Preloader
Gen Nigar visited LRH

(رپورٹ: انورزیب خان، پشاور)

اہم نکات (خلاصہ)

  • صوبائی مشیر کا اہم دورہ: خیبر پختونخوا کی صوبائی مشیر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) پشاور کا دورہ کر کے سانحہ الخیر پبلک سکول کے زخمیوں کی عیادت کی۔
  • طبی سہولیات کا جائزہ: دورے کے دوران ہسپتال انتظامیہ نے مشیرِ صحت کو زخمیوں کی موجودہ طبی صورتحال، زیرِ علاج مریضوں کی تفصیلات اور فراہم کی جانے والی ایمرجنسی سہولیات پر بریفنگ دی۔
  • غفلت نہ برتنے کی سخت ہدایت: انہوں نے ہسپتال انتظامیہ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں کو واضح ہدایت کی کہ علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
  • مفت اور اعلیٰ علاج کا عزم: حکومت کی جانب سے زخمیوں کو تمام تر ادویات، سرجری اور طبی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کا اعادہ کیا گیا۔

پشاور میں افراط و تفریج اور ہسپتال کا ہنگامی دورہ

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیش آنے والے افسوسناک اور غمگین سانحہ الخیر پبلک سکول کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کی دیکھ بھال کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد صوبائی مشیرِ صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے پشاور کے سب سے بڑے اور مرکزی ہسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کا دورہ کیا۔

ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد سانحے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر افراد کی عیادت کرنا، ہسپتال کے مختلف وارڈز میں ان کی دیکھ بھال کی کیفیت کا خود جائزہ لینا اور انتظامیہ کو علاج معالجے سے متعلق تمام ضروری اقدامات فوری اور ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات دینا تھا۔

مشیرِ صحت نے ایمرجنسی وارڈ، این آئی سی یو اور دیگر شعبوں میں جا کر زیرِ علاج بچوں کے بستروں کے قریب جا کر ان کا حال احوال دریافت کیا، ان کے غمزدہ لواحقین سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

ہسپتال انتظامیہ کی بریفنگ اور طبی اقدامات کا تفصیلی جائزہ

دورے کے دوران لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر، ڈائریکٹرز اور سینئر سرجنز نے صوبائی مشیرِ صحت کو سانحے کے بعد کیے جانے والے تمام ہنگامی طبی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایل آر ایچ میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور سینئر ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور تکنیکی عملے کو فوراً ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا تھا۔

ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اہم نکات:

  • ہنگامی طبی ریلیف: تمام زخمیوں کو فوری طور پر فرسٹ ایڈ اور تشخیصی سہولیات (ایکسرے، سٹی سکین اور بلڈ ٹیسٹ) فراہم کی گئیں۔
  • بلڈ بینک اور ادویات: ہسپتال میں خون کی فراہمی اور ضروری ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے تاکہ کسی بھی مریض کو باہر سے دوا خریدنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔
  • خصوصی میڈیکل بورڈ: شدید زخمی مریضوں کی مسلسل نگرانی کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو 24 گھنٹے مریضوں کی حالت کا جائزہ لے رہا ہے۔
  • نفسیاتی امداد: حادثے سے متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کے لیے ٹراما کونسلنگ کا شعبہ بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

مشیرِ صحت کی سخت ہدایات: “علاج میں کوئی غفلت برداشت نہیں ہو گی”

مریضوں کا جائزہ لیتے ہوئے اور انتظامیہ سے بات کرتے ہوئے صوبائی مشیرِ صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ سانحہ الخیر پبلک سکول ایک انتہائی دردناک واقعہ ہے اور اس کے متاثرین کی دیکھ بھال حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔

انہوں نے ہسپتال کے عملے کو سخت تاکید کرتے ہوئے کہا:

“زخمیوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت، تاخیر یا لاپرواہی کو ہرگز برداست نہیں کیا جائے گا۔ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زخمی بچوں کی بہترین دیکھ بھال یقینی بنائی جائے تاکہ وہ جلد سے جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔”

انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اگر کسی مریض کو مزید اعلیٰ یا خصوصی علاج کے لیے کسی دوسرے انسٹی ٹیوٹ یا منتقل کرنے کی ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت اس کے تمام اخراجات خود برداشت کرے گی۔

سانحہ الخیر پبلک سکول: پس منظر اور موجودہ صورتحال

سانحہ الخیر پبلک سکول کے اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے اور صوبے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ پشاور کے مقامی سکول میں پیش آنے والے اس حادثے کے نتیجے میں کئی بچے اور سکول کا عملہ زخمی ہوئے تھے جنہیں فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی گاڑیوں کے ذریعے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

حکومتی سطح پر واقعے کے اسباب کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی جا چکی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کے المناک واقعات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر وضع کی جا سکیں۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں بھی واقعے سے متعلق شواہد اکٹھا کر رہی ہیں۔

عوامی ردِعمل اور صحت عامہ کے نظام پر اثرات

اس سنسنی خیز واقعے کے بعد جہاں ایک طرف عوام میں گہرا غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے، وہاں دوسری طرف ہسپتال میں صوبائی مشیرِ صحت کے بر وقت دورے اور امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرنے کو متاثرہ خاندانوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

صحت کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی بڑے سانحے یا ایمرجنسی کی صورت میں صوبائی قیادت اور محکمہ صحت کی فوری موجودگی سے نہ صرف ہسپتالوں کا عملہ متحرک ہوتا ہے بلکہ متاثرہ شہریوں کو بھی یہ اعتماد ملتا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: ہنگامی دیکھ بھال اور مستقبل کی حکمتِ عملی

سانحہ الخیر پبلک سکول جیسے واقعات ہماری تعلیمی اور عماراتی سیفٹی گائیڈ لائنز پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اگرچہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کی جانب سے زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی امداد کی فراہمی ایک خوش آئند بات ہے اور مشیرِ صحت کے احکامات سے انتظامیہ مزید متحرک ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ:

  1. سکولوں میں حفاظتی اڈٹ: تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں عمارتوں، بجلی کی وائرنگ اور ایمرجنسی ایگزٹ کا باقاعدگی سے سیفٹی آڈٹ کروایا جائے۔
  2. ٹراما سینٹرز کی مضبوطی: پشاور کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی ٹراما اور ایمرجنسی سینٹرز کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی بھی سانحے کی صورت میں مریضوں کو فوری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
  3. شفاف تحقیقات: سانحہ الخیر کے ذمہ داران کا فوری تعین کر کے حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

امید کی جا رہی ہے کہ صوبائی حکومت کی زيرِ نگرانی تمام زخمی بچے جلد صحت یاب ہوں گے اور اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔

نوٹ: یہ خبر پشاور سے ہمارے نمائندے انورزیب خان کی فراہم کردہ معلومات، لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کے اعلامیے اور محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں معروضی بنیادوں پر مرتب کی گئی ہے۔