Preloader
Jaglot sakardu road reopen

اہم نکات (خلاصہ)

  • شاہراہ کی بحالی: شینگوس کے علاقے میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والی اہم جگلوٹ–سکردو روڈ کو تمام قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
  • سرکاری اعلامیہ: گلگت بلتستان پولیس کی جانب سے شاہراہ کی بحالی کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
  • مسافروں کے لیے رہنمائی: پولیس انتظامیہ نے مسافروں اور سیاحوں کو سفر سے قبل ہیلپ لائن ‘پکار 15’ سے تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
  • علاقاتی اہمیت: یہ شاہراہ گلگت کو بلتستان ڈویژن سے ملانے والی واحد بنیادی زمینی گزرگاہ ہے، جس کی بندش سے عام زندگی اور سیاحت شدید متاثر ہوتی ہے۔

خبر کی تفصیلات: گلگت بلتستان کی اہم شریان پر آمدورفت بحال

گلگت (خصوصی رپورٹ): گلگت بلتستان کو بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع (سکردو، شگر، گانچھے اور کھرمنگ) سے ملانے والی انتہائی اہم اور ستراتیجی اہمیت کی حامل ‘جگلوٹ–سکردو شاہراہ’ (جے ایس آر) کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں شینگوس کے مقام پر پہاڑ کا ایک بڑا حصہ سرکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث یہ اہم شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سڑک کے دونوں جانب مسافروں، سیاحوں اور مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔ سڑک کی بندش کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ انتظامیہ اور شاہراہوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار اداروں نے بھاری مشینری کے ساتھ امدادی کارروائیاں شروع کیں اور کئی گھنٹوں کی مسلسل محنت کے بعد ملبہ ہٹا کر راستے کو صاف کر دیا گیا ہے۔

ترجمان گلگت بلتستان پولیس کا باقاعدہ بیان

گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز میں شاہراہ کی بحالی کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ شینگوس کے متاثرہ علاقے سے لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے اور اب تمام چھوٹی و بڑی گاڑیاں محفوظ طریقے سے گزر سکتی ہیں۔

پولیس انتظامیہ نے مسافروں، مقامی شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کی سہولت اور تحفظ کے پیش نظر ایک خاص ہدایتی نامہ بھی جاری کیا ہے۔ ترجمان نے تمام مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس شاہراہ پر سفر کا آغاز کرنے سے قبل گلگت بلتستان پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن “پکار 15” پر رابطہ کرکے سڑک کی تازہ ترین اور درست صورتحال سے لازمی آگاہی حاصل کریں۔ اس قدم کا مقصد کسی بھی ناگہانی حادثے یا دوبارہ سڑک بند ہونے کی صورت میں شہریوں کو پریشانی سے بچانا ہے۔

جگلوٹ–سکردو شاہراہ کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت

جگلوٹ–سکردو روڈ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ بلتستان کے خطے کے لیے ایک انتہائی حساس اور حیاتیاتی شریان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس شاہراہ کی کل لمبائی تقریباً 167 کلومیٹر ہے اور یہ شاہراہِ قراقرم پر واقع جگلوٹ کے مقام سے شروع ہو کر سکردو شہر تک جاتی ہے۔

یہ روڈ بلتستان ڈویژن کے لاکھوں شہریوں کو ملک کے دیگر حصوں اور صوبائی دارالحکومت گلگت سے جوڑنے کا واحد زمینی ذریعہ ہے۔ اس شاہراہ کی بندش یا بحالی کے اثرات خطے پر درج ذیل صورتوں میں مرتب ہوتے ہیں:

  1. روزمرہ زندگی پر اثرات:
    • بلتستان ڈویژن میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی سامانِ زیست اسی سڑک کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔
    • سڑک بند ہونے سے ان اضلاع میں اشیائے ضرورت کی شدید قلت اور مہنگائی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
  2. سیاحت اور معیشت:
    • گلگت بلتستان میں ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح دنیا کے بلند ترین پہاڑوں، جھیلوں اور وادیوں کی سیر کے لیے آتے ہیں۔
    • جگلوٹ–سکردو شاہراہ سیاحوں کے لیے مرکزی راستہ ہے، لہٰذا اس کی بحالی سے مقامی ہوٹل انڈسٹری، تررانسپورٹ اور کاروباری طبقے کو بڑی راحت ملتی ہے۔
  3. طبی اور اضطراری حالات:
    • شدید بیمار مریضوں کو علاج کے لیے سکردو سے گلگت یا اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے یہی راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سڑک کھلنے سے متعدد مریضوں کی بروقت منتقلی ممکن ہو جاتی ہے۔

شینگوس کا مقام اور لینڈ سلائیڈنگ کے مسلسل خطرات

جگلوٹ–سکردو شاہراہ پر واقع ‘شینگوس’ اور اس کے ارد گرد کے علاقے لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے انتہائی حساس شمار ہوتے ہیں۔ پہاڑوں کی چٹانی ساخت، نرم مٹی اور موسم کی تبدیلیوں کے باعث یہاں اکثر چھوٹے بڑے تودے گرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

جغرافیائی ماہرین کے مطابق اس خطے میں لینڈ سلائیڈنگ کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • موسمیاتی تبدیلیاں: بارشوں، برف باری اور موسمِ بہار میں برف پگھلنے کے عمل سے پہاڑوں کی دراڑیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
  • پہاڑوں کی کٹائی: شاہراہ کی کشادگی اور تعمیراتی کاموں کے باعث بعض مقامات پر قدرتی پہاڑی ساخت متاثر ہوئی ہے۔
  • درختوں کی کمی: ان پہاڑی سلسلہ ہائے کوہ پر نباتات اور درختوں کی کمی کی وجہ سے مٹی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے اس سڑک کو چوڑا اور جدید معیار کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے جس سے سفر کا دورانیہ کافی کم ہوا ہے، تاہم قدرتی آفات اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر اس روڈ پر مستقل بنیادوں پر نگرانی کی اشد ضرورت رہتی ہے۔

مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے ہنگامی اقدامات

شاہراہ کی فوری بحالی کو ممکن بنانے کے لیے قومی شاہراہ اتھارٹی، پاک فوج کے انجینئرنگ کور اور مقامی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں ہمہ وقت متحرک رہتی ہیں۔ شینگوس جیسے حساس پوائنٹس پر بھاری مشینری اور بلڈوزر ہر وقت تیار حالت میں موجود رکھے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

پولیس حکام نے تمام ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں گاڑی چلاتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، تیز رفتاری سے گریز کریں اور خاص طور پر ان جگہوں پر گاڑی کھڑی نہ کریں جہاں اوپر سے پتھر گرنے کے خدشات زیادہ ہوں۔

مسافروں کے لیے سفری تجاویز اور احتیاطی تدابیر

گلگت بلتستان میں سفر کرنے والے تمام مقامی شہریوں اور بالخصوص سیاحوں کے لیے انتظامیہ کی جانب سے درج ذیل اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں:

  • حکومتی ہیلپ لائن کا استعمال: سفر کا آغاز کرنے سے قبل ‘پکار 15’ یا مقامی کنٹرول روم سے روڈ کلیئرنس کا کنفرمیشن لازمی حاصل کریں۔
  • موسمی صورتحال کا جائزہ: سفر پر نکلنے سے پہلے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی لازمی دیکھیں۔
  • ضروری سامان کا ساتھ رکھنا: پہاڑی راستوں پر غیر متوقع تاخیر کے پیشِ نظر اپنے ساتھ اضافی خوراک، پینے کا پانی، فرسٹ ایڈ بکس اور گرم کپڑے لازمی رکھیں۔
  • رات کے سفر سے گریز: شدید لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں میں رات کے وقت سفر کرنے سے حد الامکان گریز کریں کیونکہ اندھیرے میں اوپر سے گرنے والے پتھروں کا اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے۔

جگلوٹ–سکردو شاہراہ کی بحالی کے بعد اب گاڑیوں کی آمدورفت کی روانی بحال ہو چکی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے راستے کی مسلسل نگرانی جاری ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔