Preloader
Kriti Sanon’s Raksha Bandhan ad controversy

خبر کے اہم نکات:

  • معروف بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن کا رکھشا بندھن کی مناسبت سے بنایا گیا نیا تجارتی اشتہار سوشل میڈیا پر شدید تنازع کا شکار ہو گیا۔
  • اشتہار میں اداکارہ کا لباس اور پالتو کتے کو راکھی باندھنے کے منظر پر صارفین کی جانب سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
  • آن لائن شدید ردِعمل، منفی تبصروں اور اشتہار کے بائیکاٹ کے مطالبے کے بعد جیوا (GIVA) جیولری برانڈ نے اشتہاری مہم فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
  • تجارتی اشتہارات میں ثقافتی و مذہبی علامتوں کے استعمال اور عوامی جذبات کے بارے میں بھارت میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔

ممبئی: بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ کریتی سینن کا ہندوؤں کے روايتی تہوار ‘رکھشا بندھن’ کی مناسبت سے بنایا گیا ایک نیا اشتہاری کمپین شدید تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ معروف جیولری برانڈ “جیوا” (GIVA) کی جانب سے جاری کردہ اس اشتہار پر سوشل میڈیا صارفین اور مذہبی طبقے کی طرف سے سخت تنقید کی گئی، جس کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں کمپنی کو اپنی یہ اشتہاری مہم تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے واپس لینی پڑی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں تجارتی برانڈز کی جانب سے روایتی تہواروں کی مناسبت سے تیار کیے جانے والے اشتہارات کو عوام کی جانب سے انتہائی باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس اشتہار کے بعد برانڈ کے بائیکاٹ اور اداکارہ کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا، جس کے پیشِ نظر کمپنی کو فوری ردِعمل دیتے ہوئے پیش رفت کرنا پڑی۔

تنازع کا بنیادی سبب: لباس اور پالتو جانور کو راکھی باندھنے کا منظر

اس اشتہاری مہم میں بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن کو ایک روايتی تہوار کے ماحول میں دکھایا گیا تھا۔ تاہم، سوشل میڈیا پر تنازع کی بنیادی وجہ دو اہم پہلو بنے:

  1. لباس پر اعتراضات: اشتہار میں اداکارہ کے زیبِ تن کیے گئے لباس پر متعدد صارفین نے اعتراض اٹھایا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ روایتی اور مذہبی تہوار کے پس منظر میں دکھایا گیا لباس تہوار کی تاریخی اور ثقافتی روح کے مطابق نہیں تھا۔
  2. پالتو کتے کو راکھی باندھنے کا منظر: اشتہار کا سب سے متنازع حصہ وہ تھا جس میں کریتی سینن کو اپنے پالتو کتے کی کلائی پر ‘راکھی’ (مقدس دھاگا) باندھتے ہوئے دکھایا گیا۔ رکھشا بندھن کا تہوار روایتی طور پر بہن اور بھائی کے رشتے، تحفظ اور باہمی محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس رسم کو کسی پالتو جانور کے ساتھ ملا کر دکھانا اس تہوار کی مذہبی اہمیت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے اس منظر پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ کمرشلائزیشن اور جدید ترسیل کے نام پر روایات کی اصل روح کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی مہم اور جیولری برانڈ کا ردِعمل

اشتہار کے نشر ہوتے ہی ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “BoycottGIVA” اور “KritiSanon” کے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔ ہزاروں صارفین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے برانڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی اور کمپنی سے معافی کا مطالبہ کیا۔

برانڈ اور اداکارہ پر ہونے والے اعتراضات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • مذہبی جذبات کی مجروحیت: صارفین کا کہنا تھا کہ مقدس رسومات کو پالتو جانوروں پر لاگو کرنا روایات کا احترام نہ کرنے کے برابر ہے۔
  • برانڈ کا منفی تاثر: جیوا جیولری کے ممکنہ خریداروں نے برانڈ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تجارتی مفادات کے لیے ثقافتی علامات کا استعمال بند کرے۔
  • اداکارہ کا کردار: کریتی سینن کو بھی برانڈ کا انتخاب کرنے اور اس قسم کے اسکرپٹ پر کام کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

عوامی ردِعمل اور برانڈ کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے جیوا جیولری کی انتظامیہ نے فوری اقدام اٹھاتے ہوئے اس اشتہار کو تمام سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز اور یوٹیوب سے ہٹا دیا۔ اگرچہ کمپنی نے مہم کو واپس لے لیا ہے، تاہم اس واقعے نے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔

پس منظر: بھارتی تجارتی اشتہارات اور ثقافتی حساسیت

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارت میں کسی بڑے برانڈ کو اپنے تجارتی اشتہار پر اس نوعیت کی تنقید اور بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں روایتی یا مذہبی موضوعات پر بنائے گئے اشتہارات کو عوامی برہمی کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا:

  • تنشق (Tanishq): زیورات بنانے والے اس مشہور برانڈ کو ایک بین المذاہب خاندان کی کہانی پر مبنی اشتہار ہٹانا پڑا تھا۔
  • مانیاور (Manyavar): معروف فیشن برانڈ کو شادی کی رسومات پر مبنی اشتہار پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
  • ڈابر (Dabur): برانڈ کو اپنے ایک پروڈکٹ کے اشتہار میں مذہبی تہوار کی عکس بندی پر معافی مانگنی پڑی تھی۔

ان تمام واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارتی مارکیٹ میں برانڈز کے لیے ثقافتی اور مذہبی حساسیت کو مدِنظر رکھنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ تھوڑی سی غفلت یا جدید اندازِ فکر کو روایات پر فوقیت دینے کی کوشش برانڈ کے لیے بڑے تجارتی اور عوامی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

مارکیٹنگ انڈسٹری پر اثرات اور ماہرینِ ابلاغیات کی رائے

کریتی سینن کے اس تنازع نے مارکیٹنگ انڈسٹری اور میڈیا ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرینِ ابلاغیات کا ماننا ہے کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کو نئے دور کے خیالات اور روایتی اقدار کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے سے درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:

  1. اسکرپٹ کی سخت جانچ پڑتال: تمام بڑے برانڈز آئندہ کسی بھی تہوار کی مہم شروع کرنے سے قبل اس کے ہر پہلو اور منظر کی باریک بینی سے جانچ کریں گے تاکہ عوامی جذبات متاثر نہ ہوں۔
  2. سفیروں کی محتاط حکمتِ عملی: بالی ووڈ فنکار اور معروف شخصیات اب کسی بھی برانڈ کی توثیق (Endorsement) کرنے سے پہلے اس کے مواد کی حساسیت پر زیادہ توجہ دیں گے تاکہ ان کے ذاتی امیج پر کوئی حرف نہ آئے۔
  3. ڈیجیٹل میڈیا کا اثر: سوشل میڈیا کے اس دور میں عوامی ردِعمل چند گھنٹوں میں کسی بھی مہم کو ناکام بنا سکتا ہے، جس کی وجہ سے برانڈز کو زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔

حتمی جائزہ

کریتی سینن اور جیوا جیولری کا حالیہ تنازع اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جدید کمرشلائزیشن کے دور میں روایات، اقدار اور عوامی جذبات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ برانڈز اپنے اشتہارات کو منفرد اور دلکش بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب تک وہ اپنے ہدفِ نظر (Target Audience) کے عقائد اور ثقافت کا احترام نہیں کریں گے، انہیں اس قسم کے عوامی ردِعمل اور تجارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔ جیوا برانڈ کی جانب سے اشتہار کی فوری واپسی نے وقتی طور پر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن تجارتی دنیا کے لیے یہ واقعہ ایک اہم سبق بن کر سامنے آیا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025