اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اور ہوش رُبا اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان نئی قیمتوں کا اعلان کیا، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات: ایک نظر میںحکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں درج ذیل اضافہ کیا گیا ہے:مصنوعاتموجودہ اضافہ (فی لیٹر)نئی قیمت (فی لیٹر)پیٹرول137 روپے 23 پیسے458 روپے 40 پیسےڈیزل184 روپے 49 پیسے520 روپے 35 پیسےآئی ایم ایف کی شرائط اور سبسڈی کا خاتمہوزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس کے دوران اس بھاری اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔آئی ایم ایف کا دباؤ: وزیرِ خزانہ کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پیٹرولیم مصنوعات پر کسی بھی قسم کی سبسڈی دینے سے سختی سے روک دیا ہے۔معاشی استحکام کا تقاضا: انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے برابر لانا ضروری تھا۔عوامی ردِعمل اور معاشی اثراتپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ریکارڈ اضافے نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ:ٹرانسپورٹ کے کرائے: ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے اضافے سے مال بردار گاڑیوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری طور پر 30 سے 50 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔اشیاءِ خورونوش: ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو سکتی ہیں۔زراعت پر اثر: ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے تجاوز کرنے کے باعث ٹیوب ویل اور ٹریکٹر چلانا کسانوں کے لیے ناممکن ہو جائے گا، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کا موقفپریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ خزانہ سے عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ طویل مدتی معاشی بہتری کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو “عوام دشمن” قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔خلاصہ: پیٹرول کا 458 روپے اور ڈیزل کا 520 روپے تک پہنچ جانا پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جس نے عام شہری کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، مگر عوام اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپاکستان اور چین کی سرحدوں پر نئے کمانڈرز نے ذمہ داریاں سنبھال لیں قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں بھاری اضافہ