google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Iran refuse to participate in talks

تہران / اسلام آباد (نیوز ڈیسک): خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والی بین الاقوامی کوششوں کو اس وقت شدید دھکا پہنچا جب ایران نے واضح طور پر مذاکرات کے اگلے دور میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی “غیر قانونی بحری ناکہ بندی” ختم نہیں کرتا، تب تک کسی بھی قسم کی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

ایران کا دو ٹوک موقف

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میزائلوں اور بحری بیڑوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

  • بنیادی شرط: ایران نے اپنی شرکت کو آبنائے ہرمز اور گرد و نواح میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی اور تجارتی جہازوں کی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
  • معاشی دباؤ کا ردِعمل: تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف ایران کی اقتصادی شہ رگ کا گلا گھونٹ رہا ہے، جو کہ صریحاً منافقت ہے۔

مذاکرات کی میز پر پڑنے والے اثرات

اس اعلان کے بعد اسلام آباد اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں منجمد ہو گئی ہیں:

  1. تعطل کی لہر: ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے اس سخت موقف سے وہ تمام پیش رفت ضائع ہونے کا خدشہ ہے جو گزشتہ چند دنوں میں پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے حاصل ہوئی تھی۔
  2. امریکہ کا ردِعمل: واشنگٹن کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی بحریہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے۔
  3. تیل کی قیمتوں میں اضافہ: ایران کے اس انکار کے بعد عالمی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

ثالث ممالک کی پریشانی

پاکستان، قطر اور عمان، جو اس تنازع کو حل کرنے کے لیے دن رات کوشاں تھے، اب ایک نئے بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام تہران سے رابطے میں ہیں تاکہ انہیں دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور اسے اپنی نیت ثابت کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔


خلاصہ: جنگ کے سائے گہرے ہونے لگے

ایران کے اس فیصلے نے سفارت کاری کے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں۔ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی میں نرمی نہ کی، تو خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ کسی بھی وقت حقیقت بن سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔


About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025