Site icon URDU ABC NEWS

ایران کے منجمد اثاثے: 100 ارب ڈالر کی رقم کہاں چھپی ہے اور ان کا مالک کون ہے؟

Iran frozen assets

دوحہ / تہران (نیوز ڈیسک): ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے مرکز میں ایک اہم سوال ‘ایران کے منجمد اثاثے’ ہیں۔ الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کے تقریباً 100 ارب ڈالر عالمی بینکوں میں منجمد ہیں، جن کی واگزاری تہران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

اثاثے کہاں کہاں موجود ہیں؟

رپورٹ کے مطابق، یہ رقم کسی ایک جگہ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں میں تقسیم ہے:


یہ اثاثے منجمد کیوں ہوئے؟

ان اثاثوں کی بندش کی بنیادی وجہ امریکی اقتصادی پابندیاں ہیں:

  1. ایٹمی پروگرام: 2018 میں جب امریکہ ‘ایٹمی معاہدے’ (JCPOA) سے الگ ہوا، تو اس نے ایران کے مالیاتی نظام پر دوبارہ پابندیاں لگا دیں، جس سے بین الاقوامی بینکوں کے لیے ایران کو ادائیگیاں کرنا ناممکن ہو گیا۔
  2. بینکنگ نظام (SWIFT): ایران کو عالمی بینکنگ نیٹ ورک سے باہر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی تیل کی آمدنی بیرونِ ملک ہی پھنس کر رہ گئی۔

ان اثاثوں کی اہمیت اور ایران کا مطالبہ

ایران کا موقف ہے کہ یہ اثاثے اس کی قوم کی امانت ہیں اور ان پر عائد پابندیاں “معاشی دہشت گردی” ہیں۔


موجودہ صورتحال: اثاثوں کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں

الجزیرہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ ان اثاثوں کو ایک “سیاسی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ اثاثوں کی واپسی کو ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام میں کمی سے مشروط کیا جائے، جبکہ ایران بغیر کسی شرط کے اپنے پیسوں کی واپسی چاہتا ہے۔

خلاصہ: ایک پیچیدہ مالیاتی جنگ

ایران کے منجمد اثاثے محض رقم نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک ایسا مہرہ ہیں جس پر پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کا دارومدار ہے۔ جب تک ان اثاثوں کی واپسی کا کوئی شفاف طریقہ کار طے نہیں پاتا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مکمل اعتماد کی بحالی مشکل نظر آتی ہے۔


Exit mobile version