پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک بڑے مالیاتی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP) کے حالیہ اجلاس میں مجموعی طور پر 38 ارب روپے سے زائد مالیت کے 60 مختلف منصوبوں کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبوں کو بہتر بنانا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!منصوبوں کی تقسیم اور اہم شعبےاجلاس میں جن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، ان کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا ہوا ہے۔ اہم شعبہ جات درج ذیل ہیں:بنیادی ڈھانچہ اور سڑکیں: صوبے کے مختلف اضلاع میں نئی سڑکوں کی تعمیر اور پرانی شاہراہوں کی مرمت کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے تاکہ نقل و حمل کو آسان بنایا جا سکے۔تعلیم اور صحت: سرکاری اسکولوں کی اپ گریڈیشن، نئے کالجوں کا قیام اور ضلعی سطح کے ہسپتالوں میں جدید طبی آلات کی فراہمی ان منصوبوں کا حصہ ہے۔توانائی اور آبپاشی: پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں اور زراعت کے لیے پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے ہیں۔کھیل اور ثقافت: نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر اور سیاحتی مقامات تک رسائی کے منصوبوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔مالیاتی تفصیلات اور شفافیتحکومتی حکام کے مطابق، ان منصوبوں کے لیے رقم کی فراہمی صوبائی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت کی جائے گی۔شفافیت کا عزم: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام منصوبوں میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔وقت کی پابندی: محکموں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ منصوبوں پر کام کا آغاز فوری طور پر کریں تاکہ ان کے ثمرات عام آدمی تک مقررہ وقت میں پہنچ سکیں۔معاشی اثرات اور روزگارماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ 38 ارب روپے کی یہ بھاری سرمایہ کاری صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرے گی۔روزگار کے مواقع: ان تعمیراتی منصوبوں کے آغاز سے ہزاروں ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو مقامی سطح پر روزگار میسر آئے گا۔مقامی صنعت کو فروغ: تعمیراتی مواد کی مانگ بڑھنے سے مقامی صنعتوں، بالخصوص سیمنٹ اور سریے کے کاروبار کو تقویت ملے گی۔حکومتی موقفصوبائی وزیرِ خزانہ اور ترقیاتی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان 60 منصوبوں کی تکمیل سے خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا اور شہریوں کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔اختتامی کلماتخیبر پختونخوا میں اتنی بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری صوبائی حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔ اب اصل چیلنج ان منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کا صحیح استعمال ہے، تاکہ صوبے کے عوام ان سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationمشترکہ امتحانی نظام متعارف کرانے پر غور لیبیائی آرمی چیف طیارہ حادثے میں ہلاک، اب تک کی تمام معلومات اور عالمی ردِ عمل