اہم نکات: مالی بحران اور قرض کا جال: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کی جامع سروے رپورٹ کے مطابق پشاور کے 89 فیصد کم آمدنی والے گھرانے روزمرہ اخراجات کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جبکہ 95.1 فیصد خاندانوں کے لیے قرض کی واپسی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ ضروریاتِ زندگی پر دباؤ: بجلی، گیس، تیل اور خوراک کی قیمتوں میں 35 سے 40 فیصد تک مجموعی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث 79.4 فیصد گھرانے علاج معالجے کے اخراجات سے قاصر ہیں اور 59.1 فیصد خاندانوں کو سکول فیسوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور نقل و حرکت پر اثرات: فروری 2026 سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے نے 84.6 فیصد گھرانوں کے سفری اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں نے بازار، تعلیمی اداروں اور روزگار کے لیے سفر میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ پشاور (خاص رپورٹ): خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو شدید معاشی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ روزمرہ کی ضروری اشیاء، توانائی کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے تحاشا اضافے کے باعث عام شہریوں کا گھریلو بجٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین سروے رپورٹ نے پشاور کے شہریوں کی ابتر معاشی حالت، بڑھتی ہوئی مقروضیت اور زندگی کے بنیادی شعبوں میں آنے والی منفی تبدیلیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ آئی آر ایس سروے رپورٹ: اعداد و شمار کی روشنی میں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے مہنگائی کے حوالے سے تیار کی گئی ایک تفصیلی سروے رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ محض اندازوں پر مبنی نہیں بلکہ پشاور کے 462 متفرق گھرانوں کے ڈیٹا، فوکس گروپ مباحثوں اور مختلف سماجی و معاشی شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے تفصیلی مکالمے کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اقبال خلیل کے مطابق، اگرچہ مہنگائی اس وقت پورے ملک کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، تاہم پشاور کے کم آمدنی والے علاقوں میں اس کے اثرات نہایت خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔ شہر کے مختلف حصوں میں اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں میں 35 سے 40 فیصد تک مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کم آمدنی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے 48.7 فیصد گھرانوں نے تسلیم کیا کہ وہ اس وقت مہنگائی کے شدید ترین اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ پشاور کے گھرانوں پر مہنگائی کا اثر (فیصد میں) ┌─────────────────────────────────────────┬────────┐ │ مقروض گھرانے │ 89.0% │ │ قرض واپسی میں مشکلات │ 95.1% │ │ توانائی اخراجات کی شکایت │ 93.0% │ │ خوراک کے اخراجات میں اضافہ │ 86.4% │ │ علاج معالجے سے قاصر │ 79.4% │ │ سکول فیس کی ادائیگی میں تاخیر │ 59.1% │ └─────────────────────────────────────────┴────────┘ آمدن اور اخراجات کا بگڑتا ہوا توازن سروے رپورٹ کا ایک انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شہریوں کی آمدن اور اخراجات کا توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔ رپورٹ میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے ہیں: آمدن کے مقابلے اخراجات میں اضافہ: 67.3 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ماہانہ آمدن میں اگرچہ کچھ اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ضروری اخراجات کی شرح کہیں زیادہ تیز رفتار رہی ہے۔ بجلی، گیس اور ایندھن کا بوجھ: 93 فیصد گھرانوں نے بجلی، گیس اور ایندھن کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کو اپنے گھریلو بجٹ پر سب سے بڑا بوجھ قرار دیا۔ غذائی بحران: 86.4 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے کھانے پینے کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے اکثر گھرانے سستی اور کم معیاری خوراک پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ صحت اور تعلیم کا شعبہ: معاشی دباؤ کا بنیادی ہدف بڑھتی ہوئی معاشی تنگی کا سب سے تلخ اثر پشاور کے شہریوں کی صحت اور بچوں کی تعلیم پر پڑا ہے۔ معاشی مجبوریوں کے باعث خاندان اپنے بنیادی حقوق اور معیاری زندگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ صحت کے اخراجات: سروے کے مطابق 79.4 فیصد گھرانوں نے اعتراف کیا کہ وہ موجودہ دور میں علاج معالجے اور ادویات کے اخراجات برداشت کرنے کی بالکل استطاعت نہیں رکھتے۔ معمولی یا شدید بیماریوں کی صورت میں بھی لوگ ہسپتالوں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تعلیم پر اثرات: تعلیم کے شعبے میں 59.1 فیصد گھرانوں نے سکول کی فیسیں بروقت ادا نہ کر سکنے کا انکشاف کیا۔ سکولوں کی تبدیلی: شدید مالی بحران کی وجہ سے 19.2 فیصد خاندانوں نے اپنے بچوں کو معیاری اور مہنگے سکولوں سے نکال کر نسبتاً کم فیس والے یا سرکاری اداروں میں منتقل کر دیا ہے۔ ایندھن کے نرخ اور ٹرانسپورٹیشن: معاشی بدحالی کا نیا محرک رپورٹ کے مطابق فروری 2026 سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رونما ہونے والے تقریباً 50 فیصد اضافے نے عام شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اس تیزی سے 84.6 فیصد گھرانوں کی نقل و حمل کے اخراجات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے شہریوں کی سماجی اور معاشی زندگی کو درج ذیل طریقوں سے محدود کر دیا ہے: سفری سرگرمیوں میں کمی: 79.8 فیصد گھرانوں نے مہنگی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے بازار یا مارکیٹوں میں جانے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔ تعلیمی و کاریگری سفر میں کمی: 51.6 فیصد افراد نے تعلیمی سرگرمیوں جبکہ 49.2 فیصد نے روزگار سے متعلق سفر میں کمی کر دی ہے۔ طبی سفر کی بریک: 37.7 فیصد لوگوں نے سفری اخراجات سے بچنے کے لیے طبی علاج یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی سرگرمیوں میں بھی کٹوتی کی ہے۔ ماہرین کی رائے اور ممکنہ حل معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پشاور کی موجودہ صورتحال محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ملک گیر معاشی بحران کا عکس ہے۔ آئی آر ایس کی یہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مہنگائی کا اثر صرف اشیائے خورونوش کی قیمتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے روزگار، صحت، تعلیم اور خاندانی ڈھانچے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام فعال کرنا ہوگا، نیز بجلی اور ایندھن کی قیمتوں پر کنٹرول کے علاوہ تعلیم و صحت کے بنیادی شعبوں میں ہنگامی فلاحی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر پشاور جیسے بڑے شہروں میں قرض کی دلدل میں پھنسے 89 فیصد خاندانوں کی مالی معاونت نہ کی گئی تو اس سے بڑے پیمانے پر سماجی و نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ Post navigation نیو دہلی: الیکشن کمیشن کے باہر سی پی آئی اور سی پی ایم کا شدید احتجاج، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ