واشنگٹن / تہران: مشرقِ وسطیٰ کے لیے نومنتخب امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران تکنیکی طور پر اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ محض ایک ہفتے کے اندر ایٹم بم تیار کرنے یا اس کا تجربہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!بیان کی تفصیلات
امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے مطابق، ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی اور جوہری ٹیکنالوجی میں اس حد تک پیشرفت کر لی ہے کہ اب اس کا “بریک آؤٹ ٹائم” (Breakout Time) کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“ایران تکنیکی طور پر صرف ایک ہفتے کے فاصلے پر ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے یا اس کا کامیاب تجربہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔”
عالمی منظر نامہ اور تشویش
اسٹیو وٹکوف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات امریکی خارجہ پالیسی میں ایران کے خلاف آنے والے دنوں میں سخت گیر موقف کی نشاندہی کرتے ہیں۔
- تکنیکی صلاحیت: ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کی سطح کے بہت قریب ہے۔
- امریکی موقف: اسٹیو وٹکوف، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ان کے خصوصی ایلچی ہیں، کا یہ انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے “فیصلہ کن اقدامات” پر غور کر سکتا ہے۔
ایران کا ردِعمل
اگرچہ ایران ماضی میں مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد اور بجلی کی پیداوار کے لیے ہے، تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ وٹکوف کے اس تازہ ترین دعوے پر تہران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔
ممکنہ اثرات
اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس صورتحال کو اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہی
