وزیراعظم کی سخت ہدایت: وزیراعظم شہباز شریف نے مقامی ریفائنریز کے ساتھ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے مذاکرات جلد مکمل کر کے عوام کو فوری ریلیف دینے کی ہدایت کی ہے۔ایندھن کی ریکارڈ قیمتیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور تاریخی اضافے کے بعد پیٹرول 334.54 روپے اور ڈیزل 395.69 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔عوامی و سیاسی دباؤ: ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال اور سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعتِ اسلامی کے احتجاج کے بعد حکومت پر قیمتوں اور لیوی میں کمی کا شدید دباؤ ہے۔ٹیکس کا موجودہ ڈھانچہ: حکومت پیٹرول پر 80 روپے اور ڈیزل پر 78.30 روپے لیوی کے ساتھ 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ وزارتِ پیٹرولیم کی 50 روپے لیوی کی تجویز پر عملدرآمد باقی ہے۔اسلام آباد (خاص رپورٹ): ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں، مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی بے چینی کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور شہریوں کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں پیٹرول اور بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں کو نیچے لانے کے لیے تمام دستیاب انتظامی و معاشی راستے اختیار کیے جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چونکہ ملک میں استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایک بڑی مقدار مقامي ریفائنریز میں تیار ہوتی ہے، اس لیے ریفائننگ سیکٹر کے ساتھ ڈسکاؤنٹ اور قیمتوں میں نچلی سطح پر تعاقب کے لیے مذاکرات کا عمل جلد از جلد حتمی شکل میں لایا جائے۔ حکومت کا یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرانسپورٹ سیکٹر، تاجر برادری اور عام شہری مہنگے ایندھن کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال اور مسلسل اضافے کا دباؤحالیہ دنوں میں ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اور تیز ترین اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے ملکی معیشت اور عام آدمی کا بجٹ مکمل طور پر متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 19 اگست کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 3.34 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.27 روپے فی لیٹر کا مزید اضافہ کیا گیا۔اس تازہ ترین اضافے سے محض ایک روز قبل بھی بالترتیب 5.77 روپے اور 6.47 روپے فی لیٹر کا گرانقدر اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں بھی 1.34 روپے فی لیٹر کی توسیع کی جا چکی ہے۔ایندھن کی موجودہ قیمتوں اور ٹیکسز کے اہم اعداد و شمار:پیٹرول کی موجودہ قیمت: 334.54 روپے فی لیٹرہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ قیمت: 395.69 روپے فی لیٹرپیٹرولیم لیوی (پیٹرول): 80.00 روپے فی لیٹرپیٹرولیم لیوی (ڈیزل): 78.30 روپے فی لیٹرکلائمٹ سپورٹ لیوی (دونوں پر): 5.00 روپے فی لیٹرڈیلرز مارجن میں اضافہ: 1.34 روپے فی لیٹرٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور بڑھتا ہوا سیاسی و عوامی دباؤایندھن کے نرخوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے کے باعث ملک کا مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید بحران کی زد میں آ چکا ہے۔ ایندھن کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا جس سے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی سپلائی اور تجارتی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی تھی۔اگرچہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر غور اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنی 9 روز سے جاری ہڑتال کو 40 دنوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن ٹرانسپورٹ سیکٹر نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ایندھن کی قیمتوں میں واضح کمی اور دیگر مسائل کا پائیدار حل نہ نکالا گیا تو وہ دوبارہ کام بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔دوسری جانب، ایندھن کی گرانی نے سیاسی پارلیمان اور سڑکوں پر بھی ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ جماعتِ اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن و سماجی تنظیموں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی اور بھاری پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس عوامی اضطراب اور مظاہروں نے حکومت پر شدید سیاسی اور انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔عالمی منڈی کا نیا نظام اور ٹیکسز کا ڈھانچہپاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے لیے 17 جولائی سے یومیہ بنیادوں پر نیا طریقہ کار نافذ العمل کیا جا چکا ہے۔ اس نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ عالمی منڈی کے سات روز کے اوسط ریٹس کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں۔تاہم، مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جیو پولیٹیکل کشیدگی اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور یکدم اتار چڑھاؤ مسلسل برقرار ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے اس نئے طریقہ کار کا تمام تر بوجھ براہِ راست مقامی صارف پر پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ، ٹیکس کا موجودہ بنیادی ڈھانچہ بھی قیمتوں کے گراف کو اونچا رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت حکومت ہر لیٹر پیٹرول پر 80 روپے اور ڈیزل پر 78.30 روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کر رہی ہے، جبکہ دونوں مصنوعات پر اضافی 5 روپے فی لیٹر کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی نافذ ہے۔اگرچہ وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے اس سے قبل پیٹرولیم لیوی کو کم کر کے 50 روپے فی لیٹر تک لانے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ صارفین کو براہِ راست ریلیف مل سکے، لیکن مالیاتی اہداف اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ طے شدہ شرائط کے باعث اس تجویز پر تاحال پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔پس منظر اور تجزیہ: عارضی ریلیف یا ساختاتی پالیسی اصلاحات؟معاشی ماہرین اور ایندھن کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے لوکل ریفائنریز کو مذاکرات کی میز پر لانے اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش بلاشبہ ایک مثبت اور سرہانے کے قابل قدم ہے، جو حکومت کی جانب سے عوام کی تکالیف کے احساس کی نشاندہی کرتا ہے۔مقامی ریفائنریز سے تیار کردہ مصنوعات پر پریمیم یا مارجن کی ایڈجسٹمنٹ سے کچھ حد تک قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام محض ایک عارضی مرہم ثابت ہو سکتا ہے۔پائیدار حل کے لیے درکار اصلاحات:ٹیکس ہدف میں متوازن نظام: ایندھن پر عائد مجموعی لیوی اور ٹیکسز کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تا کہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا صدمہ عام صارف تک محدود پہنچے۔مقامی ریفائننگ کی جدید کاری: ملکی ریفائنریز کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ خام تیل سے تیار شدہ ایندھن کی لاگت میں مستقل کمی لائی جا سکے۔متبادل توانائی کا فروغ: ٹرانسپورٹ اور انڈسٹریل سیکٹر کو رفتہ رفتہ متبادل اور تجدید پذیر توانائی (مثلاً الیکٹرک ویکلز اور سولر) کی طرف منتقل کیا جائے تاکہ پیٹرولیم کی در آمدی لاگت پر انحصار کم سے کم ہو۔موجودہ تناظر میں، جب تک حکومت ٹیکس ساخت میں بنیادی تبدیلیاں اور عالمی منڈی کے منفی اثرات سے صارفین کو بچانے کا پائیدار طریقہ کار وضع نہیں کرتی، تب تک محض ریفائنریز کے ساتھ جزوی مذاکرات سے حاصل ہونے والا ریلیف مختصر المدتی ہی رہے گا۔ تا ہم، موجودہ شدید معاشی بحران اور عوامی بے چینی کے دور میں وزیراعظم کی یہ ہدایت عوام کے لیے ایک امید کی کرن ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationعمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم: سپریم کورٹ کا طبی بورڈ کی تشکیل اور ہفتہ وار ملاقاتوں کی فراہمی کا ہدایت نامہ متحدہ عرب امارات کا ایران کے ساتھ تمام تجارتی و مالی روابط معطل کرنے کا باضابطہ اعلان