Preloader
Heavy snowfall keeps Babusar Top off-limits

اہم نکات (خلاصہ)

  • شاہراہ کی مسلسل بندش: گلگت بلتستان اور مانسہرہ کو ملانے والا اہم ترین پہاڑی درہ ‘بابوسر پاس’ شدید اور غیر متوقع برف باری کے باعث گزشتہ چار دنوں سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
  • مسافر اور ڈرائیور محصور: بابوسر ٹاپ کے شدید سرد اور منجمد ماحول میں 3 آئل ٹینکرز سمیت متعدد گاڑیاں اور ان کے ڈرائیور و عملہ پھنس کر رہ گئے ہیں، جنہیں خوراک اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
  • منفی درجہ حرارت کا چیلنج: وادی میں درجہ حرارت منفی ڈگری تک گرنے کی وجہ سے پھنسے ہوئے افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہوں نے حکومتی اعلیٰ حکام سے فوری ریسکیو آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔
  • شاہراہ قراقرم کا متبادل راستہ: انتظامیہ نے مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو بابوسر کے بجائے شاہراہ قراقرم (بشام روٹ) استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

پس منظر: بابوسر پاس اور موسم کی اچانک تبدیلی

بابوسر پاس (Babusar Pass) سمندر کی سطح سے تقریباً 13 ہزار 690 فٹ کی بلندی پر واقع پاکستان کے خوبصورت اور اہم ترین پہاڑی دروں میں سے ایک ہے۔ یہ شاہراہ مانسہرہ، ناران اور کاغان کے خوبصورت علاقوں کو وادی گلگت سے جوڑنے کا سب سے مختصر ترین زمینی راستہ فراہم کرتی ہے۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سیاح اور تجارتی گاڑیاں اس راستے کا استعمال کرتی ہیں کیونکہ یہ سفر شاہراہ قراقرم کے مقابلے میں وقت اور ایندھن دونوں کی بچت کا باعث بنتا ہے۔

تاہم، اپنی انتہائی بلند جغرافیائی موقعیت کے باعث بابوسر ٹاپ موسمِ سرما کے آغاز میں ہی شدید برف باری، یخ بستہ ہواؤں اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ ہر سال نومبر سے مئی تک اس راستے کو باضابطہ طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیتی ہے۔ لیکن رواں سال موسم کی وقت سے پہلے اور غیر متوقع تبدیلی کے باعث بابوسر ٹاپ پر اچانک بھاری برف باری شروع ہو گئی، جس نے شاہراہ پر سفر کرنے والی گاڑیوں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور راستہ اچانک بلاک ہو گیا۔

موجودہ صورتحال: برفانی طوفان میں محصور گاڑیاں اور ڈرائیورز کی زبوں حالی

نجی ٹی وی چینل ’24 نیوز ایچ ڈی’ کی رپورٹ کے مطابق شاہراہ بابوسر پر برف کا موٹا ہالہ جم جانے کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے روڈ کی صفائی کا کام معطل اور آمدورفت مکمل طور پر ٹھپ ہے۔

اس ہنگامی اور ناگہانی صورتحال کے باعث کئی گاڑیاں اور مال بردار ڈمپرز برف میں جم کر رہ گئے ہیں، جن میں 3 بڑے آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ ان آئل ٹینکرز کے ڈرائیورز اور ان کے ساتھ موجود عملہ اس وقت 13 ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر شدید منفی درجہ حرارت، منجمد ہواؤں اور برف باری کا سامنا کر رہے ہیں۔

متاثرہ ڈرائیورز نے میڈیا کے توسط سے اپنے ویڈیو پیغامات اور اپیلوں میں بتایا کہ:

  • خوراک اور پینے کے پانی کی قلت: شدید برف باری کے باعث کھانے پینے کا سامان اور پینے کا صاف پانی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ برف پگھلا کر پانی پینے پر مجبور ہیں۔
  • ایندھن کا خاتمہ: گاڑیوں کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن (ڈیزل/پیٹرول) ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے رات کے وقت درجہ حرارت منفی 8 سے 10 ڈگری تک گرنے پر شدید جانی خطرہ لاحق ہے۔
  • طبی امداد کی عدم دستیابی: بلندی کے باعث آکسیجن کی کمی اور شدید ٹھنڈ کی وجہ سے کچھ افراد میں نمونیا اور ہائپوتھرمیا (Hypothermia) کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں جبکہ قریبی علاقے میں کوئی طبی سہولت موجود نہیں۔

حکومتی اپیل اور ریسکیو کی اب تک کی کوششیں

برف میں محصور آئل ٹینکرز کے ڈرائیورز اور دیگر شہریوں نے وفاقی حکومت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، خیبر پختونخوا انتظامیہ اور گلگت بلتستان حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ہیوی مشینری بھیج کر راستہ نہ کھولا گیا یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن نہ شروع کیا گیا تو کسی بھی وقت کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

مقامی ذرائع اور انتظامیہ کے مطابق، ضلعی انتظامیہ دیامر اور این ایچ اے کی ٹیمیں صورتحال سے آگاہ ہیں، تاہم بابوسر ٹاپ پر جاری برف باری اور برفانی تو دوں (Avalanches) کے گرنے کے خدشے کی وجہ سے ہیوی روڈ کلیئرنس مشینری (سنو بلڈوزر) کو اوپر بھیجنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

اعداد و شمار: حادثے کے حقائق اور موجودہ ڈیٹا

شمارتفصیلات / پہلوموجودہ صورتحال اور اعداد و شمار
1راستہ بندش کی مدتگزشتہ 4 دن سے تسلسل کے ساتھ بند
2موقعیت کا مقامبابوسر ٹاپ (بلندی: 13,690 فٹ)
3محصور آئل ٹینکرزکم از کم 3 آئل ٹینکرز اور دیگر مال بردار گاڑیاں
4درجہ حرارتمنفی -5°C سے منفی -10°C کے درمیان
5متبادل راستہشاہراہِ قراقرم (بذریعہ بشام و داسو)

معاشی اور سفری اثرات: گلگت بلتستان کے لیے ایندھن اور سپلائی کا بحران

بابوسر پاس کا بند ہونا صرف کچھ گاڑیوں کے پھنسنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اور انتظامی اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  1. ایندھن کی فراہمی میں تاخیر: گلگت بلتستان میں پیٹرول، ڈیزل اور ضروری اشیائے خورونوش لے جانے والے آئل ٹینکرز اور ٹرکس اگر راستے میں بند ہو جائیں تو وادی میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
  2. سیاحت اور عام مسافروں پر اثر: گرمیوں کے اختتامی سیزن میں سیر و تفریح کے لیے آئے ہوئے سیاحوں کے لیے یہ بندش شدید پریشانی کا باعث بنتی ہے کیونکہ متعدد مسافر جلدی پہنچنے کے چکر میں شاہراہ قراقرم کا طویل راستہ اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
  3. کرایوں میں اضافہ: راستہ بند ہونے سے مال بردار گاڑیوں کو بشام کا لمبا روٹ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے ایندھن کا خرچہ بڑھتا ہے اور نتیجتاً گلگت بلتستان میں اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔

مسافروں کے لیے سفری ہدایت نامہ اور ٹریفک ایڈوائزری

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس نے تمام شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور سیاحوں کے لیے ہنگامی سفری ہدایت نامہ جاری کیا ہے:

  • بابوسر روٹ پر سفر سے مکمل گریز: تمام مسافر مانسہرہ سے ناران اور بابوسر کی طرف جانے والے راستے پر سفر کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔
  • شاہراہ قراقرم کا استعمال: گلگت، ہنزلہ، سکردو اور دیگر بالائی علاقوں میں جانے اور آنے کے لیے صرف شاہراہِ قراقرم (بشام، داسو، چلاس روٹ) کا انتخاب کریں۔
  • سفری معلومات کی تصدیق: سفر شروع کرنے سے پہلے موٹروے پولیس ہیلپ لائن (130) یا مقامی ضلعی کنٹرول روم سے روڈ کلیئرنس کی تصدیق لازمی کریں۔
  • ضروری سامان ساتھ رکھیں: بالائی علاقوں کا سفر کرنے والی گاڑیاں اضافی ایندھن، گرم کپڑے، خشک خوراک اور ٹائروں کی چین (Snow Chains) اپنے ساتھ رکھیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ: بروقت اقدامات اور مستقل پالیسی کی ضرورت

بابوسر پاس پر ہر سال برف باری کے موسم میں اس قسم کے واقعات پیش آنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے باعث اب برف باری کے اوقات کار غیر یقینی ہو چکے ہیں۔

اس تحریر اور واقعہ کی معروضیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ انتظامیہ محض روڈ بلاک ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے، پہلی ہی برف باری سے قبل ناران، جھال کھڈ اور بابوسر بیس کیمپ پر فوری چک پوسٹیں قائم کرے تاکہ آئل ٹینکرز اور غیر مجهز گاڑیوں کو خطرناک علاقوں میں جانے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پھنسے ہوئے آئل ٹینکر ڈرائیورز کو فوری طور پر ریسکیو کرنا اور انہیں طبی امداد و خوراک پہنچانا خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومتوں کی اولین انسانی و قانونی ذمہ داری ہے۔

کیا آپ اس آرٹیکل میں مزید کسی علاقائی سیکیورٹی پیش رفت، موسم کی تازہ ترین پیشن گوئی یا مقامی انتظامیہ کے سرکاری موقف کا اضافہ کروانا چاہتے ہیں؟

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔