شروع ہوگا۔ اس مقام پر ضلع خیبر سے آنے والے قافلے مارچ میں شامل ہوں گے، جبکہ پشاور کے دیگر مقامی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر استقبالیہ پوائنٹس کے ذریعے قافلے کا حصہ بنیں گے۔ اس دن کے سفر کا اختتام چارسدہ انٹرچینج کے قریب ہوگا جہاں قافلہ شب باشی کرے گا۔

پانچواں دن: 8 اکتوبر (جمعرات) – چارسدہ، مہمند اور خیر آباد میں حتمی اجتماع

8 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے اگلا سفر شروع ہوگا، جہاں چارسدہ اور مہمند اضلاع کے باشندے شرکت کریں گے۔ اس کے بعد، پورے خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں سے آنے والے تمام قافلے خیر آباد کے مقام پر یکجا ہوں گے۔ تمام تر نظریں خیر آباد میں ہونے والے اس پڑاؤ پر مرکوز ہوں گی، جہاں صوبائی قیادت آئندہ کے سیاسی یا انتظامی لائحہ عمل کا حتمی اعلان کرے گی۔

انتظام و انصرام اور سیکیورٹی کی صورتحال

اس پیمانے کے صوبائی لانگ مارچ کے انعقاد سے جہاں سیاسی تلاطم دیکھنے میں آ رہا ہے، وہاں انتظامی اور لاجسٹک چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

  • ٹریفک کی آمدورفت: قومی شاہراہوں (انڈس ہائی وے اور کوہاٹ روڈ) پر ہزاروں گاڑیوں اور پیدل مارچ کرنے والوں کی موجودگی کی وجہ سے ٹریفک کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مسافروں کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
  • امکانات اور خدشات: عوام اور سیاسی کارکنان کی اتنی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو چوکنا رہنا پڑے گا۔ بالخصوص جنوبی اضلاع اور بڈھ بیر جیسے حساس علاقوں سے گزرتے ہوئے خصوصی حفاظتی تدابیر درکار ہوں گی۔

عوامی ردعمل اور مستقبل کا منظرنامہ

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اس نوعیت کا روٹ پلان اور تمام اضلاع کو ترتیب وار شامل کرنے کا طریقہ کار انتہائی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ اس مارچ کے ذریعے نہ صرف جنوبی اضلاع بلکہ خیبر پختونخوا کے تمام زونز (ساؤتھ، پشاور ویلی اور ملاکنڈ ڈویژن سے ملحقہ اضلاع) کو ایک ہی محور پر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

خیر آباد کے مقام پر ہونے والا حتمی اجتماع اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔ وہاں سے قیادت کی جانب سے دیا جانے والا پیغام یا اگلا لائحہ عمل اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا یہ مارچ صرف صوبائی سرحد تک محدود رہے گا یا اسلام آباد/پنجاب کی طرف پیشرفت کی جائے گی۔

تمام نظریں اب لکی مروت سے شروع ہونے والے اس کاروان کی رفتار اور خیر آباد میں ہونے والی حتمی پیشرفت پر ٹکی ہوئی ہیں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کا ایک مختصر سائیڈ بار (بیان / ردعمل) یا کسی مخصوص ادارے کا مؤقف بھی اس میں شامل کروں؟

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔