اہم نکات (خلاصہ) حکومتِ پنجاب نے جیل اصلاحات کی پالیسی کے تحت قیدیوں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے کی ماہانہ حد 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کر دی ہے۔ رقم کی منتقلی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل اور آن لائن نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس سے اہلِ خانہ گھر بیٹھے رقوم منتقل کر سکیں گے۔ یہ اقدام محکمہ جیل خانہ جات اور پنجاب بینک کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد قیدیوں کے لواحقین کی بار بار بینک اور جیل جانے کی مشقت کو کم کرنا ہے۔ اس اقدام کو صوبے کی جیلوں میں شفافیت، انسدادِ رشوت ستانی اور قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لاہور: صوبہ پنجاب کی حکومت نے محکمہ جیل خانہ جات میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسیران اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑا فلاحی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اصلاحاتی وژن اور محکمہ داخلہ کی ہدایات کے تحت صوبے بھر کی تمام جیلوں میں بند قیدیوں کے مالیاتی اکاؤنٹس کی حد میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس نئے انتظامی اور فلاحی فیصلے کے مطابق قیدیوں کے سرکاری اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے کی سابقہ حد، جو کہ دس ہزار روپے تھی، کو بڑھا کر پچیس ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، رقم کی منتقلی کا طریقہ کار بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے تاکہ قیدیوں کے لواحقین کو روایتی کاغذ بازی اور طویل قطاروں سے نجات مل سکے۔ جدید ڈیجیٹل سہولت اور رقم کی منتقلی کا آسان طریقہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور بینک آف پنجاب کے باہمی اشتراک سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو رقم کی آسان اور محفوظ منتقلی ہے۔ ماضی میں اسیران کے رشتہ داروں کو رقم جمع کروانے کے لیے خود بینک کی شاخوں میں جانا پڑتا تھا یا پھر جیل کے متعلقہ شعبے کے چکر لگانے پڑتے تھے، جس سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا تھا بلکہ سفری اخراجات کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا تھا۔ نئے نظام کے تحت رقم کی منتقلی درج ذیل ذرائع سے ممکن بنائی گئی ہے: موبائل مالیاتی سروسز: قیدیوں کے عزیز و اقارب اب اپنے موبائل سے ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسی سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے فوری رقم منتقل کر سکتے ہیں۔ بینکنگ ایپس: ملک بھر میں استعمال ہونے والی تمام بڑی بینکنگ ایپس کے ذریعے بھی رقم براہِ راست متعلقہ اسیر کے اکاؤنٹ میں بھیجی جا سکتی ہے۔ وقت کی بچت: آن لائن منتقلی کے باعث منٹوں میں رقم کی تصدیق اور اسیر کے سرکاری کھاتے میں اندارج ممکن ہو جاتا ہے۔ مالیاتی حد میں اضافے کے بنیادی اعداد و شمار اس نئے فلاحی اور انتظامی منصوبے کے تحت سامنے آنے والے اہم اعداد و شمار اور تبدیلیاں درج ذیل پوائنٹس کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں: سابقہ مالیاتی حد: 10,000 روپے فی اسیر نئی منظور شدہ مالیاتی حد: 25,000 روپے فی اسیر کل اضافہ: 15,000 روپے (یعنی 150 فیصد کا نمایاں اضافہ) مستفید ہونے والے افراد: صوبہ پنجاب کی تمام جیلوں میں موجود ہزاروں قیدی اور ان کے لاکھوں لواحقین معاون ادارے: محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور بینک آف پنجاب پس منظر: جیل اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کے حالاتِ زار اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہی ہے۔ دنیا بھر کے جدید انسانی معاشروں میں قیدیوں کو صرف سزا دینے کے بجائے ان کی اصلاح اور بحالی پر توجہ دی جاتی ہے۔ ماضی میں جیلوں کے اندر کینٹین اور دیگر بنیادی ضروریات کی خریداری کے لیے مالی معاملات شفاف نہ ہونے کی وجہ سے کئی قسم کی بے قاعدگیاں جنم لیتی تھیں۔ اس سے قبل، کم مالیاتی حد کی وجہ سے قیدیوں کو اشیائے خورد و نوش، ضروری ادویات، اور صفائی کے سامان کے لیے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، خاص طور پر وہ قیدی جن کی عدالتوں میں پیشیاں زیادہ ہوتی تھیں یا جن کی صحت کے مسائل ہوتے تھے۔ مالیاتی حد بڑھانے کا مقصد ان کی بنیادی انسانی ضرورتوں کو باوقار طریقے سے پورا کرنا ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کی زیرِ قیادت کیے جانے والے ان اقدامات کا مقصد جیل کے اندر نظام کو مکمل طور پر شفاف بنانا اور رشوت ستانی کے ممکنہ راستوں کو مسدود کرنا ہے۔ اسیران اور ان کے اہل خانہ پر اثرات اس اقدام کے نتیجے میں اسیران اور ان کے لواحقین کی روزمرہ زندگی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے: معاشی سہولت: اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں پچیس ہزار روپے کی حد قیدیوں کو اپنی ذاتی ضروریات پورا کرنے کے لیے ایک معقول رقم فراہم کرتی ہے۔ لواحقین کی خوار زاری کا خاتمہ: دور دراز اضلاع سے آنے والے والدین، بیویوں اور بچوں کو رقم جمع کروانے کے لیے اب جیل کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے، بلکہ وہ گھر بیٹھے ایک کلک پر اپنے پیاروں کی مدد کر سکیں گے۔ شفافیت اور سلامتی: نقد رقم کے لین دین اور جیل کے عملے کے ذریعے رقم پہنچانے کے روایتی طریقوں میں جن بے قاعدگیوں کا خدشہ رہتا تھا، ڈیجیٹل منتقلی سے وہ تمام خدشات ختم ہو جائیں گے اور ہر پائی کا ریکارڈ محفوظ رہے گا۔ نظام کی شفافیت اور انسدادِ بدعنوانی صحافتی اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی ادارے میں جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جاتا ہے تو وہاں کرپشن اور ناانصافی کے امکانات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ جیلوں کے اندر مالی معاملات کا کمپیوٹرائزڈ ہونا ایک ایسا اقدام ہے جو قیدیوں کے استحصال کی روک تھام کرے گا۔ بینک آف پنجاب کے تعاون سے تیار کیا گیا یہ مالیاتی نظام براہ راست صوبائی بینک کے مرکزی سرور سے منسلک ہے، جس کے باعث نہ تو کوئی اضافی رقم کٹوتی کی جا سکے گی اور نہ ہی رقم میں تاخیر کا جواز پیدا ہوگا۔ جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے اسیر شہریوں کو بالکل تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی بلکہ ان کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا اپنی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ منصوبہ صرف رقم کی منتقلی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ آنے والے دنوں میں قیدیوں کی دیکھ بھال، ان کے لیے تعلیمی و فنی تربیت، طبی سہولیات کی فراہمی، اور جیل کے اندر ملاقاتوں کے نظام کو بھی مزید جدید اور آسان بنانے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ قیدی اپنی سزا کی مدت پوری کرنے کے بعد ایک کارآمد اور محبِ وطن شہری بن کر معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ نتیجہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور بینک آف پنجاب کا یہ مشترکہ اقدام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک روشن پہلو ہے۔ اسیران کے لیے مالی منتقلی کی حد 25 ہزار روپے تک بڑھانا اور اس عمل کو آن لائن مالیاتی ایپس کے ذریعے یکسر آسان بنا دینا ایک وقت میں اصلاحی، انسانی اور انتظامی ضرورت تھی۔ اس سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو ذہنی و جسمانی کوفت سے نجات ملے گی بلکہ جیلوں کے اندر نظام میں شفافیت، عدل اور بہتری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ Post navigation نواب شاہ: پسند کی شادی کرنے والے غیر معمولی جوڑے کو جانی خطرات، قانونی تحفظ کا مطالبہ ملک بھر میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیز: خیبرپختونخوا میں گرفتاریوں اور واپسی کا عمل سب سے نمایاں