اہم نکات (خلاصہ):حملے کی ناکامی: سعودی عرب کے دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔حوثی باغیوں کے دعوے: یمن کے حوثی باغیوں نے ریاض کے حساس مقامات اور ینبع میں واقع آرامکو کی تنصیبات پر ڈرونز اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ہوائی اڈے کے قریب آگ: شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ایندھن کے ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی، جسے فوری طور پر قابو میں لانے کے لیے امدادی ٹیمیں متحرک ہوئیں۔علاقائی اثرات: سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی خطے کی توانائی کی سلامتی اور سفارتی کوششوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اس کے گردونواح میں ایک بار پھر سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے شہر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ عرب اتحاد کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق سعودی ایئر ڈیفنس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہر کی طرف آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا۔ تاہم، اس واقعے کے ساتھ ہی ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک ایندھن کی تنصیب میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کے بعد ریسکیو اور سیکیورٹی ادارے الرٹ کر دیے گئے۔حملے کی تفصیلات اور فضائی دفاعی نظام کی بروقت کارروائیسعودی عرب کی زیر قیادت قائم عرب اتحاد کے ترجمان برگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یمن میں موجود ایران کے پشت پناہ حوثی باغیوں نے صبح سویرے بیلسٹک میزائل کے ذریعے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سعودی عرب کے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کی پیش قدمی کو فوری طور پر نشان دہی کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ترجمان کے مطابق، اس حملے کا مقصد عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا، لیکن سیکیورٹی اداروں کی مستعدی نے ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ میزائل کے ملبے سے ہونے والے پوٹینشل نقصان اور تفصیلی جائزہ لینے کی کارروائی جاری ہے۔شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایندھن ڈپو میں آتشزدگیاسی تناظر میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک فیول ڈپو (ایندھن کی تنصیب) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ آگ میزائل کا ملبہ گرنے یا کسی قریبی ڈرون حملے کی وجہ سے لگی، تاہم تحصیالات کا حتمی اندازہ لگایا جا رہا ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ کی متعدد ٹیموں اور ایمرجنسی سروسز نے سیکنڈوں میں کارروائی شروع کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا اور اس واقعے سے ہوائی اڈے کی پروازوں کے شیڈول پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ ہوائی اڈے پر مسافروں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔حوثی باغیوں کے دعوے اور کارروائی کا دائرہ کاریمن میں متحرک حوثی گروپ کے ملٹری ترجمان نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے سعودی عرب کے اندر دو بڑی سیکیورٹی اور معاشی کارروائیاں کی ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق:ریاض میں ہدف: دارالحکومت ریاض میں موجود متعدد حساس اور ملٹری مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ینبع میں آرامکو تنصیبات: بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم صنعتی شہر ینبع میں سعودی تیل کمپنی ‘آرامکو’ (Aramco) کی تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملہ کیا گیا۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں عرب اتحاد کی فوجی کارروائیوں اور اقتصادی ناکہ بندی کے جواب میں کیے گئے ہیں اور جب تک کارروائیاں نہیں رکتی، اس طرح کے حملے جاری رہیں گے۔یمن تنازع اور سرحد پار حملوں کا پس منظریہ نیا واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان جاری سالہا سال سے قائم تنازع کا تسلسل ہے۔ 2015 میں سعودی عرب نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لیے فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا، جس کے بعد سے سرحد پار حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔2015: عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت کا آغاز۔2019: بققیق اور خریص میں آرامکو کی تنصیبات پر بڑا ڈرون اور میزائل حملہ، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔2021-2022: سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کے ڈپو اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں۔حوثی باغی گزشتہ چند سالوں سے ڈرون اور بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سعودی سرحد کے اندر کافی دور تک حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں، جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی اکثر و بیشتر ایران کی جانب سے ملنے والی لاجسٹک اور فنی امداد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔عالمی ردعمل اور توانائی کی مارکیٹ پر اثراتسعودی عرب کے ایندھن کے ذخائر اور اہم تنصیبات پر حملوں کی خبر کے ساتھ ہی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اور اس طرح کے واقعات کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ، امریکہ، اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی رہنماؤں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثی باغیوں سے خطے کے امن کو تباہ کرنے والے اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔عرب اتحاد کی حکمت عملی اور آئندہ کا لائسہ عملسعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں، غیر ملکی رہائشیوں اور اہم معاشی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرے گا۔ برگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت دفاع کا حق محفوظ رکھا گیا ہے اور ان حملوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی یمن میں دیرپا امن کے لیے جاری بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، آئندہ دنوں میں عرب اتحاد کی جانب سے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں جوابی کارروائیوں کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے خطے کی بحرانی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationجماعت اسلامی اور پی ٹی آئی لانگ مارچ: وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی پلان تیار، اسلام آباد کنٹینر سٹی بننے کے قریب