Preloader
Khasmir joint awami action committee proposed 3 agenda points

اہم نکات

  • مشروط پیشکش: جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے 3 اہم مطالبات کی منظوری پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • بنیادی مطالبات: جبری طور پر گمشدہ افراد کی رہائی، حالیہ احتجاج میں عوامی و مالی نقصان کا ازالہ، اور 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو دھرنا ختم کرنے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • احتجاج جاری رکھنے کا عزم: ایکشن کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں شہداء، اسیران، تاجروں، وکلاء، طلباء اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور احتجاج جاری رہے گا۔
  • حکومتی چیلنج: حکومت اور عوامی تحاریک کے درمیان جاری اس تناؤ نے خطے کی سیاسی و انتظامی صورتحال کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں حقوق کی تحریک اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی و انتظامی کشیدگی ایک اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے احتجاج ختم کرنے اور دھرنا اٹھانے کے حالیہ بیان کے جواب میں “جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” نے اپنے مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کے لیے تین بنیادی شرائط و مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اگر حکومت ان مطالبات پر فوری اور عملی درآمد یقینی بناتی ہے تو آزاد کشمیر بھر میں جاری دھرنے ختم کر دیے جائیں گے۔ تاہم، مطالبات کی منظوری نہ ملنے کی صورت میں تحریک کو مزید شدت کے ساتھ جاری رکھنے اور عوامی قربانیوں کی حفاظت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 3 بنیادی مطالبات

عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کو دھرنا ختم کرنے کے بدلے درج ذیل تین اہم نکات پر مشتمل چارٹر پیش کیا ہے:

  • جبری طور پر گمشدہ افراد کی فوراً رہائی: حالیہ اور سابقہ احتجاجی تحاریک کے دوران حراست میں لیے گئے یا لاپتہ کیے گئے تمام سیاسی کارکنان اور شہریوں کو بلا تاخیر آزاد کیا جائے۔
  • عوامی اور مالی نقصان کا کامل ازالہ: احتجاج، لاٹھی چارج یا انتظامی اقدامات کے نتیجے میں شہریوں کو پہنچنے والے جانی، مالی اور تاجرانہ نقصانات کا فوری اور شفاف ازالہ کیا جائے۔
  • 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد: حکومت آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی کے درمیان 4 اکتوبر 2025ء کو طے پانے والے سابقہ معاہدے کی تمام شقوں پر من و عن اور فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

پس منظر: آزاد کشمیر میں عوامی تحاریک اور معاہدے کی تاریخ

آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں، آئٹا اور بنیادی اشیائے ضروریہ پر سبسیڈی کے علاوہ آئینی حقوق اور مالیاتی اصلاحات کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک طویل عرصے سے تحاریک چلا رہی ہے۔ 4 اکتوبر 2025ء کو حکومت اور ایکشن کمیٹی کے مذاکراتی دور میں ایک اہم پیش رفت ہوئی تھی، جس کے تحت حکومت نے بجلی و گندم کی سبسیڈی اور دیگر انتظامی مطالبات پر عمل درآمد کی باقاعدہ توثیق کی تھی۔

تاہم، ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے مطابق معاہدے کے بعد بھی حکومتی سطح پر چند بنیادی شقوں پر تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے عوام میں بے اعتمادی اور اضطراب کو جنم دیا۔ اس کے بعد حالیہ احتجاجی لہر نے جنم لیا، جس میں متعدد گرفتاریوں اور جھڑپوں کی اطلاعات کے باعث دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ مظفرآباد سمیت مختلف اضلاع میں پھیل گیا۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی کا اتحاد اور تحریک کی وسعت

جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری حالیہ بیان میں اس بات کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے کہ یہ تحریک صرف کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ تمام طبقات کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں درج ذیل شعبوں کی قربانیوں کا اعتراف اور اعادہ کیا ہے:

  • شہداء اور اسیران: تحریک کے دوران جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہریوں اور جیلوں میں بند اسیران۔
  • تاجران و ٹرانسپورٹرز: پہیہ جام اور ہڑتالوں کی وجہ سے معاشی نقصان برداشت کرنے والے تاجر اور ٹرانسپورٹ مالکان۔
  • اوورسیز کشمیری: بیرونِ ملک مقیم کشمیری جو مالی و اخلاقی سطح پر تحریک کے حامی ہیں۔
  • وکلاء، طلباء اور سیاسی کارکنان: قانونی، تعلیمی اور میدانِ عمل میں متحرک رہ کر تحریک کا بیانیہ پیش کرنے والے طبقے۔

ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان تمام طبقوں نے جن قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے، ان کے ہوتے ہوئے حکومت کے ساتھ کسی قسم کی غیر مصالحت شدہ یا ادھوری ڈیل نہیں کی جا سکتی۔

معاشی و انتظامی اثرات اور حکومتی چیلنجز

آزاد کشمیر میں جاری اس احتجاجی فضا کے باعث مقامی معیشت اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، راولا کوٹ اور دیگر اضلاع میں پہیہ جام اور دھرنوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

حکومت آزاد کشمیر کے لیے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف انتظامی امور اور امن و امان بحال رکھنے کا چیلنج ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی سطح پر بننے والے اس وسیع اتحاد کا سیاسی دباؤ ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس اب طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے کو بحال کرنے اور اس پر عمل درآمد کا ٹائم فریم فراہم کرنے کے سوا کوئی پائیدار راستہ نہیں بچا۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی تحاریک اب محض وعدوں کے بجائے عملی نتائج چاہتی ہیں۔ دھرنا ختم کرنے کی مشروط پیشکش نے گیند ایک بار پھر حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

اگر حکومت آزاد کشمیر فراخدلی اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 اکتوبر کے معاہدے کے اطلاق، گرفتار افراد کی رہائی اور ازالے کے مطالبات پر پیش رفت کرتی ہے، تو یہ خطے میں پائیدار امن، باہمی اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔ اس کے برعکس، تاخیری حربے یا مطالبات کو نظر انداز کرنے کا عمل آزاد کشمیر کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا سکتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025