Preloader
Kylian Mbappe says this could be his year

اہم نکات

  • ریئل میڈرڈ کے فرانسیسی فارورڈ کیلیان ایمباپے نے اکتوبر میں ہونے والی بالون ڈی اور تقریب سے قبل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایوارڈ جیتنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
  • ایمباپے کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ بہترین کھلاڑی مانتے ہیں، تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر شخص کی اپنی رائے ہو سکتی ہے۔
  • 27 سالہ سٹار نے گزشتہ سیزن میں شاندار انفرادی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 44 میچوں میں 42 گول اسکور کیے۔
  • انفرادی سطح پر گولز کا انبار لگانے کے باوجود ایمباپے کا کلب پچھلے سیزن میں کوئی بڑی ٹرافی یا ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہا۔

بالون ڈی اور کی دوڑ اور ایمباپے کا اعتماد

دنیا کے نامور ترین فٹ بال ایوارڈ ‘بالون ڈی اور’ (Ballon d’Or) کی سالانہ تقریب جیسے جیسے قریب آرہی ہے، عالمی فٹ بال کے ستاروں کے درمیان مقابلے کی فضا گرم ہوتی جا رہی ہے۔ اس سنسنی خیز مقابلے کے دوران ریئل میڈرڈ اور فرانس کی قومی ٹیم کے ممتاز فارورڈ کیلیان ایمباپے نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد اپنے کیریئر کا پہلا بالون ڈی اور ایوارڈ حاصل کرنا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 27 سالہ ایمباپے نے انتہائی اعتماد کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا۔ جب ان سے ان کے کھیل اور دنیا کے بہترین کھلاڑی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ”میں ہمیشہ یہی سوچتا ہوں کہ میں ہی بہترین ہوں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کا نقطہ نظر اور رائے مختلف ہو سکتی ہے۔“ ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف نفسیاتی طور پر خود پر گہرا اعتماد رکھتے ہیں بلکہ کھیلوں کی دنیا میں مختلف آرائی کے وجود کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔

انفرادی پیش رفت اور سیزن کی شماریات

اگرچہ گزشتہ سیزن کیلیان ایمباپے کے لیے مجموعی طور پر ٹرافیوں کے لحاظ سے مایوس کن رہا، لیکن انفرادی اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا اسٹرائیکنگ ریٹ اور میدان میں کارکردگی غیر معمولی رہی۔ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ دنیا کے تیز ترین اور خطرناک ترین فارورڈز میں سے ایک ہیں۔

  • میچز اور گولز: ایمباپے نے پچھلے سیزن میں اپنے کلب کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام مقابلے ملا کر 44 میچ کھیلے اور 42 بار گیند کو جال کی راہ دکھائی۔
  • اوسط اسکورنگ: ان کے گول کرنے کی اوسط تقریباً ہر 90 منٹ میں ایک گول کے قریب رہی، جو کہ عالمی سطح کے فٹ بال میں ایک شاندار تناسب ہے۔
  • انفرادی جوہر: انہوں نے مشکل ترین مقابلوں میں ڈربلنگ، رفتار اور شاندار فنشنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی اہم میچوں میں اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔

ٹرافیوں سے محرومی اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی

انفرادی سطح پر شاندار کارکردگی اور 42 گول اسکور کرنے کے باوجود، ایمباپے کا سیزن ایک اہم کمی کی وجہ سے زیر بحث رہا۔ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کا کلب کسی بھی بڑے مقامی یا یورپی ٹائٹل پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔

فٹ بال کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بالون ڈی اور کا فیصلہ صرف انفرادی گولز یا اسسٹس کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں یہ عنصر بھی انتہائی اہم شمار کیا جاتا ہے کہ کھلاڑی نے اپنی ٹیم کو کون کون سی ٹرافیاں جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کھیلوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیم ٹرافیوں کا نہ ہونا ایمباپے کے لیے اس ایوارڈ کی دوڑ میں ایک چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ ان کے دیگر مدِمقابل کھلاڑیوں نے انفرادی کھیل کے ساتھ ساتھ اہم ٹائٹلز بھی اپنے نام کیے ہیں۔

بالون ڈی اور ایوارڈ کا معیار اور دیگر امیدوار

بالون ڈی اور ایوارڈ فرانس فٹ بال میگزین کی جانب سے ہر سال دنیا کے بہترین فٹ بالر کو دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کی جیوری میں دنیا بھر کے نامور صحافی، قومی ٹیموں کے کپتان اور کوچز شامل ہوتے ہیں جو کھلاڑیوں کی سال بھر کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیتے ہیں۔

کوئی بھی ووٹنگ پروسیس درج ذیل تین بنیادی نکات کی بنیاد پر کام کرتا ہے:

معیار (Criteria)تفصیلی شرح / جائزہ
انفرادی کارکردگیمیچز میں اسکور کیے گئے گولز، اسسٹس اور میدان میں مجموعی اثر انگیز صلاحیت۔
ٹیم کی کامیابیسینیئر سطح پر کلب اور قومی ٹیم کی حاصل کردہ ٹرافیاں اور چیمپئن شپز۔
کھیل کی روح اور کلاسفیئر پلے، پیشہ ورانہ سلوک اور اہم ترین میچوں میں قیادت کے اوصاف۔

اس بار اکتوبر کی گالا تقریب میں ایمباپے کا مقابلہ دنیا کے چند دیگر باصلاحیت اور فارم میں موجود کھلاڑیوں سے ہے، جنہوں نے نہ صرف انفرادی سطح پر گولز کیے بلکہ اپنے کلبوں کو بڑی ٹرافیوں تک بھی پہنچایا۔

ماہرین کی رائے اور مستقبل کے امکانات

سپورٹس اینالسٹس اور ایڈیٹوریل بورڈ کا ماننا ہے کہ کیلیان ایمباپے میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو انہیں ایک عہد ساز کھلاڑی بناتی ہیں۔ 27 سال کی عمر میں، وہ اپنے کیریئر کے بہترین دور (Prime) میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ خود کو بہترین مانتے ہیں، ایک چیمپئن ایتھلیٹ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو ہر روز خود کو سب سے آگے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔

اگرچہ ٹرافیوں کا نہ ہونا ان کے پوائنٹس میں کچھ کمی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن 44 میچوں میں 42 گولز کی زبردست انفرادی کارکردگی کو بھی نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب تمام تر نظریں اکتوبر میں ہونے والی پروقار تقریب پر لگی ہیں، جہاں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا دنیا بھر سے ووٹ دینے والے صحافی اور ماہرین ایمباپے کے انفرادی ریکارڈ کو ترجیح دیتے ہیں یا دیگر امیدواروں کی ٹیم ٹرافیوں کو اہمیت فراہم کرتے ہیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025