پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد کی طرف اپنے مرحلہ وار لانگ مارچ کے باقاعدہ آغاز کے لیے ضلع لکی مروت کے تاریخی اور ستراتیجک نقطے “گنڈی چوک” کو منتخب کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع—ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت—سے انڈس ہائی وے کے ذریعے روانہ ہونے والے سیاسی قافلے گنڈی چوک پر یکجا ہو کر اپنے سفر کی شروعات کر رہے ہیں۔ ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع جان اور صوبائی قیادت کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، 4 اکتوبر 2026ء کو دوپہر ایک بجے شروع ہونے والا یہ کاروان کرک، کوہاٹ اور متنی (پشاور) سے ہوتا ہوا 6 اکتوبر کو پشاور جبکہ 8 اکتوبر کو پنجاب و خیبر پختونخوا کے سرحدی نقطے خیر آباد پہنچے گا۔ اہم نکات مارچ کا نقطۂ آغاز: پی ٹی آئی نے اپنے اسلام آباد مارچ کے پہلے مرحلے کی شروعات 4 اکتوبر 2026ء کو لکی مروت کے مرکزی شاہراہ پر واقع گنڈی چوک سے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جغرافیائی و مواصلاتی اہمیت: گنڈی چوک انڈس ہائی وے پر بنوں، لکی مروت، سب ڈویژن بیٹنی اور کرک کے سنگم پر واقع ہے، جو جنوبی اضلاع اور بین الصوبائی آمدورفت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مرحلہ وار پیشرفت: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور قبائلی اضلاع سے آنے والے قافلے گنڈی چوک پر جمع ہونے کے بعد انڈس ہائی وے کے ذریعے کرک، کوہاٹ اور پشاور کی جانب پیشرفت کریں گے۔ سیاسی اسٹریٹجی: جنوبی اضلاع کے مرکزی جنکشن کو شروعاتی نقطہ بنانے کا بنیادی مقصد تمام دور دراز اضلاع کے کارکنان کو ایک جگہ مجتمع کر کے مارچ کو زبردست عوامی و سیاسی تحرک فراہم کرنا ہے۔ گنڈی چوک کا جغرافیائی وقوع اور شاہراہوں کا سنگم ، گنڈی چوک لکی مروت کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم تجارتی، مواصلاتی اور سیاسی مرکز رہا ہے۔ یہ چوک محض ایک مقامی چوک یا بس اڈہ نہیں ہے، بلکہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو صوبائی دارالحکومت پشاور اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے جوڑنے والا بنیادی جنکشن ہے۔ گنڈی چوک کی مواصلاتی بناوٹ کی تفصیل درج ذیل اہم راستوں پر مشتمل ہے: شمالی و جنوبی رابطہ (انڈس ہائی وے): یہ چوک انڈس ہائی وے کے بالکل اوپر واقع ہے۔ ایک طرف یہ تاجہ زئی، تتر خیل اور پیزو سے ہوتا ہوا ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب نکلتا ہے، جبکہ دوسری طرف کرک، کوہاٹ، درہ آدم خیل اور پشاور تک پہنچتا ہے۔ مغربی رابطہ (بنوں و قبائلی خطہ): گنڈی چوک سے بائیں جانب نکلنے والی شاہراہ بنوں شہر اور لکی مروت کے مرج شدہ علاقے سب ڈویژن بیٹنی کو منسلک کرتی ہے۔ مشرقی و مقامی رابطہ (لکی شہر): اسی نقطے سے مرکزی سڑک لکی مروت کے مرکزی شہر کی طرف جاتی ہے، جس سے تمام مقامی دیہاتوں کا رابطہ ممکن ہوتا ہے۔ اس ہمہ جہت رابطے کے باعث، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، ٹانک اور بنوں سے انڈس ہائی وے پر آنے والی ٹریفک اور قافلے اسی ایک مقام پر ملتے ہیں، جس سے یہ سیاسی اجتماعات کے لیے قدرتی طور پر ایک مثالی مرکز بن جاتا ہے۔ سیاسی نقطۂ نظر: گنڈی چوک کا انتخاب ہی کیوں؟ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے گنڈی چوک کو لانگ مارچ کی شروعات کا مرکز بنانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سیاسی و لوجسٹک حکمت عملی کارفرما ہے۔ جنوبی اضلاع کی یکجا شمولیت: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور وزیرستان سے پشاور کی طرف جانے والے قافلوں کو الگ الگ سفر کرنے کے بجائے ایک ہی مرکزی نقطے (گنڈی چوک) پر اکٹھا کر کے ایک بڑے قافلے کی شکل دینا زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ لوجسٹک آسانی: انڈس ہائی وے پر واقع ہونے کے باعث یہاں وسیع جگہ، گاڑیوں کی پارکنگ اور ایندھن و خوراک کی ترسیل کے انتظامات دیگر تنگ شہری علاقوں کی نسبت آسان ہیں۔ عوامی تحرک: گنڈی چوک کی پرانی تاریخی اور تجارتی حیثیت کی وجہ سے یہ خطے کے عام لوگوں کے لیے ایک جانا پہچانا مقام ہے، جہاں آس پاس کے اضلاع سے لوگ آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ مارچ کا طے شدہ روٹ اور ٹائم ٹیبل حکومتی اور پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، مارچ کی مرحلہ وار پیشرفت کے لیے مندرجہ ذیل ٹائم لائن مرتب کی گئی ہے: +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | تاریخ | شمولیت کرنے والے اضلاع | روانگی کا نقطہ و وقت | شب باشی / حتمی مقام | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | 4 اکتوبر | لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، | دوپہر 1:00 بجے | کرک کے قریب | | (2026ء) | شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں | (گنڈی چوک، لکی مروت) | | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | 5 اکتوبر | کرک اور گرد ونواح کے عوام | دوپہر 12:30 بجے | کوہاٹ کے قریب | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | 6 اکتوبر | کوہاٹ، ہنگو، کُرم، اورکزئی | دوپہر 12:00 بجے | متنی (پشاور) | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | 7 اکتوبر | خیبر، پشاور اور گرد ونواح | دوپہر 12:30 بجے (بڈھ بیر) | چارسدہ انٹرچینج | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ | 8 اکتوبر | چارسدہ، مہمند اور تمام صوبائی کاروان| دوپہر 12:30 بجے | خیر آباد (پنجاب سرحد) | +-----------+-----------------------------------+-----------------------------+---------------------------+ انتظامی، تجارتی اور سیکورٹی اثرات انڈس ہائی وے خیبر پختونخوا کی تجارتی و عوامی نقل و حمل کے لیے ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتی ہے۔ گنڈی چوک جیسے اہم شاہراہوں کے سنگم سے سیاسی مارچ کے آغاز سے جہاں عوامی جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے، وہیں انتظامی اور سماجی سطح پر کچھ اہم چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں: ٹریفک کا دباؤ: انڈس ہائی وے پر ہزاروں گاڑیوں کی آمد سے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں جانے والی بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹریفک شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس اور ٹریفک حکام کی جانب سے متبادل راستے تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ مقامی کاروبار: گنڈی چوک پر واقع ہوٹلوں، بس اڈوں اور دکانوں میں اچانک سیاسی کارکنان کی آمد سے معاشی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم بڑی شاہراہ کے بند ہونے سے باقاعدہ مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت سست پڑ سکتی ہے۔ سیکورٹی انتظامات: جنوبی اضلاع کے حساس جغرافیائی حالات کے پیش نظر انتظامیہ کو امن و امان کی بحالی اور قافلوں کی حفاظت کے لیے کوہاٹ روڈ اور انڈس ہائی وے پر اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کرنے پڑیں گے۔ مجموعی جائزہ گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں جنوبی اضلاع کے اتحاد کی ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔ بنوں، وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے سیاسی کارکنان کا ایک ہی نقطے پر یکجا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے گنڈی چوک کی اہمیت ماضی کی طرح آج بھی برقرار ہے۔ اب تمام تر نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ انڈس ہائی وے سے گزرتا ہوا یہ کاروان 6 اکتوبر کو پشاور اور 8 اکتوبر کو خیر آباد پہنچ کر آئندہ کے کیا سیاسی اثرات مرتب کرتا ہے۔ Post navigation خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کا شیڈول جاری: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لکی مروت سے خیر آباد تک کے مرحلہ وار پلان کا اعلان