اہم نکات (خلاصہ) قانونی چارہ جوئی: معروف بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن نے اپنے نام، تصویر، آواز اور شخصیت کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل روپ دھارنے کا معاملہ: درخواست میں ارٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز، تصویروں اور ڈیجیٹل روپ دھارنے (Digital Impersonation) کے خلاف تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالتی پیش رفت: جسٹس پروشیندر کمار کورو کی سنگل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اداکارہ کے کونسل کو پرسنلٹی رائٹس سے متعلق متعلقہ عدالتی فیصلوں اور ریسرچ پیپرز کا موازنہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شوبز انڈسٹری پر اثرات: یہ اقدام بالی ووڈ شخصیات کے حقوق کی تحفظ اور فنکاروں کے ڈیٹا کے تجارتی استحصال کو روکنے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بالی ووڈ اور پرسنلٹی رائٹس کی نئی قانونی جنگ بالی ووڈ کی صف اول کی اداکارہ کریتی سینن نے اپنے پرسنلٹی اور پبلی سٹی رائٹس (Personality and Publicity Rights) کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے استعمال اور ڈیپ فیک (Deepfake) تکنیک کی وجہ سے مشہور شخصیات کی تصاویر، آواز اور نام کا بغیر اجازت کمرشل اور غلط استعمال عالمی سطح پر ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ کریتی سینن کی جانب سے عدالتِ عالیہ میں دائر کی گئی درخواست کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی فرد، ادارہ یا آن لائن پلیٹ فارم ان کی اجازت یا رضامندی کے بغیر ان کی شخصیت، شکل، آواز یا شناختی خصوصیات کا تجارتی یا گمراہ کن مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ دہلی ہائی کورٹ میں سماعت اور فاضل عدالت کی ہدایات کریتی سینن کی جانب سے پیش کی گئی اس پٹیشن پر سماعت دہلی ہائی کورٹ کے سنگل جج بنچ جسٹس پروشیندر کمار کورو کے سامنے ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس موضوع کی قانونی اور تکنیکی باریکیوں پر غور کیا۔ سماعت کے موقع پر فاضل جج نے اداکارہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس کی آئندہ سماعت سے قبل پرسنلٹی رائٹس، کاپی رائٹ ایکٹ، اور مصنوعیت ذہانت کے حوالے سے ہندوستانی و بین الاقوامی سطح پر دیے گئے اہم عدالتی فیصلوں، ریسرچ پیپرز اور متعلقہ مواد کی ایک تفصیلی کمپائلیشن (مجموعہ) عدالت کے سامنے پیش کریں۔ عدالتی کارروائی اور اہم نکات کا خلاصہ: • سائل: بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن۔ • عدالت: دہلی ہائی کورٹ (سنگل بنچ)۔ • فاضل جج: جسٹس پروشیندر کمار کورو۔ • بنیادی مطالبہ: اے آئی جنریٹڈ مواد اور غیر مجاز تجارتی استعمال سے پرسنلٹی رائٹس کا تحفظ۔ • عدالتی ہدایت: متعلقہ عدالتی نظائر اور تکنیکی ریسرچ پیپرز کا تفصیلی نچوڑ پیش کیا جائے۔ پس منظر: اے آئی اور پرسنلٹی رائٹس کے خطرات حالیہ کچھ عرصے کے دوران بالی ووڈ سمیت دنیا بھر کی معروف شخصیات کو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اے آئی کے ذریعے کسی بھی مشہور شخصیت کا چہرہ، جِلد کا رنگ، بولنے کا انداز اور جسمانی تاثرات بنا کسی مشقت کے تیار کر کے سوشل میڈیا یا کمرشل اشتہارات میں استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ ڈیپ فیک اور گمراہ کن ویڈیوز: اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اداکاراؤں کی غیر اخلاقی یا گمراہ کن ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، جس سے ان کی شخصیت اور عزتِ نفس کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ غیر مجاز تجارتی استعمال: مختلف برانڈز اور آن لائن پلیٹ فارمز اداکاروں کا نام اور تصویر استعمال کر کے پروڈکٹس فروخت کرتے ہیں، جس سے ان کے تجارتی حقوق (Publicity Rights) مجروح ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل روپ دھارنا (Digital Impersonation): دھوکے باز عناصر آن لائن دنیا میں معروف شخصیات کے نام پر اکاؤنٹس اور بوٹس بنا کر مداحوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی بالی ووڈ کے سینئر اداکار امیتابھ بچن اور انیل کپور جیسے اداکاروں نے اپنے پرسنلٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالتوں نے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکمِ امتناعی (Injunction Order) جاری کیے تھے۔ بھارتی قانونی ڈھانچہ اور حقوقِ ملکیتِ دانش (Intellectual Property) ہندوستان کے موجودہ قوانین میں “پرسنلٹی رائٹس” کے لیے کوئی الگ اور یکجا باضابطہ قانون موجود نہیں ہے، بلکہ اسے کاپی رائٹ ایکٹ 1957، ٹریڈ مارک ایکٹ، اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل “پرائیویسی کے بنیادی حق” (Right to Privacy) کے ملاپ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شخصیت کا حق (Right to Personality): اس کے تحت ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شناخت اور عکس پر کنٹرول رکھے۔ پبلی سٹی کا حق (Right to Publicity): یہ حق کسی بھی مشہور شخصیت کو اپنی شہرت، شکل و صورت اور نام کو مالی فوائد کے لیے استعمال کرنے کا انحصاری حق فراہم کرتا ہے۔ کریتی سینن کا دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بدلتے ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی عدلیہ کو اب پرسنلٹی رائٹس سے متعلق جامع اور سخت قانونی نظائر قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سینیما انڈسٹری، ٹیکنالوجی اور آئندہ کے اثرات سینیما کی دنیا اور قانونی ماہرین کریتی سینن کی اس درخواست کو ایک انتہائی مثبت اور بروقت اقدام قرار دے رہے ہیں۔ اگر دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اداکارہ کے حق میں کوئی واضح اور جامع عبوری حکم جاری ہوتا ہے، تو اس کے بالی ووڈ پر درج ذیل گہرے اثرات مرتب ہوں گے: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پابندی: آن لائن مواد تیار کرنے والوں، ای آئی ٹولز فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز اور پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے لازم ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی مشہور فنکار کا نام یا ڈیمو استعمال کرنے سے پہلے ان کا تحریری این او سی (NOC) حاصل کریں۔ سائبر کرائم کے خلاف گھیرا تنگ: جعلی ویڈیوز اور برانڈز کی جانب سے اداکاروں کی وائس کلوننگ (Voice Cloning) پر قانونی شکنجہ کسنا آسان ہو جائے گا۔ نئے فنکاروں کے لیے مشعلِ راہ: نہ صرف قائم شدہ اداکار بلکہ ابھرتے ہوئے نئے سلیبریٹیز کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط عدالتی ڈھانچہ میسر آئے گا۔ ایڈیٹوریل نوٹ کے مطابق، جہاں مصنوعی ذہانت تخلیقی صلاحیتوں کے نئے دروازے کھول رہی ہے، وہیں یہ بنیادی انسانی حقوق اور انفرادی شناخت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ کریتی سینن کا کیس آئندہ دنوں میں مصنوعی ذہانت اور پرسنلٹی رائٹس کے درمیان قانونی حد بندی طے کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ Post navigation سیف علی خان اور کرینہ کپور کی 14ویں شادی کی سالگرہ: صبا پتوڈی کا محبت بھرا پیغام اور یادگار تصاویر کا اشتراک